اہم نکات (مختصر خلاصہ) حفاظتی ٹیکہ جات کا تعطل: تحصیل بہاولنگر کے گاؤں بیروالا وزیر پورہ میں گزشتہ 5 ماہ سے ای پی آئی (EPI) ویکسینیٹرز کا عملہ غائب ہے، جس سے بچوں کی حفاظتی واکسینیشن کا عمل یکسر ٹھپ ہو چکا ہے۔ جان لیوا بیماریوں کا خطرہ: نو مولود اور کمسن بچے بی سی جی (BCG)، پولیو، خسرہ، کالی کھانسی اور گردن توڑ بخار جیسے مہلک امراض سے بچاؤ کے بنیادی پروٹیکشن سے محروم ہیں۔ والدین کی شدید تشویش: مقامی مکینوں اور والدین نے محکمہ صحت کی نااہلی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار ملازمین کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کی اپیل: اہلیانِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت اور ضلعی انتظامیہ بہاولنگر سے علاقے میں فوری ویکسینیشن ٹیمیں بھیجنے کی اپیل کی ہے۔ بہاولنگر (رپورٹ: محمد منیر کھوکھر، نمائندہ خصوصی) پنجاب کے جنوبی ضلع بہاولنگر کی تحصیل بہاولنگر کے نواحی گاؤں “بیروالا وزیر پورہ” میں محکمہ صحت کے توسیع شدہ پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کے عملے کی مسلسل غیر حاضری اور مجرمانہ غفلت کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ علاقے میں گزشتہ پانچ ماہ سے ویکسینیٹرز کی عدم دستیابی کے باعث معصوم اور نومولود بچوں کو موذی اور جان لیوا بیماریوں سے بچانے کے بنیادی ٹیکے اور قطرے نہیں دیے جا سکے۔ محکمہ صحت کی اس بے حسی اور انتظامی عدم توجہی کے باعث علاقے کے درجنوں خاندان اور والدین شدید تشویش و اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہیں، جبکہ معصوم بچوں میں مختلف وبائی اور معذور کر دینے والے امراض کا پھیلاؤ سر پر منڈلا رہا ہے۔ 5 ماہ سے تعطل: معصوم بچوں کی ویکسینیشن کا بحران سرکاری معمول کے مطابق، ہر علاقے میں ای پی آئی (Expanded Program on Immunization) کے تحت نامزد ویکسینیٹرز کا یہ فرض ہے کہ وہ مقررہ شیڈول کے مطابق دیہات کا دورہ کریں اور نومولود سے لے کر دو سال تک کے بچوں کو مفت حفاظتی ٹیکہ جات لگائیں۔ تاہم، بیروالا وزیر پورہ میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پچھلے 5 ماہ کے دوران نہ تو کوئی سرکاری ویکسینیٹر گاؤں میں آیا اور نہ ہی بنیادی صحت مرکز (BHU) یا محکمہ صحت بہاولنگر کی جانب سے کوئی متبادل ٹیم روانہ کی گئی۔ اس غفلت کے نتیجے میں بچے مندرجہ ذیل بنیادی طبی تحفظات سے محروم ہیں: بی سی جی (BCG): نومولود بچوں کو تپِ دق (TB) سے بچانے والا پہلا بنیادی ٹیکہ۔ پولی قطرے اور ویکسین (OPV/IPV): عمر بھر کی معذوری اور پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری قطرے۔ خسرہ (Measles) و روبیلا: بچوں میں شدید بخار، دانے اور سائیڈ افیکٹس سے بچاؤ کی ڈوز۔ پینٹا ویلنٹ (Pentavalent) ویکسین: کالی کھانسی، تپ دق، ہپاٹائٹس بی اور گردن توڑ بخار سے بچانے والی مجموعی خوراک۔ والدین کی دہائی اور مقامی صورتحال گاؤں بیروالا وزیر پورہ کے مکینوں اور متاثرہ بچوں کے والدین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے سخت تحفظات اور پریشانی کا اظہار کیا۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ متعدد بار مقامی ہیلتھ سینٹر اور متعلقہ فیلڈ اسٹاف سے رابطہ کر چکے ہیں، لیکن ہر بار محض کھوکھلے دلاسے دیے جاتے ہیں یا کوئی سنوائی نہیں ہوتی۔ ایک مقامی متاثرہ شہری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “ہم غریب لوگ ہیں اور روزانہ شہر کے نجی ہسپتالوں میں جا کر ہزاروں روپے کے ٹیکے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ ہمارے بچوں کو مفت ویکسین فراہم کرے۔ 5 ماہ سے کوئی ویکسینیٹر ہمارے گاؤں کا رخ نہیں کر رہا۔ اگر خدانخواستہ ہمارے بچوں میں سے کسی کو خسرہ یا پولیو ہو گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟” پس منظر: حفاظتی ٹیکہ جات کی اہمیت اور قومی مہمات پاکستان میں بچوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ وہ بیماریاں ہیں جن سے ویکسینیشن کے ذریعے باآسانی بچاؤ ممکن ہے۔ حکومتِ پنجاب جہاں صوبے بھر میں پولیو، خسرہ اور ڈینگی کے خلاف اربوں روپے کے بجٹ سے آگاہی مہمات اور خصوصی ڈرائیوز چلاتی ہے، وہیں بیروالا وزیر پورہ جیسے دیہی علاقوں میں بنیادی ای پی آئی سسٹم کی یہ ناکامی حکومتی دعووں اور فیلڈ انتظامیہ کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر بچے کو پیدائش کے ابتدائی مہینوں میں مطلوبہ کورس کے مطابق ڈوز نہ ملیں، تو اس کی قوتِ مدافعت (Immune System) انتہائی کمزور ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ کسی بھی معمولی وائرس کا حملہ بچے کی معذوری یا موت کا سبب بن سکتا ہے۔ عوامی مطالبات اور اعلیٰ حکام سے اپیل اہلیانِ علاقہ بیروالا وزیر پورہ نے مشترکہ طور پر حکومت پنجاب اور ہیلتھ اتھارٹی بہاولنگر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے ہنگامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی شہریوں کے اہم مطالبات درج ذیل ہیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس: وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر صحت اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ فوری ویکسینیشن کیمپ: سی ای او ہیلتھ بہاولنگر اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر گاؤں بیروالا وزیر پورہ کے لیے خصوصی موبائل ویکسینیٹر ٹیم روانہ کریں تاکہ 5 ماہ کے زیرِ التوا (Backlog) بچوں کو فوری طور پر ڈوز دی جا سکیں۔ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کی برطرفی: گزشتہ 5 ماہ سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ای پی آئی ویکسینیٹرز اور ان کی مانیٹرنگ کرنے والے سپروائزرز کے خلاف سخت قانون و محکمانہ کارروائی کی جائے۔ شفاف مانیٹرنگ کا قیام: دیہی علاقوں میں ویکسینیٹرز کی بائیو میٹرک یا جی پی ایس کے ذریعے حاضری اور معائنے کا مضبوط مکینزم تشکیل دیا جائے تاکہ دوبارہ ایسا بحران پیدا نہ ہو۔ اگر ضلعی انتظامیہ بہاولنگر نے اس سنگین معاملے پر فوراً حرکت نہ کی تو معصوم بچوں کی صحت اور زندگیوں پر اس کے انتہائی خوفناک اور ناقابلِ تلافی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نیوز ڈیسک: ہیلتھ اینڈ سوشل افیئرز رپورٹنگ Post navigation ضلع استور میں جعلی کرنسی کا دھندا عروج پر: 5 ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کی مارکیٹ میں بھر مار، مقامی معیشت شدید خطرات سے دوچار شاہ نکڈر بنیادی مرکزِ صحت کی کایا پلٹ گئی: ڈاکٹر عابد مشتاق اور عملے کی لگن سے روزانہ کی بنیاد پر سیکنڑوں مریضوں کو مفت علاج اور 24 گھنٹے سہولیات مائل