اہم نکات (خلاصہ) اعلیٰ سطحی اجلاس: پشاور میں خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو خود کفیل بنانے اور ان کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ مشترکہ صدارت: اجلاس کی قیادت چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نے کی۔ ادارہ جاتی تعاون: وفاقی اور صوبائی محکمے مل کر نوجوانوں کو جدید ہنر، کاروبار کے آسان قرضے اور اعلیٰ تربیت فراہم کریں گے۔ بنیادی مقصد: صوبے کے باصلاحیت جوانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور ان کی صلاحیتوں سے ملک و قوم کی ترقی کے لیے کام لینا۔ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن خیبر پختونخوا کے نوجوان ہمیشہ سے محنت، ہمت اور ترقیاقی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران امن و امان کی صورتحال اور معاشی مشکلات کے باعث اس خطے کے نوجوانوں کو روزگار اور ترقی کے وہ مواقع میسر نہیں آ سکے جو ان کا حق تھا۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی اور وفاقی سطح پر ایک نیا عزم سامنے آیا ہے۔ پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں وفاق اور صوبے نے باہمی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے ایک مربوط اور جامع ایکشن پلان منظوری کی طرف بڑھا دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے کے نوجوانوں کو نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں جدید علوم و فنون سے آراستہ کر کے خود کفالت کی راہ پر گامزن کرنا بھی ہے۔ اجلاس کے اہم فیصلے اور اعلیٰ قیادت کا موقف اس اہم اجلاس کی مشترکہ صدارت چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان نے کی۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران درج ذیل اہم امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور فیصلے کیے گئے: جدید ہنر اور پیشہ ورانہ تربیت: روایت پسندانہ تعلیم سے ہٹ کر نوجوانوں کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق جدید اور فنی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ عالمی اور ملکی منڈی کی ضرورت پورا کر سکیں۔ کاروبار اور روزی روٹی کے مواقع: ان نوجوانوں کے لیے جو اپنا کاروبار شروع کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، آسان شرائط پر مالی امداد اور رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ وفاق اور صوبے کا رابطہ: تمام منصوبوں کو شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے وفاقی اداروں اور صوبائی محکموں کے درمیان باقاعدہ رابطہ قائم رکھا جائے گا۔ وسائل کا بہترین استعمال: صوبے میں موجود تمام تر سرکاری اور غیر سرکاری وسائل کو یکجا کر کے نوجوانوں کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کا پس منظر اور موجودہ درپیش چیلنجز خیبر پختونخوا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف جہاں یہ نوجوان بے پناہ صلاحیتوں اور جذبے سے مالا مال ہیں، وہی دوسری طرف مناسب رہنمائی اور روزگار کے مواقع کی کمی ان کا سب سے بڑا چیلنج رہی ہے۔ ماضی میں فنی تعلیم کے اداروں اور صنعتی ضروریات کے درمیان واضح فرق موجود تھا، جس کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان بھی بے روزگاری کا شکار ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ، دور دراز اضلاع اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جوانوں تک بنیادی آسانیاں پہنچنا ایک دشوار گزار کام تھا۔ موجودہ مشترکہ پروگرام کے تحت ان تمام کمیوں کو دور کرنے اور دور افتادہ علاقوں کے نوجوانوں کو بھی مرکزی دھارے میں لانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ جدید ہنر مندی اور معاشی خود کفالتی کے ممکنہ مثبت اثرات جب کسی بھی معاشرے میں نوجوانوں کو صحیح سمت اور وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات پورے سماج پر مرتب ہوتے ہیں۔ وفاق اور صوبے کے اس باہمی پروگرام سے نہ صرف افراد کی معاشی حالت بہتر ہوگی بلکہ صوبے کے مجموعی حالات پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اس پروگرام سے حاصل ہونے والے چند نمایاں فوائد درج ذیل ہیں: بے روزگاری میں کمی: ہنر مندی اور کاروباری سہولیات کے باعث صوبے میں بے روزگاری کی شرح میں واضح کمی واقع ہوگی۔ جرائم اور ناامیدی کا خاتمہ: معاشی طور پر مستحکم اور مصروف نوجوان منفی سرگرمیوں اور ناامیدی سے محفوظ رہیں گے۔ مقامی معیشت کی تقویت: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شروع ہونے سے مقامی سطح پر اشیاء و خدمات کی خرید و فروخت کو فروغ ملے گا۔ بیرون ملک روزگار کے مواقع: جدید فنون میں مہارت حاصل کرنے والے جوان بیرون ملک بھی اعلیٰ اور باوقار روزگار حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ شفافیت اور نتائج پر مبنی حکمت عملی کا عزم اجلاس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ ان تمام یکجہتی منصوبوں کو صرف کاغذات تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ ان پر عمل درآمد کو ہر ممکن حد تک شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے گا۔ چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے اپنے اپنے اہداف کا تعین کریں اور مقررہ مدت کے اندر نتائج حاصل کر کے رپورٹ پیش کریں۔ اس مقصد کے لیے کارکردگی کو جانچنے کا ایک باقاعدہ نظام بھی قائم کیا جائے گا تاکہ عوامی وسائل کا صحیح اور بے لاگ استعمال ممکن بنایا جا سکے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اور بالخصوص نوجوان طبقہ اس مشترکہ پہل کو امید کی نظر سے دیکھ رہا ہے، اور اگر ان اقدامات پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ صوبے میں ایک نئے معاشی و سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ Post navigation یومِ سیاہ کے موقع پر مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کے خلاف ریلی ہری پور: ڈی پی او تیمور خان کی زیرِ صدارت پولیس کا اہم اجلاس، جرائم کے خاتمے اور بدعنوانی پر عدم برداشت کا اعلان