Preloader
Mulana Fazal ur Rehman visited Nowshera

اہم نکات:

  • جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا۔
  • انہوں نے استاد الحدیث پروفیسر ڈاکٹر محمود الحق کی وفات پر ان کے بھائی شیخ الحدیث مولانا انوار الحق اور خاندان کے دیگر افراد سے تعزیت کی۔
  • دورے کے دوران مرحوم کے بلند درجات اور ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
  • مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے جلیل القدر اساتذہ حضرت دیر بابا جی اور حضرت مغفور اللہ بابا جی سے ملاقات اور زیارت کی سعادت بھی حاصل کی۔
  • اس موقع پر جے یو آئی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش اور دیگر مرکزی و ضلعی رہنما بھی ہمراہ تھے۔

نوشہرہ (خصوصی رپورٹ: انور زیب خان) — جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ضلع نوشہرہ کے تاریخی مذہبی و علمی مرکز اکوڑہ خٹک کا اہم دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد معروف علمی و روحانی شخصیت، شیخ الحدیث مولانا عبد الحق رحمہ اللہ کے فرزند اور شہیدِ ملت مولانا سمیع الحق رحمہ اللہ کے بھائی پروفیسر ڈاکٹر محمود الحق کی رحلت پر ان کے لواحقین اور خانوادۂ حقانیہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کرنا تھا۔

اکوڑہ خٹک آمد پر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم اور مرحوم کے بھائی شیخ الحدیث مولانا انوار الحق اور دیگر غمزدہ اہل خانہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر محمود الحق کی دینی، علمی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی وفات کو علمی دنیا اور خصوصاً خانوادۂ حقانیہ کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا۔ اس موقع پر مرحوم کے ایصالِ ثواب اور درجات کی بلندی کے لیے اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔

اساتذہ کی زیارت اور روحانی وابستگی

تعزیتی ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے علمی و روحانی سفر کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنے دیرینہ اساتذہ، حضرت دیر بابا جی اور حضرت مغفور اللہ بابا جی کی رہائش گاہوں پر حاضری دی۔ انہوں نے اپنے اساتذہِ کرام سے ملاقات کی، ان کی عیادت کی اور ان کی صحت و درازیِ عمر کے لیے دعا کی۔

صحافتی اور علمی حلقوں کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کا اپنے اساتذہ سے یہ تعلق ان کی اسلامی روایات اور اپنے تعلیمی مرکز سے وابستگی کا بین ثبوت ہے۔ دارالعلوم حقانیہ سے ان کا دیرینہ علمی ناطہ رہا ہے، جہاں سے انہوں نے دینی علوم کی تحسیل کی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہر اہم موقع پر اس ادارے اور اپنے اساتذہ سے رہنمائی اور دعائیں حاصل کرنے کے لیے وقت نکالتے ہیں۔

قیادت کی معیت اور اہم شخصیات کی شرکت

اس اہم تعزیتی دورے کے موقع پر مولانا فضل الرحمٰن کے ہمراہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی موجود تھی۔ ان میں جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، ضلعی و صوبائی عہدیدار اور مقامی رہنما شامل تھے۔

تعزیتی مجلس میں اکوڑہ خٹک کی دیگر ممتاز علمی، مذہبی اور سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی اور خانوادۂ حقانیہ سے غم کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ جے یو آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد نے بھی اپنے قائد کا استقبال کیا۔

خانوادۂ حقانیہ کا تاریخی و علمی پس منظر

دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک برصغیر پاک و ہند کے چند چند بڑے اور تاریخی دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے، جس کی بنیاد شیخ الحدیث مولانا عبد الحق رحمہ اللہ نے رکھی تھی۔ اس ادارے نے دنیا بھر میں ہزاروں علماء، مدرسین اور مفتیانِ کرام پیدا کیے ہیں جنہوں نے اسلام کی اشاعت اور تدریس میں نمایاں کردار ادا کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر محمود الحق اسی عظیم علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم و تحقیق اور دینی علوم کی ترویج میں وقف کر رکھی تھی۔ ان کے بھائی شہید مولانا سمیع الحق نے ملکی سیاست اور دینی تعلیم کے میدان میں گہرے نقوش چھوڑے۔ ایسے میں ڈاکٹر محمود الحق کی رحلت اس علمی سلسلے کا ایک باب تمام ہونے کے مترادف ہے، جس پر ملک بھر کے مذہبی و سیاسی حلقوں میں دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دینی و سیاسی حلقوں پر دورے کے اثرات

مولانا فضل الرحمٰن کا یہ دورہ جہاں ایک طرف تعزیتی اور اخلاقی نوعیت کا حامل تھا، وہیں سیاسی اور مذہبی تجزیہ کاروں کے نزدیک اس کی معنویت انتہائی اہم ہے۔ خیبر پختونخوا میں دینی و سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے خانوادۂ حقانیہ اور جے یو آئی کے درمیان یہ تعلقات ہمیشہ سے بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔

اس دورے کے ذریعے دونوں مکاتبِ فکر اور دینی دھاروں کے درمیان باہمی احترام، اتحاد اور علمی رشتوں کی مضبوطی کا پیغام گیا ہے۔ مذہبی اور صحافتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی تعزیتی ملاقاتیں نہ صرف دینی طبقے کو متحد رکھتی ہیں بلکہ ملک میں درپیش درپیش درپیش سیاسی و سماجی چیلنجز کے مقابلے کے لیے ایک باہمی ہم آہنگی کی فضا بھی قائم کرتی ہیں۔

خبر کے اہم حقائق ایک نظر میں

  • موقع: اکوڑہ خٹک میں تعزیت و فاتحہ خوانی
  • تعزیت کنندہ: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن
  • تعزیت وصول کنندہ: شیخ الحدیث مولانا انوار الحق اور خانوادۂ حقانیہ
  • مرحوم شخصیت: پروفیسر ڈاکٹر محمود الحق (فرزند مولانا عبد الحق رحمہ اللہ، برادرِ شہید مولانا سمیع الحق)
  • خاص حاضری: اساتذہ حضرت دیر بابا جی اور حضرت مغفور اللہ بابا جی کی زیارت
  • ہمراہ قیادت: سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش اور دیگر صوبائی و ضلعی رہنما