Preloader
LPG cylinders prices out of control

اہم نکات (خلاصہ)

  • بے لگام مہنگائی: بہاولنگر شہر اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخوں کے برعکس دوگنی سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔
  • عوام شدید مشکلات کا شکار: سردی کے آغاز کے ساتھ ہی 3,300 روپے کا گھریلو گیس سلنڈر بلیک میں 6,500 روپے تک بیچا جا رہا ہے۔
  • انتظامی بے حسی: پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور ضلعی انتظامیہ کارروائی سے گریزاں، مارکیٹوں میں سرکاری نرخ نامے بھی غائب۔
  • حکومتی مداخلیت کا مطالبہ: علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ۔

بہاولنگر (محمد منیر کھوکھر، نمائندہ خصوصی): جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولنگر اور اس کے گردونواح میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی ایل پی جی (لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس) کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ شہر میں متحرک منافع خور مافیا نے من مانے دام وصول کر کے غریب اور متوسط طبقے کو شدید معاشی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان اور اوگرا (OGRA) کی جانب سے طے شدہ قیمتوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے گیس ڈیلرز نے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں خود ساختہ اور ظالمانہ اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ پرائس کنٹرول حکام صورتحال سے مکمل طور پر لاپتہ نظر آتے ہیں۔

بحران کی موجودہ صورتحال اور قیمتوں کا موازنہ

بہاولنگر شہر سمیت ہارون آباد، منچن آباد، چشتیاں اور فورٹ عباس کے ملحقہ علاقوں میں ایل پی جی گیس کی بلیک مارکیٹنگ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایل پی جی ڈیلرز شہریوں سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

ذیل میں اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں اور مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کا ایک تقابلی جائزہ پیش ہے:

تفصیلاتسرکاری مقررہ نرخمارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتفی سلنڈر اضافی بوجھ
گھریلو گیس سلنڈر (11.8 کلوگرام)3,300 روپے6,500 روپے3,200 روپے (تقریباً 97% اضافہ)
ایل پی جی فی کلوگرام~280 روپے550 روپے سے زائد270 روپے زائد

مارکیٹ ذرائع کے مطابق گیس ایجنسی مالکان اور چھوٹے دکانداروں نے باہمی گٹھ جوڑ کر کے مصنوعی قلت پیدا کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو نہ صرف گیس کی حصولیابی میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انہیں دوگنی سے بھی زیادہ قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عوامی ردعمل اور معاشی اثرات

گیس کی قیمتوں میں اس ناگہانی اور بلاجواز اضافے نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔ غریب اور دیہاڑی دار طبقہ، جو پہلے ہی بجلی کے بھاری بلوں، خوراک کی مہنگائی اور دیگر معاشی بوجھ کے نیچے دب چکا ہے، اس نئے بحران سے فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

علاقہ مکینوں محمد اسلم، خالد کھوکھر، چوہدری محمد اشرف، میاں طارق اور پرویز خان جوئیہ نے دیگر شہریوں کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے سخت تشویش اور غصے کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا:

“ہم روزانہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے دفاتر کے چکر کاٹ کر تھک چکے ہیں، لیکن ہماری فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ دکانداروں کا رویہ انتہائی جابرانہ ہے اور وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ ‘اگر اس قیمت پر لینا ہے تو لو، ورنہ آگے بڑھو’۔ یوں لگتا ہے جیسے شہر میں قانون نامی کوئی چیز موجود ہی نہیں اور عوام کو رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔”

شہریوں نے مزید بتایا کہ گیس کی عدم دستیابی اور گرانی کے باعث ان کے گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، اور بچوں و بزرگوں کے لیے سردی کے اس موسم میں کھانے پینے کا انتظام کرنا محال ہو گیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول حکام کی خاموشی

اس تمام تر صورتحال میں ضلعی انتظامیہ بہاولنگر اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کا کردار سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے نہ تو شہر میں کہیں سرکاری نرخ نامے آویزاں کیے گئے ہیں اور نہ ہی بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی مؤثر چھاپہ مار کارروائی سامنے آئی ہے۔

شہر کے سویلین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی اور مجرمانہ غفلت کے باعث نا دہند دہندگان کو کھل کر لوٹ مار کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے۔ اگر پرائس کنٹرول مجسٹریٹس باقاعدگی سے منڈیوں اور ایل پی جی پوائنٹس کا معائنہ کریں، تو اس قسم کی خود ساختہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

گیس بحران کے پس منظر اور بنیادی عوامل

ایل پی جی کے حالیہ بحران اور یکدم قیمتیں بڑھنے کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں:

  1. سوئی گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ: موسمِ سرما شروع ہوتے ہی پائپ لائن گیس کے دباؤ میں شدید کمی آ جاتی ہے، جس کے باعث اکثر خانگی صارف ایل پی جی سلنڈرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ demand بڑھتے ہی مافیا متحرک ہو جاتا ہے۔
  2. سپلائی چین میں مصنوعی رکاوٹ: منافع خور تاجر اور ذخیرہ اندوز گیس کا ذخیرہ کر کے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ قیمتیں بڑھائی جا سکیں۔
  3. ریگولیٹری کنٹرول کا فقدان: اوگرا کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود مقامی سطح پر اس پر عملدرآمد کروانے کا کوئی پائیدار طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

عوامی اور سماجی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ

بہاولنگر کی سول سوسائٹی، تاجر تنظیموں اور عام شہریوں نے حکومت پنجاب اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

عوامی حلقوں نے درج ذیل بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں:

  • فوری قیمت میں کمی: ایل پی جی سلنڈر کی قیمت کو فی الفور سرکاری نرخ یعنی 3,300 روپے پر واپس لایا جائے۔
  • ذخیرہ اندوزوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی: ناجائز منافع خوری اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث گیس ڈیلرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
  • مؤثر پرائس کنٹرول کمیٹی: پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو پابند کیا جائے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر فیلڈ میں نکل کر گیس فروشوں کی جانچ پڑتال کریں اور ریٹ لسٹ آویزاں کروائیں۔

اگر انتظامیہ نے اس گھمبیر مسئلے کا فوری حل نہ نکالا تو شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ شدید احتجاج کرنے اور شاہراہوں کو بلاک کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی حکام پر عائد ہو گی۔