اہم نکات: عالمی معاشی اہمیت: برکس بلاک دنیا کی مجموعی آبادی کے 45 فیصد سے زائد اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 28 فیصد سے زیادہ کا احاطہ کرتا ہے۔ پاکستان کا موقف: پاکستان نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس مؤثر اتحاد کا حصہ بننے کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کروا رکھی ہے تاکہ اپنی سفارتی و معاشی رسائی کو وسعت دی جا سکے۔ معاشی فوائد: برکس کی رکنیات سے پاکستان کو نئے تجارتی فورمز، مقامی کرنسیوں میں تجارت کے موقع، اور نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) سے ترقیاتی سرمائے تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ سفارتی تحرک: بھارت کی جانب سے ممکنہ تحفظات اور عالمی جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باوجود پاکستان کے لیے چین اور روس کی حمایت ایک اہم پلس پوائنٹ ہے۔ 21 ویں صدی کا عالمی معاشی اور سیاسی نظام ایک بڑے زاوئیے سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ وہ بلاکس جو دہائیوں سے مغربی ممالک کی اجارہ داری میں تھے، اب ان کے مقابلے میں ‘گلوبل ساؤتھ’ یعنی ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد سامنے آ رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور مؤثر مثال “برکس” (BRICS) ہے، جو بنیادی طور پر برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل بلاک تھا۔ حال ہی میں اس تنظیم کی توسیع کے بعد سعودی عرب، ایران، مصر، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا جیسے ممالک بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں، جس کے بعد یہ تنظیم دنیا کے اہم ترین معاشی فورمز میں شمار ہونے لگی ہے۔ ایسے ماحول میں جہاں پاکستان شدید معاشی چیلنجز، زرمبادلہ کی کمی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نبرد آزما ہے، یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ “پاکستان کو برکس کا حصہ کیوں بننا چاہیے؟” ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کاروں کے نزدیک برکس کی رکنیت پاکستان کے لیے مستقبل کا ایک اہم معاشی اور سفارتی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ برکس کی بڑھتی ہوئی طاقت: اعداد و شمار کی روشنی میں برکس بلاک کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے معاشی اور آبادیاتی حجم پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تنظیم میں نئی توسیع کے بعد یہ بلاک اب محض چند ممالک کا فورم نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ عالمگیر آبادی: دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 45 فیصد سے زائد حصہ برکس کے رکن ممالک میں مقیم ہے۔ عالمی جی ڈی پی (GDP): مساوی قوتِ خرید (PPP) کے لحاظ سے برکس ممالک عالمی جی ڈی پی کا 36 فیصد سے زیادہ حصہ بناتے ہیں، جو جی-7 (G7) ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ توانائی کے وسائل: دنیا کے کل خام تیل (Crude Oil) کا 40 فیصد سے زائد پیداواری حصہ اور استعمال اب برکس بلاک کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ عالمی تجارت: عالمی تجارت اور درآمدات و برآمدات میں برکس ممالک کا حصہ 25 فیصد سے زائد ہو چکا ہے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بلاک کی اقتصادی طاقت کس قدر وسیع ہے اور پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے لیے اس فورم سے الگ رہنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے برکس کی شمولیت کے بنیادی معاشی فوائد پاکستان تاریخی طور پر مغربی مالیاتی اداروں جیسے کہ عالمی بینک (World Bank) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا ہے۔ تاہم برکس کی رکنیت پاکستان کو معاشی تنوع فراہم کر سکتی ہے۔ 1. نیو ڈیولپمنٹ بینک (NDB) سے مالیاتی سہولیات برکس کے تحت قائم کردہ ‘نیو ڈیولپمنٹ بینک’ (NDB) ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے (Infra-structure) اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے آسان شرائط پر قرضے فراہم کرتا ہے۔ اگر پاکستان برکس یا اس کے بینک کا حصہ بنتا ہے تو اسے روایتی مغربی اداروں کی سخت شرائط اور سیاسی دباؤ کے بغیر بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے لیے متبادل سرمایہ مل سکتا ہے۔ 2. مقامی کرنسیوں میں تجارت اور “ڈی ڈولرائزیشن” عالمی سطح پر امریکی ڈالر کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے برکس رکن ممالک مقامی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے، جو مسلسل زرمبادلہ اور ڈالر کی کمی کے بحران سے گزرتا ہے، برکس کے ذریعے چینی یوآن، روسی روبل یا دیگر مقامی کرنسیوں میں خام مال اور توانائی خریدنے کے موقع سے اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔ 3. ‘سی پیک’ (CPEC) اور علاقائی رابطوں میں بہتری پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا مرکز ہے۔ چین برکس کا بانی اور سب سے بڑا معاشی رکن ہے۔ پاکستان اگر اس بلاک کا حصہ بنتا ہے تو سی پیک کے ذریعے وسطی ایشیا، روس اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو باہم جوڑنے کا خواب جلد حقیقت روپ دھار سکتا ہے، جس سے پاکستان ایک علاقائی تجارتی حب بن کر ابھرے گا۔ سفارتی توازن اور ‘گلوبل ساؤتھ’ کی نمائندگی پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر ترقی پذیر ممالک اور ‘گلوبل ساؤتھ’ کی آواز اٹھائی ہے۔ برکس میں شامل ہو کر پاکستان کو اپنے بین الاقوامی تعلقات میں توازن لانے کا ایک نایاب موقع ملے گا۔ اس سے قبل پاکستان پر یہ تاثر غالب رہا ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی مغربی بلاک کے گرد گھومتی ہے، لیکن برکس جیسی کثیر الجہتی (Multilateral) تنظیم میں شمولیت سے پاکستان عالمی سیاست میں ایک غیر جانبدار اور خود مختار معاشی کھلاڑی کے طور پر اپنی شناخت قائم کر سکتا ہے۔ روس، چین، ایران اور عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں مزید گہرائی آئے گی، جو ملک کی سفارتی ترجیحات کے عین مطابق ہے۔ درپیش چیلنجز: بھارتی تحفظات اور جیو پولیٹیکل کشمکش اگرچہ برکس میں پاکستان کی شمولیت کے فوائد انتہائی واضح ہیں، لیکن یہ سفر چیلنجز سے خالی نہیں۔ پاکستان کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ جیو پولیٹیکل رقابتیں اور بلاک کے اندرونی اصول ہیں۔ بھارت کا متوقع موقف: برکس کی نئی رکنیت کے لیے تمام موجودہ ارکان کا اتفاقِ رائے (Consensus) ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات کی روشنی میں بھارت پاکستان کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کر سکتا ہے یا اس عمل میں تاخیری حربے استعمال کر سکتا ہے۔ مغرب کے ساتھ تعلقات کا توازن: برکس کو بعض مغربی ممالک کی جانب سے امریکہ اور جی-7 کے مقابلے کے ایک بلاک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ برکس کا حصہ بنتے وقت امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو متاثر نہ ہونے دے۔ داخلی معاشی اصلاحات: صرف کسی بلاک میں شامل ہونا ہی معجزہ ثابت نہیں ہو سکتا۔ جب تک پاکستان اپنے ملک کے اندر پائیدار معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس نیٹ کو وسیع نہیں کرتا، تب تک کسی بھی عالمی بلاک سے مکمل فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہوگا۔ نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل پاکستان کا برکس میں شمولیت کا فیصلہ صرف ایک سیاسی یا سفارتی خواہش نہیں بلکہ وقت کی شدید معاشی ضرورت ہے۔ بدلے ہوئے عالمی حالات میں اپنی معیشت کو پائیدار بنانے، سرمائے کے نئے ذرائع تلاش کرنے اور علاقائی تجارت کو بڑھانے کے لیے برکس ایک بہترین منبر فراہم کرتا ہے۔ پاکستانی سفارتکاری کو چاہیے کہ وہ چین، روس، برازیل، ایران اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ مل کر اپنا کیس مضبوطی سے پیش کرے تاکہ بھارت کی ممکنہ مخالفت کے باوجود اتفاقِ رائے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ برکس میں پاکستان کی شمولیت سے نہ صرف ملک کے معاشی افق پر روشنی کی نئی کرن نمودار ہوگی، بلکہ یہ خطے میں امن، استوار روابط اور معاشی پیش رفت کا بھی ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔ Post navigation زیرِ جامہ یا فیشن کا نیا بیان؟ زیرِ جامہ کو بطورِ لباس پہننے کا بڑھتا ہوا عالمی رجحان