اہم نکات (خلاصہ) واقعہ: کے ٹی این نیوز کے رپورٹر عظیم سیال پراسرار طور پر لاپتہ، اہلِ خانہ سے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ۔ احتجاج: سندھ پریس کلب جیکب آباد اور صحافی برادری کی جانب سے پریس کلب کے باہر شدید نعرے بازی اور احتجاجی مظاہرہ۔ مطالبہ: حکومتِ سندھ، آئی جی سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے صحافی کی فوری، بحفاظت بازیابی اور اغوا کاروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ۔ تشویش: صحافتی تنظیموں نے صوبے میں صحافیوں کی عدم تحفظ کی صورتحال اور کچے کے علاقوں میں بدامنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ جیکب آباد میں صحافی برادری سڑکوں پر سندھ کے ضلع جیکب آباد میں صحافتی برادری نے سینئر صحافی اور کے ٹی این نیوز کے نمائندے عظیم سیال کے مبینہ اغوا اور ان کے اہل خانہ سے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیے جانے کے صدمہ انگیز واقعے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے ہاتھ میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر صحافیوں کے تحفظ اور مظلوم کی بحفاظت بازیابی کے حق میں نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت سندھ پریس کلب کے عہدیداروں اور سینئر صحافیوں نے کی، جس میں نہ صرف مقامی میڈیا کے نمائندوں بلکہ سول سوسائٹی اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آزادانہ صحافت پر حملے اور صحافیوں کی جان و مال کو درپیش خطرات اب برداشت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ واقعے کا پس منظر اور تاوان کا مطالبہ دستیاب معلومات کے مطابق، صحافی عظیم سیال گزشتہ چند دنوں سے پراسرار طور پر لاپتہ تھے، جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو نا معلوم افراد کی جانب سے ایک فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والوں نے دعویٰ کیا کہ عظیم سیال ان کی تحویل میں ہیں اور ان کی صحیح سلامت رہائی کے عوض ایک کروڑ روپے کی رقم تاوان کی مد میں ادا کی جائے۔ اس بھاری رقم کے مطالبے کے بعد نہ صرف متاثرہ خاندان شدید ذہنی اور نفسیاتی کرب کا شکار ہے بلکہ جیکب آباد سمیت پورے سندھ کی صحافی برادری میں خوف و ہراس اور شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عظیم سیال طویل عرصے سے خطے میں درپیش عوامی مسائل، بدامنی، اور انتظامی کوتاہیوں پر جرات مندانہ رپورٹنگ کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کا اغوا ان کی صحافتی خدمات کا بدلہ ہو سکتا ہے۔ پریس کلب کا موقف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل سندھ پریس کلب جیکب آباد کے رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک صحافی کا دن دہاڑے اغوا ہونا اور اس کے بعد بھاری تاوان کا مطالبہ کیا جانا صوبائی انتظامیہ اور پولیس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ پریس کلب کی انتظامیہ نے واضح کیا کہ صحافی سماج کا آئرنہ ہوتے ہیں اور ان پر حملہ دراصل آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ پولیس، اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ: فوری آپریشن: جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے صحافی عظیم سیال کا سراغ لگایا جائے اور انہیں بلا تاخیر بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ عناصر کا قلع قمع: واقعے میں ملوث عناصر اور تاوان مانگنے والے گروہ کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ اہلِ خانہ کی حفاظت: متاثرہ صحافی کے اہل خانہ کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ وہ مزید ہراسانی سے محفوظ رہ سکیں۔ سندھ میں صحافیوں کی سیکیورٹی اور کچے کے حالات سندھ کا بالائی خطہ، بالخصوص شکارپور، کشمور، اور جیکب آباد جیسے اضلاع، ماضی میں بھی کچے کے ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کی کارروائیوں کا مرکز رہے ہیں۔ ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال انتہائی حساس ہے، جہاں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافی بھی مسلسل خطرات کی زد میں رہتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق، صحافیوں پر تشدد، دھمکیاں اور اغوا برائے تاوان جیسے واقعات کی وجہ سے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ جب صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران غیر محفوظ ہوں گے تو معاشرے میں شفافیت اور احتساب کا نظام کمزور پڑ جائے گا۔ مستقبل کا لائحہ عمل اور الٹی میٹم احتجاجی مظاہرے کے اختتام پر صحافی برادری نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اگر اگلے 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر عظیم سیال کو بحفاظت بازیاب نہ کرایا گیا اور ملزمان کی گرفتاری میں پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کے دائرہ کار کو پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔ پریس کلب کے رہنماؤں نے تنبیہ کی کہ صحافی برادری مرحلہ وار تحریک چلائے گی جس میں کام کا بائیکاٹ، صوبائی اسمبلی کے باہر دھرنا، اور تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر مظاہرے شامل ہوں گے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ سچ کی آواز کو دبانے اور خوف کی فضا قائم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔ Post navigation جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف احتجاج