google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Protocol of JD Vance

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ دورہِ اسلام آباد نے جہاں سیاسی میدان میں ہلچل مچا رکھی ہے، وہی گاڑیوں کے شوقین افراد (Petrolheads) کی توجہ ان کے اس شاہانہ اور انتہائی محفوظ قافلے نے حاصل کر لی ہے جو اسلام آباد کی سڑکوں پر دیکھا گیا۔ پاک ویلز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر کی سیکیورٹی کے لیے خاص طور پر لائی گئی آرمرڈ شیورلیٹ سبربن (Armored Chevrolet Suburban) کی قافلے میں موجودگی اس وقت سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

قافلے کی خاص بات: شیورلیٹ سبربن (The Beast of SUVs)

امریکی نائب صدر کے قافلے میں شامل شیورلیٹ سبربن کوئی عام ایس یو وی نہیں ہے، بلکہ اسے ایک “چلتا پھرتا قلعہ” کہا جاتا ہے۔ اس گاڑی کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • اعلیٰ درجے کی سیکیورٹی: یہ گاڑی بی 7 (B7) لیول کی آرمرنگ سے لیس ہے، جو اسے اسالٹ رائفلز، دستی بموں اور چھوٹے پیمانے کے دھماکوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
  • مخصوص مواصلاتی نظام: گاڑی کے اندر سیٹلائٹ کے ذریعے براہِ راست وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سے رابطے کا جدید ترین نظام موجود ہے۔
  • بیک اپ سسٹم: دھماکے کی صورت میں بھی گاڑی کے ٹائر (Run-flat tires) اسے میلوں دور تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ اس کا اپنا آکسیجن سپلائی سسٹم کیمیائی حملوں سے بچاؤ فراہم کرتا ہے۔

امریکی صدر اور نائب صدر کا پروٹوکول

عام طور پر امریکی صدر ‘دی بیسٹ’ (The Beast) نامی کیڈیلک لیموزین استعمال کرتے ہیں، تاہم نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کے لیے شیورلیٹ سبربن کا انتخاب کیا جاتا ہے کیونکہ یہ گاڑی کچی سڑکوں اور مشکل راستوں پر بھی بہترین کارکردگی دکھاتی ہے۔ اسلام آباد میں اس قافلے کے ساتھ مقامی سیکیورٹی اداروں کی گاڑیاں اور جامرز (Jammers) سے لیس گاڑیاں بھی شامل تھیں تاکہ کسی بھی قسم کے ریموٹ کنٹرول حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔

پاک ویلز کا تجزیہ: پاکستان میں ایسی گاڑیاں کیوں نہیں؟

پاک ویلز کی رپورٹ میں یہ بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ حکام کے لیے ٹویوٹا لینڈ کروزر اور مرسڈیز بینز کو ترجیح دی جاتی ہے، لیکن امریکی حکام اپنی مقامی طور پر تیار کردہ شیورلیٹ اور کیڈیلک گاڑیوں پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ جے ڈی وینس کے قافلے میں شامل ان گاڑیوں کو خصوصی کارگو طیاروں کے ذریعے امریکہ سے پاکستان لایا گیا تھا۔


سیکیورٹی اور طاقت کا سنگم

جے ڈی وینس کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی لحاظ سے اہم ہے بلکہ اسلام آباد کی سڑکوں پر امریکی انجینئرنگ اور سیکیورٹی کا ایک شاندار مظاہرہ بھی ثابت ہوا۔ شائقینِ کار کے لیے یہ گاڑیاں کسی عجوبے سے کم نہیں تھیں، جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے مثال مضبوطی کا امتزاج ہیں۔

جے ڈی وینس کے قافلے میں صرف آرمرڈ شیورلیٹ سبربن ہی شامل نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ گاڑیوں کا ایک پورا “اسکواڈرن” موجود تھا، جن میں سے ہر گاڑی ایک مخصوص مشن کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ امریکی خفیہ سروس (Secret Service) کے پروٹوکول کے مطابق، اس قافلے کا مقصد نائب صدر کو ایک ‘ناقابلِ تسخیر حصار’ فراہم کرنا ہے۔

1. الیکٹرانک کاؤنٹر میژر گاڑی (The Jammer)

قافلے کے درمیان میں موجود ایک کالی رنگ کی فورڈ یا شیورلیٹ وین سب سے اہم سمجھی جاتی ہے، جس کی چھت پر بڑے انٹینا نصب ہوتے ہیں:

  • تکنیکی کام: یہ گاڑی بلند ترین فریکوئنسی کے حامل سگنلز خارج کرتی ہے جو قریبی علاقے میں موجود تمام سیل فون سروسز اور ریموٹ کنٹرول سگنلز کو بلاک کر دیتی ہے۔
  • مقصد: اس کا بنیادی مقصد سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بموں (IEDs) کو پھٹنے سے روکنا ہے۔

2. مواصلاتی کنٹرول گاڑی (Roadwatch)

اس گاڑی کو قافلے کا “دماغ” کہا جاتا ہے۔ اس کے اندر جدید ترین سیٹلائٹ ڈشز لیس ہوتی ہیں:

  • خصوصیت: یہ گاڑی مسلسل وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی روم اور فضا میں موجود امریکی ڈرونز یا سیٹلائٹس سے منسلک رہتی ہے۔
  • ڈیٹا ٹرانسمیشن: اگر قافلے کے راستے میں کوئی غیر معمولی حرکت محسوس ہو، تو یہ گاڑی فوری طور پر پورے قافلے کو راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔

3. ‘کیٹ’ (Counter Assault Team – CAT) گاڑیاں

ان گاڑیوں میں امریکی خفیہ سروس کے سب سے ایلیٹ کمانڈوز سوار ہوتے ہیں:

  • اسلحہ: یہ گاڑیاں بھاری خودکار ہتھیاروں، اسموک گرنیڈز اور نائٹ ویژن آلات سے لیس ہوتی ہیں۔
  • پوزیشن: یہ گاڑیاں نائب صدر کی گاڑی کے عین پیچھے اور اطراف میں رہتی ہیں تاکہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری جوابی کارروائی (Suppressing Fire) کی جا سکے۔

4. ایمبولینس اور طبی سہولیات

امریکی پروٹوکول کے تحت، نائب صدر کے قافلے میں ہمیشہ ایک طبی گاڑی شامل ہوتی ہے جس میں:

  • خون کا ذخیرہ: نائب صدر کے بلڈ گروپ کے مطابق خون کی بوتلیں ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔
  • منی آئی سی یو: اس گاڑی میں وہ تمام طبی آلات موجود ہوتے ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زندگی بچانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

5. فالو اپ اور سپارٹ گاڑیاں

قافلے کے بالکل آخر میں لوکل سیکیورٹی (پاکستانی پولیس اور رینجرز) کی گاڑیاں ہوتی ہیں جو ٹریفک کو کنٹرول کرنے اور عقب سے آنے والے کسی بھی خطرے پر نظر رکھنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔


خلاصہ: ایک ‘متحرک قلعہ’

امریکی نائب صدر کا قافلہ محض گاڑیوں کی قطار نہیں بلکہ ایک موبائل کمانڈ سینٹر ہوتا ہے۔ ان تمام گاڑیوں کی مجموعی قیمت کروڑوں ڈالرز میں ہے اور ان کا آپریٹنگ سسٹم اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے ہیک کرنا یا ناکام بنانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ اسلام آباد میں اس قافلے کی نقل و حرکت نے سیکیورٹی کے عالمی معیار کا ایک عملی نمونہ پیش کیا ہے۔

About The Author

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025