اہم نکات (خلاصہ) عالمی رپورٹ کا اجرا: گلوبل ہنگر انڈیکس (GHI) 2026 کی نئی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں دنیا بھر میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کی پوزیشن اور اسکور: رپورٹ کے مطابق پاکستان 122 ممالک میں 106 ویں نمبر پر ہے، جبکہ اس کا جی ایچ آئی اسکور 25.5 ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ “سنجیدہ” (Serious) درجے میں آتا ہے۔ خطے کے دیگر ممالک سے موازنہ: پاکستان خطے کے دیگر ممالک مثلاً بھارت (100 ویں)، بنگلہ دیش (84 ویں)، نیپال (72 ویں) اور سری لنکا (53 ویں) کے مقابلے میں خوراک کی سیکیورٹی کے معاملے میں پیچھے اور ابتر پوزیشن پر ہے۔ بنیادی اشاریے: ملک میں 16.1 فیصد آبادی غذائی قلت (Undernourishment) کا شکار ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے 33.6 فیصد بچوں میں نشوونما کی کمی (Stunting) پائی گئی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2026: عالمی اور علاقائی پس منظر دنیا بھر میں خوراک کی دستیابی، غذائی تحفظ اور بھوک کے خاتمے کی کاوشوں کا جائزہ لینے والی سالانہ بین الاقوامی رپورٹ گلوبل ہنگر انڈیکس (GHI) 2026 منظرِ عام پر آ چکی ہے۔ اس حالیہ رپورٹ نے جنوبی ایشیا سمیت دنیا کے کئی خطوں میں غذائی قلت کے حوالے سے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عالمی سطح پر پچھلے چند برسوں کے دوران آنے والے معاشی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور رسد کی زنجیر (Supply Chain) میں رکاوٹوں کی وجہ سے بھوک کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنوبی ایشیا کا خطہ مجموعی طور پر غذائی تحفظ کے لحاظ سے شدید چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کروڑوں افراد پیٹ بھر کر کھانا حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کی پوزیشن انتہائی قابلِ تشویش ہے، کیونکہ ملک طویل عرصے سے معاشی عدم استحکام، مہنگائی اور موسمیاتی جھٹکوں کی زد میں ہے۔ پاکستان میں خوراک کی صورتحال: اہم اعداد و شمار اور ڈیٹا گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کی رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، وہ ملک میں صحت اور غذائیت کے نظام کی ابتر حالت کو آشکار کرتے ہیں۔ پاکستان کا مجموعی اسکور 25.5 ہے، جو کہ عالمی معیار کے مطابق بھوک کی سنگین ترین سطح کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اہم اشاریے درج ذیل ہیں: مجموعی درجہ بندی: پاکستان نے 122 قابلِ ذکر ممالک میں سے 106 ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ غذائی قلت (Undernourishment): ملک کی کل آبادی کا 16.1 فیصد حصہ خوراک کی بنیادی حراروں (Calories) اور غذائیت سے محروم ہے۔ بچوں میں نشوونما کی کمی (Stunting): پانچ سال سے کم عمر کے 33.6 فیصد بچے قد کی مناسب نشوونما نہ ہونے (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں۔ ویسٹنگ (Wasting): کم عمر بچوں میں غذائیت کی کمی کے باعث وزن میں شدید کمی کا تناسب 9.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چائلڈ مورٹیلیٹی (Child Mortality): پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑنے والے بچوں کا تناسب 5.6 فیصد ہے۔ خطے کے دیگر ممالک سے تقابلی جائزہ جب پاکستان کا موازنہ جنوبی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک سے کیا جاتا ہے تو خلیج اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کے بیشتر ممالک نے پاکستان کے مقابلے میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے بہتر اقدامات کیے ہیں: سری لنکا: 10.2 اسکور کے ساتھ خطے میں بہترین پوزیشن پر ہے اور اس کا درجہ ‘معتدل’ (Moderate) شمار ہوتا ہے (رینک: 53)۔ نیپال: 14.5 اسکور کے ساتھ بہتر پوزیشن پر ہے (رینک: 72)۔ بنگلہ دیش: 19.2 اسکور کے ساتھ پاکستان سے کافی بہتر حالت میں ہے (رینک: 84)۔ بھارت: 24.1 اسکور کے ساتھ پاکستان سے قدرے بہتر یعنی 100 ویں نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان اور افغانستان: پاکستان کا اسکور 25.5 ہے جبکہ افغانستان 28.6 اسکور کے ساتھ اس فہرست میں پاکستان سے بھی پیچھے ہے۔ بحران کی وجوہات: معاشی عدم استحکام اور موسمیاتی تبدیلیاں ماہرینِ معاشیات اور غذائی تحفظ کے محققین کے مطابق پاکستان میں خوراک کی یہ ابتر صورتحال کسی ایک سال کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کے دیرینہ مسائل کارفرما ہیں: مہنگائی اور غذائی اشیاء کی قیمتیں: خوراک کی قیمتوں میں تاریخی اضافے (Food Inflation) نے عام آدمی کی پہنچ سے بنیادی اشیاءِ خوراک دور کر دی ہیں۔ آمدنی اور اخراجات کا توازن بگڑنے سے غریب خاندان متوازن غذا سے محروم ہو چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور زرعی نقصان: حالیہ برسوں میں سیلاب، خشک سالی اور غیر متوقع بارشوں نے پاکستان کے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ فصلیں تباہ ہونے سے خوراک کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی عدم استحکام: ملک کو درپیش طویل مدتی معاشی دباؤ، بیرونی قرضوں اور روپے کی قدر میں گراوٹ نے غذائی درآمدات اور مقامی سطح پر زرعی مداخل (سیڈز، فرٹیلائزر) مہنگے کر دیے ہیں۔ اثرات اور طویل مدتی نقصانات غذائی قلت اور خوراک کی غیر یقینی صورتحال کا سب سے زیادہ خمیازہ ملک کے بچوں اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بچپن میں مناسب غذا نہ ملنے کے باعث بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما رک جاتی ہے، جس سے مستقبل میں ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، غذائی عدم تحفظ معاشرے میں غربت کے چکر (Poverty Trap) کو مزید گہرا کرتا ہے، کیونکہ بیمار اور کمزور افراد زیادہ پیداواری صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ ایڈیٹوریل تجزیہ: فوری اور جامع حکمتِ عملی کی ضرورت گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کی یہ رپورٹ حکومتی پالیسی سازوں، سول سوسائٹی اور تمام شراکت داروں کے لیے ایک چشم کشا ہے۔ محض روایتی زراعت پر انحصار کرنے کے بجائے ملک میں زرعی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فوڈ سپلائی چین کو محفوظ بنانے اور غریب طبقے کے لیے ہدف بند امدادی پروگراموں (Targeted Social Safety Nets) کو وسعت دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات، مہنگائی پر قابو پانے اور بچوں میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر کوئی جامع ‘زیرو ہنگر’ اسٹریٹجی نہ اپنائی، تو پاکستان کے لیے پائیدار ترقی کے عالمی اہداف (SDGs) کا حصول مزید کٹھن ہو جائے گا۔ نوٹ: یہ رپورٹ گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کے جاری کردہ اعداد و شمار، بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اور معروضی اقتصادی تجزیوں کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ Post navigation عمران خان کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا حکم: انتخابی اصلاحات کے احتجاج میں شرکت پر کارروائی چلی کی معروف باڈی بلڈنگ سٹار ماریان وان گیرکے 40 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں: مسٹر اولمپیا 2026ء کے چند ہفتوں بعد سنسنی خیز پیش رفت