پشاور، خیبر پختونخوا— خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شہریوں کو صاف، مؤثر اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ماحول دوست الیکٹرک رکشوں (e-rickshaws) کا ایک بڑا منصوبہ تیزی سے عمل درآمد کے مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد شہر میں فضائی آلودگی کو کم کرنا اور شہری نقل و حمل (Urban Mobility) کو بہتر بنانا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاسصوبے کے منصوبہ بندی و ترقی (P&D) ڈیپارٹمنٹ نے اس منصوبے کے نفاذ کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اہم پراجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا۔ سیکرٹری پی اینڈ ڈی، عدیل شاہ، کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں منصوبے کی موجودہ پیش رفت اور اسے کامیابی سے چلانے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے ارتقاء کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔کمیٹی کے اراکین نے الیکٹرک رکشوں کو متعارف کرانے کے متوقع فوائد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں شہر میں ایندھن کے استعمال میں کمی اور شور کی آلودگی پر قابو پانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔صاف اور پائیدار نقل و حمل کی جانب قدمحکام نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ای-رکشوں کا یہ منصوبہ پشاور کے رہائشیوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک صاف، مؤثر اور پائیدار حل ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے پیش نظر، اس قسم کے ماحول دوست منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔فضائی آلودگی میں کمی: روایتی رکشوں کے برعکس، الیکٹرک رکشے صفر اخراج (Zero Emission) پیدا کرتے ہیں، جو پشاور کی آلودہ فضا کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔مالی فوائد: یہ رکشے ایندھن پر چلنے والے رکشوں کے مقابلے میں آپریٹنگ لاگت میں کافی کمی لائیں گے، جس سے رکشہ ڈرائیوروں اور مالکان کو مالی ریلیف ملے گا۔بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن: منصوبے کے تحت، پشاور میں الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جائے گا، تاکہ ای-رکشوں کا مؤثر استعمال یقینی ہو سکے۔اجلاس میں پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ، ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے حکام نے بھرپور شرکت کی اور اس اہم منصوبے کو جلد از جلد عوامی استعمال کے لیے تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے شہری پائیداری (Urban Sustainability) اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔SEO کلیدی الفاظ (Keywords):پشاور، الیکٹرک رکشہ، ای-رکشہ، ماحول دوست نقل و حمل، خیبر پختونخوا ٹرانسپورٹ، فضائی آلودگی پشاور، پائیدار سفری سہولیات، شہری نقل و حمل، زیرو ایمیشن گاڑیاں، پشاور ترقیاتی منصوبہ۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Share this: Share on Facebook (Opens in new window) Facebook Share on X (Opens in new window) X Share on WhatsApp (Opens in new window) WhatsApp Share on Reddit (Opens in new window) Reddit Share on Threads (Opens in new window) Threads Share on Telegram (Opens in new window) Telegram Share on Tumblr (Opens in new window) Tumblr Share on Bluesky (Opens in new window) Bluesky Share on Nextdoor (Opens in new window) Nextdoor Share on Mastodon (Opens in new window) Mastodon Share on LinkedIn (Opens in new window) LinkedIn Share on Pinterest (Opens in new window) Pinterest Email a link to a friend (Opens in new window) Email Print (Opens in new window) Print Like this:Like Loading…Related Post navigationبلوچستان بھر میں مسافر بس سروس تین دن کے لیے معطل پاکستانی کافی شاپ ‘لونا’ پر بین الاقوامی برانڈ کی نقل کا الزام، عدالت میں کارروائی کا آغاز