Preloader
Missing and death toll of Nepal flood

اہم نکات:

  • نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے بھیانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 903 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 4,247 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
  • نیپال اور تبتی سرحد کے قریب قائم ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں نچلے درجے کے سینکڑوں مزدوروں اور شہریوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جہاں امدادی ٹیموں نے سرچ آپریشن تیز کر دیا ہے۔
  • برف، چٹانوں، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل تیز رفتار سیلابی ریلوں نے نیپال-چین سرحدی آبادیوں کو برباد کر دیا اور ملبہ سینکڑوں کلومیٹر دور تک جا پہنچا۔
  • حادثے کی چھٹے روز داخل ہونے والی امدادی کارروائیاں بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور خراب موسم کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

کاٹھمنڈو (خصوصی رپورٹ):

نیپال میں گزشتہ ہفتے آنے والے تاریخ کے خوفناک ترین قدرتی سانحات میں سے ایک نے پورا ملک ہلا کر رکھ دیا ہے۔ تباہ کن سیلاب اور کیچڑ کے تودے (لینڈ سلائیڈنگ) گرنے سے پیدا ہونے والی قیامت خیز صورتحال کے بعد ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 903 ہو گئی ہے، جبکہ 4,247 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے چھٹے روز داخل ہوتے ہی ریسکیو ٹیموں نے اپنی تمام تر توجہ نیپال اور چین کے تبتی سرحدی علاقے میں واقع ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں پر مرکوز کر دی ہے، جہاں سینکڑوں افراد کے محصور ہونے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیلاب کا زور اتنا شدید تھا کہ گلیشیئر سے نکلنے والے برفانی پانی، بڑی چٹانوں، کیچڑ اور درختوں پر مشتمل ریلوں نے آبادیوں کی آبادیوں کا صفایا کر دیا اور یہ تباہ کاری نیپال کی سرحد عبور کر کے چین کے سرحدی علاقوں تک جا پہنچی۔

ہائیڈرو پاور سرنگوں میں ریسکیو کا سب سے بڑا چیلنج

نیپال کے سرحد سے متصل جغرافیائی خطے میں درجنوں ہائیڈرو پاور (پنی بجلی) منصوبے زیرِ تعمیر اور فعال ہیں۔ ناگہانی سیلابی ریلے کی آمد کے وقت ان منصوبوں کی گہری سرنگوں (تنگ نالیوں اور ہائیڈرو پروژیکٹس) میں سینکڑوں مقامی اور غیر ملکی مزدور کام کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق، سیلابی پانی اور کیچڑ نے ان سرنگوں کے داخلے اور خارج ہونے والے راستوں کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے۔ امدادی ٹیمیں، نیپالی فوج، اور چین کے سرحدی ریسکیورز گہرے ملبے کو ہٹانے اور اندر پھنسے ہوئے افراد تک آکسیجن و پانی پہنچانے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم، بھاری مشینری کو متاثرہ پہاڑی علاقوں تک پہنچانا شدید تبا کاری کے باعث ایک انتہائی مشکل مرحلہ بنا ہوا ہے۔

تباہی کا پس منظر: نیپال تبتی سرحدی خطہ کس طرح تباہ ہوا؟

نیپال اور تبتی سرحد کا خطہ ہمالیائی سلسلے میں واقع ہونے کی وجہ سے جیو پولیٹیکل اور ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی حساس اور خطرناک شمار ہوتا ہے۔ پچھلے ہفتے مسلسل ہونے والی غیر معمولی موسلا دھار بارشوں اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کی وجہ سے پہاڑوں سے خوفناک مٹی اور پتھروں کے تودے گرے۔

سیلابی ریلوں کا حجم اور رفتار اتنی تیز تھی کہ اس کے راستے میں آنے والے ملٹی اسٹوری مکانات، پل، سڑکیں اور بجلی کے نیٹ ورک پل بھر میں تنکوں کی طرح بہہ گئے۔ یہ ریلے نیپال سے گزرتے ہوئے چین کے تبت کے خود مختار علاقے میں داخل ہوئے اور تباہی کا ملبہ اور لاشیں سینکڑوں کلومیٹر نیچے بہا کر لے گئے۔ سرحد کے دونوں جانب رابطہ سڑکیں منقطع ہونے کی وجہ سے متاثرہ دیہات کا دنیا سے کٹاؤ ہو چکا ہے۔

اعداد و شمار کا جائزہ اور موجودہ صورتحال

صحت اور ناگہانی آفات سے نمٹنے والی قومی ایجنسیوں کے جاری کردہ اعداد و شمار درج ذیل ہیں:

تفصیل / عنصرصورتحال / شرح
مجموعی اموات (تصدیق شدہ)903 افراد
لاپتہ افراد کی تعداد4,247 افراد
ریسکیو کا مرحلہچھٹا دن (عملیات جاری)
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہنیپال-تبت بارڈر زون، ہمالیائی ڈسٹرکٹس
بنیادی چیلنجسرنگوں میں پھنسے افراد، سڑکوں اور پلوں کی تباہی

جیو پولیٹیکل اور سرحد پار اثرات

اس قدرتی آفت کی تباہ کاری صرف نیپال تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہمسایہ ملک چین کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے۔ نیپال سے بہنے والے طاقتور ندی نالوں نے جب سرحد عبور کی تو چینی علاقے میں بھی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

  1. دوطرفہ ریسکیو رابطہ: چین اور نیپال کے حکام نے سرحدی علاقوں میں ہنگامی مواصلاتی لائنیں قائم کی ہیں تاکہ پانی کی سطح، ملبے کی منتقلی اور بہہ کر جانے والی لاشوں و متاثرین کا پتہ لگایا جا سکے۔
  2. سرحدی تجارت اور نقل و حمل پر اثرات: نیپال اور چین کے درمیان تجارتی اور لاجسٹک رابطے فراہم کرنے والے اہم پہاڑی درے اور شاہراہیں مکمل طور پر منقطع ہو چکی ہیں، جس کے باعث اربوں روپے کی تجارت معطل ہو گئی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی اور ماہرین کی آرا

ماہرینِ ماحولیات اور زمینی علوم (Geologists) کا کہنا ہے کہ ہمالیائی خطے میں اس قسم کے شدید تباہ کن واقعات کا متواتر رونما ہونا عالمی درجہ حرارت کی تبدیلی (Climate Change) اور ناپائیدار تعمیراتی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔

پہاڑی علاقوں میں ہائیڈرو پاور منصوبوں کی بے ہنگم تعمیر، جنگلات کا کٹاؤ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اس قسم کی اچانک آفتوں کو جنم دیتا ہے۔ ماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق جب بادل پھٹنے (Cloudburst) اور گلیشیائی سیلاب کا ملاپ ہوتا ہے تو کیچڑ اور چٹانوں پر مشتمل مائع وجود کسی بھی کنکریٹ کے ڈھانچے کو پل بھر میں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آئندہ کے امکانی خطرات اور بحالی کے خدشات

جیسے جیسے دن گزر رہے ہیں، لاپتہ ہونے والے 4,247 افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ کئی مقامات پر وبائی امراض پھیلنے اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ نیپال کی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے فوری طبی سامان، خیموں، اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔

اگرچہ ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں، لیکن تباہ شدہ سڑکوں اور مسلسل گرتے ہوئے ملبے کی وجہ سے کئی علاقوں تک فضائی کے علاوہ زمینی رسائی ناممکن ہو چکی ہے۔ آفت سے متاثرہ ہزاروں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔

ایڈیٹوریل نوٹ

یہ رپورٹ نیپالی حکام، ریسکیو اداروں اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے موصول ہونے والے تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ہائیڈرو پاور سرنگوں میں جاری آپریشن اور لاپتہ افراد سے متعلق اعداد و شمار تبدیل ہونے پر خبر کی معلومات اپ ڈیٹ کی جاتی رہیں گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025