اہم نکات (مختصر خلاصہ) مثالی کارکردگی: ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے قصبے شاہ نکڈر میں واقع بنیادی مرکزِ صحت (BHU) میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران طبی سہولیات کے معیار میں غیر معمولی بہتری آئی ہے۔ مریضوں کے اعتماد میں اضافہ: انچارج ڈاکٹر عابد مشتاق کی سربراہی میں 9 رکنی ٹیم کی محنت کے باعث روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کی تعداد چند افراد سے بڑھ کر 100 سے 200 تک پہنچ چکی ہے۔ 24 گھنٹے ہنگامی و زچگی سہولیات: ہسپتال میں زچگی (ڈیلیوری) کے لیے لیڈی ہیلتھ وزٹرز اور نرسنگ اسٹاف 24 گھنٹے موجود رہتا ہے، جبکہ فوری منتقلی کے لیے ایمبولینس سروس بھی ہمہ وقت تیار ہے۔ عوامی اطمینان: مقامی اور دور دراز کے علاقوں سے آنے والے مریضوں نے ادویات کی وافر دستیابی اور عملے کے شفیق رویے پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سلانوالی / شاہ نکڈر (رپورٹ: ملک واجد علی، ڈسٹرکٹ رپورٹر) جہاں اکثر دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) عدم توجہی، عملے کی غیر حاضری اور ادویات کی قلت کا شکار دکھائی دیتے ہیں، وہیں ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے قصبے “شاہ نکڈر” سے ایک انتہائی خوش آئند اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ شاہ نکڈر کے بنیادی مرکزِ صحت نے طبی سہولیات کی فراہمی، صفائی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں ایک ایسی مثالی مثال قائم کی ہے جو دیگر سرکاری ہسپتالوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ گزشتہ سات اٹھ مہینوں کے دوران ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر عابد مشتاق اور ان کی ٹیم نے جس محنت، فرض شناسی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے ہیں، اس نے نہ صرف شاہ نکڈر بلکہ گرد و نواح کی دسیوں بستیوں کے ہزاروں مکینوں کی زندگیوں میں طبی حوالے سے نمایاں اور مثبت تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ مریضوں کا بڑھتا ہوا اعتماد اور اعداو شمار میڈیا نمائندے سے تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے بنیادی مرکزِ صحت شاہ نکڈر کے انچارج ڈاکٹر عابد مشتاق نے بتایا کہ جب انہوں نے اس مرکز کا چارج سنبھالا تھا تو اس وقت ہسپتال ویران نظریہ آتا تھا اور مریضوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ عوام کا سرکاری علاج پر سے اعتماد اٹھ چکا تھا۔ تاہم، سخت انتظامی اصلاحات، عملے کی حاضری کی یقینی دہانی اور خوش اخلاقی کے ساتھ علاج معالجے کے بعد صورتحال بالکل بدل چکی ہے۔ ہسپتال کی حالیہ کارکردگی کے اہم اعداد و شمار: یومیہ او پی ڈی (OPD): ہسپتال میں روزانہ 100 سے 200 مریضوں کا معائنہ اور مفت علاج کیا جا رہا ہے۔ طبی ٹیم کی نفری: ہسپتال میں ڈاکٹر سمیت 9 افراد پر مشتمل ماہر اور تربیت یافتہ عملہ تندہی سے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ ادویات کی دستیابی: ہسپتال میں مقامی اور دور دراز سے آنے والے سائلین کے لیے حکومتِ پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ تمام ضروری اور بنیادی ادویات وافر مقدار میں اسٹاک میں موجود رہتی ہیں۔ 24 گھنٹے ایمبولینس سروس: کسی بھی ناگہانی آفت، شدید حادثے یا ایمرجنسی کی صورت میں مریض کو بڑے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس سروس 24/7 متحرک رہتی ہے۔ خواتین کے لیے 24 گھنٹے زچگی (ڈیلیوری) کی سہولت دیہی علاقوں میں خواتین کی صحت اور بالخصوص زچگی کے ایام میں مناسب طبی سہولیات کا نہ ہونا ایک سنگین مسئلہ رہا ہے، جس کی وجہ سے اکثر غریب خاندان نجی کلینکس کے بھاری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ شاہ نکڈر بی ایچ یو (BHU) نے اس دیرینہ مسئلے کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر عابد مشتاق نے بتایا کہ ہسپتال میں حاملہ خواتین کی دیکھ بھال اور ڈیلیوری کیسز کے لیے 24 گھنٹے قابل نرسنگ اسٹاف اور لیڈی ہیلتھ وزٹرز (LHV) موجود رہتی ہیں۔ جدید اور جراثیم سے پاک لیبر روم کی بدولت اب علاقے کی خواتین کو زچگی کی سہولیات کے لیے شہر کے طویل اور مہنگے سفر سے نجات مل چکی ہے۔ عوامی ردِعمل اور مریضوں کے تاثرات ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں (OPD) اور ویٹنگ ایریا میں موجود سائلین اور ان کے لواحقین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہسپتال کے ماحول اور عملے کی تعریف کی۔ علاج کی غرض سے آئے ہوئے ایک مقامی شہری نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: “پہلے ہمیں زکام یا معمولی بخار کی دوا کے لیے بھی پرائیویٹ میڈیکل سٹور پر جانا پڑتا تھا، لیکن اب یہاں ڈاکٹر صاحب اور ان کا عملہ نہ صرف ہماری بات کو بغور سنتا ہے بلکہ ہسپتال کی فارمیسی سے مکمل ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ عملے کا رویہ انتہائی ہمدردانہ ہے۔” ایک اور بزرگ سائل نے بتایا کہ ہسپتال میں صفائی کا نظام بہترین ہے اور اب کسی کو سفارش یا رشوت کے بغیر یکساں طبی سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ پس منظر: دیہی صحت کے نظام کی بحالی میں انسانی عنصر کا کردار پاکستان کے اکثر دیہی علاقوں میں بنیادی مراکزی صحت (BHUs) کا انفراسٹرکچر تو موجود ہوتا ہے، لیکن انتظامی سستی اور فرض شناسی کی کمی کے باعث یہ ادارے غیر فعال ہو جاتے ہیں۔ شاہ نکڈر مرکزِ صحت کی یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر کسی ادارے کی سربراہی ایک نیک نیت، متحرک اور انسان دوست افسر کے ہاتھ میں ہو تو محدود وسائل کے باوجود انقلابی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عابد مشتاق نے میڈیا سے گفتگو کا اختتام انہی جزباتی اور فکر انگیز کلمات پر کیا کہ: “خدمت میں عظمت ہے۔ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں، ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا ان پر اور ہسپتال کے عملے پر اعتماد کرنا ان کے لیے سب سے بڑی کامیابی، عزت اور فخر کا باعث ہے، اور وہ آئندہ بھی اسی جذبے سے عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔ ایڈیٹوریل تجزیہ اور سفارشات شاہ نکڈر کے بنیادی مرکزِ صحت میں ہونے والی یہ مثبت تبدیلی ایک روشن مثال ہے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ سرگودھا اور حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے فرض شناس ڈاکٹروں اور طبی عملے کی نہ صرف حوصلہ افزائی اور قدر افزائی کریں بلکہ دیگر غیر فعال بی ایچ یوز (BHUs) میں بھی اسی طرزِ عمل کو لاگو کریں۔ اگر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے اس ہسپتال کو مزید جدید طبی آلات اور فنڈز فراہم کیے جائیں تو یہ مرکزِ صحت مستقبل میں ایک کامل ‘دیہی ہیلتھ سینٹر’ کی صورت اختیار کر کے مزید ہزاروں شہریوں کی خدمت کر سکتا ہے۔ نیوز ڈیسک: ہیلتھ اینڈ کمیونٹی افیئرز Post navigation بہاولنگر کے نواحی گاؤں بیروالا وزیر پورہ میں محکمہ صحت کی مجرمانہ غفلت: 5 ماہ سے حفاظتی ٹیکہ جات بند، معصوم بچوں کی زندگیاں خطرے میں کینسر کے خلاف سائنسی پیش رفت اور مشترکہ جدوجہد: لمس جامشورو میں تین روزہ ‘قومی کینسر کانفرنس 2026’ کا باقاعدہ آغاز، طبی ماہرین کا کینسر کے علاج اور طبی اصلاحات پر زور