Preloader
Passing Out prade held at haripur jail

اہم نکات

  • ہری پور کی سنٹرل جیل کے پی ایس ٹی اے میں 155 نئے بھرتی ہونے والے وارڈرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔
  • نئے وارڈرز نے تین ماہ کے سخت بنیادی تربیتی کورس میں جسمانی مشقیں، جدید اسلحہ چلانے اور مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کی۔
  • تربیت میں پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ساتھ جیل قوانین، نظم و نسق، اسلامی اخلاقیات اور تفسیر القرآن کی خصوصی تعلیم بھی شامل تھی۔
  • تقریب کے مہمان خصوصی آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے کہا کہ محکمے کے نظام کو مزید شفاف اور بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

تعارف

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور میں واقع سنٹرل جیل کے پریزن سٹاف ٹریننگ اکیڈمی (پی ایس ٹی اے) میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تاریخ کا ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ حال ہی میں یہاں ایک انتہائی پروقار اور شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جس میں 155 نئے بھرتی ہونے والے وارڈرز نے تین ماہ پر محیط سخت ترین بنیادی تربیتی کورس کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد عملی میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ اس تقریب کے دوران نہ صرف نئے اہلکاروں کے جوش و خروش کا دیدنی منظر دیکھنے کو ملا بلکہ محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اصلاحی و تربیتی نظام میں اصلاحات کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

پاسنگ آؤٹ پریڈ: تقریب کا احوال اور مہمانِ خصوصی کی آمد

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نئے تربیت یافتہ وارڈرز نے شاندار اور باوقار انداز میں مارچ پاس کرتے ہوئے سلامی پیش کی۔ پریڈ کے دستوں نے جس نظم و ضبط اور چوکسی کا مظاہرہ کیا، اس نے تمام حاضرین اور مہمانوں سے خوب داد وصول کی۔

اس پُروقار تقریب میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات خیبر پختونخوا، ریحان گل خٹک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ ان کی آمد پر اکیڈمی کے اعلیٰ افسران نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ پریڈ کے معائنے کے بعد آئی جی جیل خانہ جات نے پاس آؤٹ ہونے والے جوانوں سے خطاب کیا اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیل کا نظام چلانا ایک انتہائی حساس اور ذمہ دارانہ فریضہ ہے، جہاں عزم، دیانت اور فرض شناسی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

تربیت کا احاطہ: جدید تقاضے اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج

موجودہ دور میں سکیورٹی کے چیلنجز اور جیل خانوں کے اندر سدِ باب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے صرف روایتی تربیت کافی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ 155 زیرِ تربیتی وارڈرز کے لیے تیار کردہ تین ماہ کا یہ نصاب انتہائی جامع اور جدید خطوط پر استوار کیا گیا تھا۔ اس تربیتی کورس کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:

  • جسمانی فٹنس اور مشقیں: جوانوں کو روزانہ کی بنیاد پر سخت جسمانی ورزشیں کروائی گئیں تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے ہم وقت تیار رہیں۔
  • ڈرل اور سلامی کے اصول: پریڈ اور روزمرہ کے امور میں باضابطہ نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے خصوصی ڈرل سیشنز منعقد کیے گئے۔
  • جدید اسلحہ اور فائرنگ: سکیورٹی کے پیش نظر وارڈرز کو جدید ہتھیار چلانے، نشانے بازی اور فائرنگ کی عملی مشقیں کروائی گئیں۔
  • مارشل آرٹس اور دفاعی مہارتیں: ہنگامی حالات، لڑائی جھگڑے یا قیدیوں کی بغاوت کی صورت میں بغیر اسلحے کے دفاع کرنے کے لیے مارشل آرٹس کی خصوصی تربیت دی گئی۔
  • قانونی اور انتظامی امور: جیل کے قوانین، روزمرہ کا نظم و نسق اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق قانونی شقوں پر تفصیلی لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔
  • اخلاقی و دینی تعلیم: تربیت کا سب سے روشن پہلو یہ تھا کہ وارڈرز کو اسلامی اخلاقیات اور تفسیر القرآن کی تعلیم بھی دی گئی تاکہ وہ قیدیوں کے ساتھ انسانی ہمدردی، اخلاق اور رواداری کا رویہ اپنا سکیں۔

محکمہ جیل خانہ جات میں اصلاحات: آئی جی ریحان گل خٹک کا وژن

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی جیل خانہ جات ریحان گل خٹک نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ اور ان کی پوری ٹیم محکمہ جیل خانہ جات کے نظام کو مزید بہتر، شفاف اور جدید بنانے کے لیے شبانہ روز کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیلوں کا مقصد محض مجرموں کو قید کرنا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک کارآمد اور بہتر شہری بنا کر معاشرے میں واپس لوٹانا ہے۔

حالیہ برسوں میں جیلوں کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ اس پس منظر میں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تربیت یافتہ عملہ جیل کے ماحول کو بہتر بنانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب عملہ تربیت یافتہ، اخلاق کا پابند اور قانون سے مکمل آگاہ ہوگا تو جیلوں کے اندر غیر قانونی سرگرمیوں، بدعنوانی اور جرائم کے نیٹ ورک کو توڑنے میں بڑی مدد ملے گی۔

تربیتی نظام کے معاشرے اور نظامِ انصاف پر اثرات

ایک منصفانہ اور مستحکم معاشرے میں نظامِ عدل و انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا نفاذ جیل خانوں کے اندر بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ اس ضمن میں مندرجہ ذیل اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  1. قیدیوں کی اصلاح: جب نئے وارڈرز اسلامی اخلاقیات اور انسانی ہمدردی کے اصولوں سے آراستہ ہو کر جیل میں ڈیوٹی سنبھالتے ہیں، تو اس سے قیدیوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔
  2. سکیورٹی کے مسائل کا خاتمہ: جدید اسلحہ اور مارشل آرٹس کی تربیت یافتہ فورس جیل کے اندر کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا ہنگامے سے فوری اور مؤثر طریقے سے نمٹ سکتی ہے۔
  3. کرپشن کا سدِ باب: پیشہ ورانہ تربیت میں دیانت داری اور قانون کی پاسداری کو اجاگر کرنے سے محکمے میں کالی بھیڑوں کے خاتمے میں مدد ملتی ہے۔
  4. عوامی اعتماد کی بحالی: اس طرح کے اقدامات سے عوام کا ریاست کے سکیورٹی اور اصلاحی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔

نتیجہ اور مستقبل کی سمت

ہری پور سنٹرل جیل کے پی ایس ٹی اے میں منعقد ہونے والی یہ پاسنگ آؤٹ پریڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں جیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔ 155 نئے وارڈرز کی شمولیت سے نہ صرف عملے کی کمی پوری ہوگی بلکہ ایک نئی اور پرعزم نسل عملی میدان میں آکر امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے تربیتی پروگراموں کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق عملے کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا یہ سلسلہ مسلسل جاری رکھا جائے۔