Preloader
May 9-like situation' to be dealt with decisive force

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد: جی ایچ کیو راولپنڈی میں سپہ سالار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس، جس میں ملکی و علاقائی سلامتی کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
  • داخلی استحکام پر زور: پاک فوج کے اعلیٰ قیادت نے واضح کیا کہ ملک میں معاشی ترقی اور پائیدار امن کے لیے داخلی سیاسی و معاشی استحکام بنیادی شرط ہے۔
  • انتشار کے خلاف سخت انتباہ: 9 مئی جیسے واقعات یا ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش کا ریاست “فیصلہ کن قوت” اور قانون کی طاقت کے ساتھ جواب دے گی۔
  • دہشت گردی کا خاتمہ: تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات بالخصوص دہشت گردانہ کارروائیوں کا بلا تفریق مکمل صفایا کرنے کے عزم کا اعادہ۔

راولپنڈی: جی ایچ کیو میں اعلیٰ سطح کا اجلاس

پاک فوج کی اعلیٰ ترین قیادت (کور کمانڈرز) نے ملک میں قانون کی حاکمیت اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انتباہ جاری کیا ہے کہ 9 مئی جیسے حالات دوبارہ پیدا کرنے یا ملک میں کسی بھی قسم کا انتشار اور ناامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی تو اس کا جواب ریاست کی مکمل طاقت، “فیصلہ کن قوت” اور قانون کے تحت دیا جائے گا۔

آرمی چیف کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں منعقدہ کور کمانڈرز کانفرنس کے موقع پر ملک کی مجموعی سیکورٹی صورتحال، پیش آمدہ چیلنجز اور داخلی استحکام کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، کانفرنس میں عسکری قيادت نے ملک میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور سلامتی پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

داخلی استحکام: معیشت اور ترقی کی بنیادی ضرورت

کانفرنس کے دوران اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ پائیدار معاشی بحالی اور عوامی خوشحالی کے لیے ملک کے اندر سیاسی و معاشی استحکام کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ آئی ایس پی آر کے جاری کردہ بیان کے مطابق، عسکری قیادت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس وقت اہم معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے اور ان حالات میں کوئی بھی غیر قانونی یا متنازع سرگرمی ملکی مفاد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

عسکری حکام نے واضح کیا کہ داخلی استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کوشش دراصل ملکی سلامتی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ریاست ہر اس عنصر کے خلاف سخت قانونی اور آئینی اقدامات کرے گی جو قانون کی پاسداری کرنے کے بجائے ہنگامہ آرائی یا انتشار کا راستہ اختیار کرے گا۔

9 مئی جیسے واقعات اور انتباہ کا پس منظر

پاک فوج کی جانب سے 9 مئی جیسے واقعات کا تذکرہ ایک اہم صحافتی اور سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ 9 مئی 2023 کو ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران دفاعی تنصیبات، شہیدوں کی یادگاروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا، جس کے بعد سے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے تمام واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے آئے ہیں۔

اس پس منظر میں کور کمانڈرز کانفرنس کے اس تازہ ترین بیان سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ عسکری قیاد ت نے اب ایسی تمام کوششوں کے خلاف “صفر برداشت” (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ جمہوری دائرہ کار میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن سیاسی یا گروہی مقاصد کے لیے ریاستی اداروں یا عوام کی سلامتی کو ڈاؤں پر لگانے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔

سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں

کانفرنس میں ملک میں حالیہ دنوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی تخریب کارانہ سرگرمیوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ پاک فوج نے اعادہ کیا کہ وہ دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہر سطح پر کارروائیاں جاری رکھے گی۔

اجلاس کے دوران درج ذیل امور پر پیش رفت اور آئندہ کی حکمت عملی کی منظوری دی گئی:

  • انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دہشت گردانہ شبکات کے مکمل خاتمے کے لیے ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی آپریشنز میں تیزی لائی جائے گی۔
  • سرحدی سیکیورٹی: پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں پر نگرانی کے نظام کو مزید سخت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جائے گا تاکہ شرپسند عناصر کی آمدورفت روکی جا سکے۔
  • بلوچستان میں پائیدار امن: بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے تسلسل اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی تدابیر فراہم کی جائیں گی تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
  • شہدائے وطن کو خراج تحسین: سیکیورٹی فورسز اور بالخصوص نڈر جوانوں اور شہریوں کی قربانیوں کو سراہا گیا جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

قانون کی حاکمیت اور آئینی حدود

خبر کے ایڈیٹوریل نقطہ نظر کے مطابق، عسکری قیادت کا یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ تمام فیصلے اور اقدامات ملکی آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔ آرمی چیف نے کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تمام کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنی اپنی حدود میں آپریشنل تیاریوں کا معیار بلند رکھیں اور سول انتظامیہ کو امن و امان کی برقرار رکھنے میں مکمل تعاون فراہم کریں۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ “ریاست کی حاکمیت کو چیلنج کرنے والے عناصر خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی، ان کے خلاف سخت ترین قانونی و تادیبی کارروائی بلا تفریق کی جائے گی۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے آئندہ کسی بھی قسم کی سیاسی یا سماجی بگاڑ کی کوشش کو شروعات ہی میں ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

تجزیہ اور ممکنہ اثرات

کور کمانڈرز کانفرنس کا یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

  1. سیاسی و سماجی اثرات: عسکری قیادت کے اس انتباہ سے سیاسی میدان میں شکوک و شبہات کا خاتمہ ہوگا اور ان عناصر کو ایک واضح پیغام ملے گا جو سڑکوں کی سیاست یا پرتشدد احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں۔
  2. معاشی منظر نامہ: سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ایک اہم اشارہ ہے کہ ریاست امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، جس سے معاشی اعتماد بحال ہونے میں مدد ملے گی۔
  3. دفاعی نظام کی مضبوطی: قوم کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان ہر لمحہ ملکی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کے لیے چوکس ہیں اور اندرونی و بیرونی دھمکیوں سے نمٹنے کی کامل صلاحیت رکھتی ہیں۔

پاک فوج کے اس فیصلے سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ملک کا امن و امان اور قانون کی بالا دستی کسی صورت قربان نہیں کی جائے گی، اور ریاست اپنے تمام تر آئینی وسائل کا استعمال کرتے ہوئے داخلی استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنائے گی۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔