New phase of Interfaith harmony in KP
  • ملاقات و مبارکباد: بشپ ایلون جون کی قیادت میں مسیحی برادری کے اعلیٰ سطح کے وفد نے جامعہ اشرفیہ میں پیغامِ امن کمیٹی خیبر پختونخوا کے نئے چیف کوآرڈینیٹر مولانا محمد طیب قریشی سے ملاقات کی اور انہیں عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
  • اقلیتوں کا تحفظ اور حقوق: مولانا طیب قریشی نے واضح کیا کہ اقلیتیں پاکستان کا لازمی حصہ ہیں اور اسلام کسی کو جبر کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
  • چرچ کا دورہ: صوبائی کوآرڈینیٹر نے مسیحی وفد کی دعوت قبول کرتے ہوئے جلد کمیٹی اراکین کے ہمراہ چرچ کا خیرسگالی دورہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
  • امن و ہم آہنگی کا فروغ: پیغامِ امن کمیٹی کا بنیادی مقصد صوبے میں بین المسالک اور بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھنا اور دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو عام کرنا ہے۔

پشاور (خاص رپورٹ) — خیبر پختونخوا میں بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومتی سطح پر قائم کردہ ‘پیغامِ امن کمیٹی’ کے نو منتخب چیف کوآرڈینیٹر اور معروف مذہبی رہنما مولانا محمد طیب قریشی سے مسیحی برادری کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جامعہ اشرفیہ میں اہم ملاقات کی ہے۔ وفد کی قیادت مسیحی برادری کے ممتاز رہنما بشپ ایلون جون کر رہے تھے۔

اس ملاقات کا بنیادی مقصد مولانا محمد طیب قریشی کو حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے پیغامِ امن کمیٹی کا صوبائی کوآرڈینیٹر مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرنا اور صوبے میں پائیدار امن و رواداری کے قیام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرنا تھا۔ ملاقات کے دوران مسیحی وفد نے مولانا طیب قریشی کو پھولوں کے ہار پہنائے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

اقلیتیں ہمارا وجود ہیں: مولانا محمد طیب قریشی کا خطاب

ملاقات کے دوران وفد سے بات چیت کرتے ہوئے چیف کوآرڈینیٹر پیغامِ امن کمیٹی مولانا محمد طیب قریشی نے اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے گہرے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بسنے والی تمام اقلیتی برادریاں پاکستان کے وجود کا اہم اور ناقابلِ تنصیف حصہ ہیں۔

مولانا طیب قریشی نے زور دے کر کہا:

“پاکستان کی تعمیر، ترقی اور خوشحالی میں اقلیتوں کے تاریخی اور مثبت کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اقلیتیں ہمارے لیے غیر نہیں بلکہ ہمارے وجود کا حصہ ہیں، اور ان کی جان، مال، آبرو اور مذہبی آزادی کا تحفظ ہماری اولین اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی میں اقلیتی نمائندوں کی شمولیت اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت تمام مذاہب کے پیروکاروں کو مساوی اہمیت دیتی ہے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔

جبری تبدیلیِ مذہب کی سخت مخالفت اور اسلامی تعلیمات

ملاقات کا ایک انتہائی اہم پہلو جبری تبدیلیِ مذہب کا حساس موضوع تھا۔ مولانا محمد طیب قریشی نے اس حوالے سے موقف اپنایا اور واضح الفاظ میں کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی کسی بھی فرد یا گروہ کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے گی کہ وہ طاقت، جبر یا دباؤ کے ذریعے اقلیتوں کے کسی فرد کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرے۔

انہوں نے دینی اور شرعی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دینِ اسلام میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ قرآن پاک کا واضح حکم ہے کہ “دین میں کوئی زبردستی نہیں”۔ اسلام حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا ضامن ہے اور غیر مسلم شہریوں کی مذہبی آزادی کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر کوئی عنصر دباؤ یا جبر کے ذریعے مذہب کی تبدیلی کے غیر قانونی عمل میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون اور پالیسی کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی بیانیہ

صوبائی کوآرڈینیٹر نے پیغامِ امن کمیٹی کے بنیادی اہداف اور ترجیحات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کا قیام صوبے کی موجودہ حالات میں انتہائی اہم ضرورت تھا۔ انہوں نے کمیٹی کے اہم ترین نکات کو درج ذیل فرائض کے تحت پیش کیا:

  • امن و امان کا قیام: خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں باہمی اخوت، بھائی چارے اور برداشت کی فضا قائم کرنا۔
  • بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی: مختلف مذہبی مکاتبِ فکر اور اقلیتی مذاہب کے درمیان مکالمے اور فاصلے مٹانے کے لیے پل کا کردار ادا کرنا۔
  • دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ: ریاستِ پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی کے قومی بیانیے کو نچلی سطح تک فروغ دینا اور انتہا پسندانہ سوچ کا سدِ باب کرنا۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان ترجیحات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تا کہ صوبے کو امن و امان کا گہوارہ بنایا جا سکے۔

چرچ آمد کی دعوت اور خیرسگالی کا جذبہ

ملاقات کے پرخلوص ماحول میں مسیحی برادری کے وفد کے سربراہ بشپ ایلون جون نے مولانا محمد طیب قریشی کو چرچ کا دورہ کرنے کی باضابطہ دعوت پیش کی تا کہ مسیحی برادری بھی ان کی آمد پر مسرت کا اظہار کر سکے اور باہمی تعلقات میں مزید گرمجوشی پیدا ہو۔

مولانا طیب قریشی نے اس دعوت کو انتہائی گرمجوشی اور ممنونیت کے ساتھ قبول کیا۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ بہت جلد پیغامِ امن کمیٹی کے دیگر جید علماء اور ممبران کے ہمراہ چرچ کا خیرسگالی دورہ کریں گے، جس کا مقصد باہمی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرنا ہے۔

آخرمیں مولانا طیب قریشی نے بشپ ایلون جون اور ان کے ساتھ آنے والے تمام اراکین کا جامعہ اشرفیہ آمد پر شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے روابط سے خیبر پختونخوا میں بین المذاہب تعلقات ایک نئی اور مثبت سمت میں گامزن ہوں گے۔

پس منظر اور تجزیہ: خیبر پختونخوا میں امن و رواداری کی نئی شروعات

خیبر پختونخوا کا خطہ گزشتہ چند دہائیوں سے مختلف نوعیت کے سیکورٹی چیلنجز، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لہروں کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ان حالات میں اقلیتی برادریاں بالخصوص مسیحی اور سکھ برادری اکثر غیر یقینی اور خوف کی فضا سے متاثر ہوتی رہی ہیں۔

حکومتِ خیبر پختونخوا کی جانب سے ‘پیغامِ امن کمیٹی’ کی تشکیل اور مذہبی و سیاسی شخصیات کی اس میں شمولیت کو علاقے میں تناؤ کم کرنے کا ایک مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  1. جامعہ اشرفیہ کا مرکزی کردار: جامعہ اشرفیہ پشاور اور مذہبی قیادت کا بین المذاہب مکالمے میں آگے بڑھنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مذہبی ادارے اور علماء اقلیتوں کو تحفظ دینے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
  2. اقلیتوں میں اعتماد کی بحالی: جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف واضح موقف اور چرچ کا دورہ کرنے کی یقین دہانی سے اقلیتی برادریوں کے اندر پایا جانے والا احساسِ محرومی اور خوف ختم کرنے میں مد د ملے گی۔
  3. عالمی اور قومی سطح پر مثبت تاثر: بین المذاہب ہم آہنگی کے ایسے اقدامات سے نہ صرف ملکی سطح پر یکجہتی کو فروغ ملتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا ایک پرامن، روادار اور ترقی پسند امیج ابھر کر سامنے آتا ہے۔

علماء اور اقلیتی رہنماؤں کے مابین اس قسم کے برائے راست رابطے آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کے اندر دیرپا امن، باہمی احترام اور مذہبی ہم آہنگی کے قیام کے لیے انتہائی سنگ میل ثابت ہوں گے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025