Preloader
Paris Women's Fashion Week

اہم نکات:

  • نو روزہ فیشن میلے کا اختتام: پیرس ویمنز فیشن ویک نو دنوں کے شاندار شوز اور عالمی شخصیات (سلیبریٹیز) کی آمد کے بعد منگل کے روز کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
  • ‘فیشن ان کٹ فارم’ کی مقبولیت: ڈیزائنرز نے روایتی سلے سلائے سر تا پا ملبوسات کی بجائے الگ الگ آزاد ٹکڑوں (Independent Pieces) پر توجہ مرکوز کی ہے، جنہیں مکس اینڈ میچ کر کے پہنا جا سکتا ہے۔
  • موسمِ بہار اور گرما کا فیشن: آنے والے سال کے سپرنگ-سمر سیزن کے لیے آرام دہ، لچکدار اور پائیدار انداز کو بنیادی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
  • صنعت پر اثرات: نئے رجحانات سے نہ صرف عام خواتین کے الماری کے انتخاب پر اثر پڑے گا بلکہ فیشن انڈسٹری میں پائیداری (Sustainability) کو فروغ ملے گا۔

فیشن کی دنیا کے سب سے معتبر اور عالمی مرکز فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ “پیرس ویمنز فیشن ویک” اپنے تمام تر رنگوں، شاہانہ شوز اور عالمی سلیبریٹیز کی شرکت کے بعد منگل کو اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ نو دنوں تک جاری رہنے والے اس فیشن ویک میں دنیا بھر کے نامور فیشن ہاؤسز، ڈیزائنرز اور ماہرین نے شرکت کی اور آنے والے سال کے موسمِ بہار اور گرما (Spring-Summer Season) کے لیے خواتین کے ملبوسات کے نت نئے انداز پیش کیے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے (AFP) کی رپورٹ کے مطابق اس بار کے رن وے پر جو اہم ترین تبدیلی دیکھنے میں آئی، وہ فیشن کے روایتی تصورات کا خاتمہ اور ایک بالکل نئے انداز “فیشن ان کٹ فارم” (Fashion in kit form) کا فروغ ہے۔

‘فیشن ان کٹ فارم’: الماری میں تبدیلی کا نیا انقلاب

اس سیزن میں ڈیزائنرز نے ایک واضح اور نمایاں سٹریٹیجک تبدیلی اختیار کی ہے۔ اب فیشن ہاؤسز ایسے مکمل اور تیار ملبوسات پیش نہیں کر رہے جو سر سے لے کر پاؤں تک ایک ہی انداز میں پہنے جائیں، بلکہ اس کے برعکس ملبوسات کو الگ الگ خود مختار حصوں (Independent Pieces) میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔

اس نئے انداز، جسے “کٹ فارم” کا نام دیا جا رہا ہے، کے تحت خریداروں اور خواتین کو یہ آزادی حاصل ہوگی کہ وہ الماری میں موجود مختلف اجزا مثلاً پینٹس، سکرٹس، ج جیکٹس اور ٹاپس کو اپنی پسند کے مطابق باہم ملا کر (Mix and Match) ایک نیا لُک تخلیق کر سکیں۔

فیشن ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں:

  • شخصی آزادی: خواتین کو اپنی پسند، موڈ اور مناسبت کے مطابق کپڑے ترتیپ دینے کی خودمختاری ملتی ہے۔
  • معاشی بچت: ایک ہی شے کو مختلف طریقوں سے پہن کر نیا انداز اپنایا جا سکتا ہے، جس سے ہر بار نیا مکمل جوڑا خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
  • پائیداری اور ماحول دوستی: کپڑوں کے بار بار استعمال سے فیشن انڈسٹری کے فضلے میں کمی آتی ہے جو کہ موجودہ دور میں ماحول کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

پیرس فیشن ویک کے ۹ دن: اہم اعداد و شمار اور جھلکیاں

نو دنوں پر محیط اس عالمی میلے نے دنیا بھر کی میڈیا اور فیشن انڈسٹری کی توجہ اپنی جانب مبذول رکھی۔ ایونٹ سے جڑے چند اہم حقائق اور اعداد و شمار مندرجہ ذیل ہیں:

  • دورانیہ: 9 دن (جس کے دوران درجنوں عالمی برندز نے اپنے کلیکشنز پیش کیے)۔
  • شوز کی تعداد: 100 سے زائد کیٹ واک شوز اور پریزنٹیشنز کا انعقاد کیا گیا۔
  • عالمی شخصیات کی شرکت: ہالی ووڈ اداکاراؤں، نامور ماڈلز، اور میوزک انڈسٹری کے ستاروں کی بڑی تعداد نے فرنٹ رو (Front Row) میں شرکت کی۔
  • بنیادی موضوع: اگلی سیزن کے لیے “لچکدار فیشن” (Adaptable Fashion) اور گرمی کے موسم کے لیے ہلکے و ہوا دار کپڑے۔

پس منظر: فیشن انڈسٹری کا بدلتا ہوا مزاج

پیرس فیشن ویک ہمیشہ سے دنیا بھر کے فیشن کے رجحانات (Trends) کا تعین کرنے میں سب سے کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ماضی میں فیشن برانڈز ایسے ملبوسات بناتے تھے جن میں تبادلے کی گنجائش کم ہوتی تھی، اور خریدار کو پورا ڈیزائنر سیٹ ہی خریدنا پڑتا تھا۔

تاہم، حالیہ چند سالوں میں عالمی معاشی اتار چڑھاؤ، افراطِ زر، اور صارفین میں ماحول دوست فیشن کے شعور نے ڈیزائنرز کو اپنا قبلہ درست کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ‘جن زی’ (Gen Z) اور ملینیئل نسل کے خریدار اب ایسے کپڑوں کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ سچویشنز میں کام آ سکیں—چاہے وہ دفتر کا ماحول ہو، کوئی غیر رسمی تقریب ہو یا عام چہل قدمی۔

پیرس کے اس حالیہ ایونٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب لژری (Luxury) فیشن بھی جمود کا شکار رہنے کے بجائے عملیت پسندی (Practicality) اور صارفین کی ضرورت کو اپنا رہا ہے۔

موسمِ بہار اور گرما کے دیگر نمایاں رجحانات

“فیشن ان کٹ فارم” کے علاوہ پیرس کے رن ویز پر آئندہ موسمِ گرما کے لیے کچھ اور اہم رجحانات بھی غالب نظر آئے:

1. ہلکے اور شفاف کپڑے (Sheer Fabrics)

گرمی کے شدید موسم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیزائنرز نے شفون، سلک اور نیٹ جیسے ہلکے اور شفاف کپڑوں کا بکثرت استعمال کیا ہے جو جسم پر بار محسوس نہیں ہونے دیتے اور ہوا کی آمد و رفت کو ممکن بناتے ہیں۔

2. کشادہ اور آرام دہ کٹنگ (Oversized Silhouettes)

تنگ اور غیر آرام دہ کپڑوں کی جگہ اب کشادہ جیکٹس، کھلی پتلونیں اور ڈھیلے ڈھالے انداز غالب آ رہے ہیں، جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ پہنے والے کو راحت کا احساس بھی فراہم کرتے ہیں۔

3. قدرتی اور پیسٹل رنگ (Pastel and Earthy Tones)

آئندہ موسمِ بہار میں تیز رنگوں کے بجائے ملائم پیسٹل رنگوں جیسے کہ ہلکا گلابی، پسے کا سبز، مکھنی سفید اور ہلکا نیلا رنگ الماریوں پر راج کریں گے۔

عالمی مارکیٹ اور صارفین پر اس کے اثرات

پیرس فیشن ویک میں پیش کیے گئے یہ انداز صرف اعلیٰ طبقے کے برانڈز تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ آئندہ چند ماہ کے اندر اندر ہائی سٹریٹ برانڈز اور عام کپڑوں کے سٹورز بھی انہی رجحانات کو کاپی کر کے عام مارکیٹ میں لائیں گے۔

اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہوگا کہ عام خواتین کے لیے آئندہ سیزن میں کپڑوں کا انتخاب زیادہ آسان اور لچکدار ہو جائے گا۔ الگ الگ پیسز کی فراہمی سے خواتین کم بجٹ میں بھی اپنی الماری کو زیادہ تنوع اور رنگارنگی دے سکیں گی۔

ایڈیٹوریل نوٹ

پیرس ویمنز فیشن ویک کا یہ ایڈیشن فیشن کی دنیا میں ایک مثبت اور جدید سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ سلے سلائے مکمل جوڑوں کے بجائے ‘کٹ فارم’ کا انداز اپنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ فیشن انڈسٹری اب محض آرائش تک محدود نہیں رہی بلکہ صارفین کی سہولت، معاشی حقیقتوں اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کو بھی مدِ نظر رکھ رہی ہے۔ آنے والا سیزن خواتین کو اپنی ذاتی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا فیشن خود منتخب کرنے کی کامل آزادی دے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔