اہم نکات:منصورہ لاہور میں ملاقات: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات، تعزیت کے ساتھ صوبائی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال۔امن و امان کی ترجیح: گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ صوبہ اس وقت سیاسی جلسوں اور احتجاج کے بجائے امن و امان کی بحالی اور عوام کے بنیادی مسائل کے حل کا طالب ہے۔پی ٹی آئی کو تعاون کی پیشکش: پی ٹی آئی اگر امن و امان اور صوبائی مسائل پر سنجیدہ بات چیت کرے گی تو حکومت اور وفاق ان کا مکمل ساتھ دیں گے۔صحت اور عدالتی نظام پر سوالات: بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے خیبرپختونخوا کے بجائے اسلام آباد کے نجی اسپتال کے انتخاب اور عدالتی فیصلوں میں دہرے معیار پر گورنر کے اہم تحفظات۔خیبرپختونخوا جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتالاہور میں اہم سیاسی ملاقات اور تعزیتی نشستلاہور (خصوصی رپورٹ): خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، درپیش معاشی و انتظامی چیلنجز اور ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے کے تناظر میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے لاہور کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کی۔گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ ان کے مشیر برائے مذہبی امور و ایونٹ اسامہ اجمل قاسمی بھی موجود تھے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل امیر العظیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرنا تھا۔ گورنر نے مرحو م کے درجات کی بلندی اور ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی اور لواحقین سمیت پوری جماعت اسلامی سے تعزیت کی۔ تعزیت کے فوری بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان میڈیا ٹاک سے قبل ایک اہم سیاسی و انتظامی مشاورت بھی ہوئی۔خیبرپختونخوا کے چیلنجز: امن و امان سب سے بڑا مسئلہتعزیتی ملاقات کے بعد منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی احاطہ کیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت جن شدید معاشی، سیکیورٹی اور انتظامی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان حالات میں صوبہ مسلسل جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی سیاست کا بالکل متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبائی حکومت اور تمام سیاسی دھاروں کی سب سے پہلی اور بنیادی ترجیح امن و امان کی بحالی ہونی چاہیے۔صوبے کو درپیش اہم مسائل کا خاکہ:امن و امان کی صورتحال: دہشت گردی اور ناامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانا۔توانائی کا بحران: صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ترسیل کے مسائل۔وفاق کے ساتھ معاملات: خیبرپختونخوا کے جائز حقوق اور خدشات کو وفاقی سطح پر منطقی اور مدلل انداز میں پیش کرنا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے وضاحت کی کہ وفاق کے سامنے صوبے کے مقدمے کو دلیل کی بنیاد پر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ خیبرپختونخوا کی عوام کو ان کا حق مل سکے۔پاکستان تحریک انصاف کے لیے سیاسی پیشکشپریس کانفرنس کے دوران گورنر خیبرپختونخوا نے صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک مثبت اور تعمیری سیاسی پیشکش بھی کی۔انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت یا قیادت خیبرپختونخوا میں امن و امان اور عوام کو درپیش حقیقی مسائل پر بات چیت کرنے کے لیے قدم آگے بڑھائے گی، تو ہم سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کا مکمل ساتھ دیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں بھی جب امن و امان اور صوبائی مفاد کے معاملے پر بات ہوئی ہے تو اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہے، اور آئندہ بھی خیبرپختونخوا کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔پمز حادثہ اور ہری پور واقعہ: قانون کی بالادستی کا مطالبہگورنر نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود بچوں کی شہادت کے المناک واقعے پر شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پمز ایک بڑا اور قومی سطح کا اسپتال ہے جہاں صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سے بھی غریب عوام علاج کے لیے آتے ہیں۔ اس طرح کے ادارے میں حفاظتی تدابیر کی عدم موجودگی اور غفلت نا قابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پمز سانحے کے ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے ہری پور میں کمسن بچی کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی اور تشدد کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا ایسے دردناک واقعات کو سامنے لاتا ہے، لیکن جب تک مجرموں کو کیفرِ کردار تک نہ پہنچایا جائے اور عبرت ناک سزائیں نہ دی جائیں، تب تک معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔بانی پی ٹی آئی کا علاج اور قانونی دوہرے معیار پر سوالاتبانی تحریک انصاف (عمران خان) کی جیل میں صحت اور علاج معالجے کے حوالے سے جاری بحث پر بات کرتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور ترجیحات پر اہم سوالات اٹھائے۔گورنر کے اٹھائے گئے اہم نکات:صوبائی علاج گاہوں پر عدم اعتماد: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی لگاتار تیسری بار حکومت قائم ہے، لیکن اس کے باوجود پارٹی قیادت نے اپنے بانی کے علاج کے لیے خیبرپختونخوا کے کسی ایک بھی سرکاری یا لیڈی ریڈنگ جیسے تاریخی اسپتال کا نام تجویز نہیں کیا، بلکہ اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال کا انتخاب کیا۔عام قیدیوں کے مساوی حقوق: اگر کسی اعلیٰ سیاسی قیدی کو نجی اسپتال میں علاج کی خصوصی سہولت دی جاتی ہے تو یہ اصول دیگر تمام عام قیدیوں کے لیے بھی لاگو ہونا چاہیے۔عدالتی فیصلوں میں پسند و ناپسند: سپریم کورٹ یا عدالتوں کی جانب سے جب پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملاقات کی اجازت ملتی ہے تو فیصلے کو سراہا جاتا ہے، لیکن جب وہی عدالتیں سزا کا حکم سناتی ہیں تو عدلیہ پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں، جو کہ دہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔سیاسی رواداری اور جماعت اسلامی کا موقفاس موقع پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی منصورہ آمد اور تعزیت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جمہوریت اور سیاسی رواداری کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور اختلافی نظریات رکھنے والے رہنما ایک دوسرے کے غم و خوشی میں شریک ہوں اور ملکی و صوبائی مسائل پر باہم تبادلہ خیال کرتے رہیں۔انہوں نے بھی خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکمرانوں کو عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔تجزیہ و پس منظرخیبرپختونخوا اس وقت سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان شدید سیاسی کشیدگی موجود ہے۔گورنر فیصل کریم کنڈی کا یہ بیان کہ صوبہ احتجاج اور جلسوں کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس سیاسی کھنچاؤ اور عوامی تحفظات کو ظاہر کرتا ہے جو صوبے میں مسلسل سیاسی ریلیوں کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق جماعت اسلامی اور پی پی پی کے گورنر کے درمیان یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں صوبے میں امن و امان کے مسئلے پر حکومت کو گھیرنے کے ساتھ ساتھ باہمی گفت و شنید کے راستے کھلے رکھنا چاہتی ہیں۔خبر کی اشاعت تک پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت یا حکومتی ترجمان کی جانب سے گورنر کی اس پریس کانفرنس کے جواب میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو صوبائی سیاست کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationخیبر پختونخوا میں تعلیمی بحران: صوبے بھر کے 627 سرکاری اسکول غیر فعال، قبائلی اضلاع اور شمالی وزیرستان سب سے زیادہ متاثر بھارتی شہر کانپور میں تربیتی طیارہ تباہ، سینئر پائلٹ اور زیرِ تربیت فلائنگ کیڈٹ جاں بحق