اسلام آباد/نئی دہلی، 20 فروری 2026 — جنوبی ایشیا میں ایٹمی طاقت کے حامل دو پڑوسی ممالک، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ایک بار پھر انتہائی کشیدہ موڑ پر آ گئے ہیں۔ حالیہ تنازعہ پاک فضائیہ (PAF) کے ایک خصوصی طیارے، گلف اسٹریم جی 450 (Gulfstream G450)، کو بھارتی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکنے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) کے قانونی و دفاعی مسائل سے شروع ہوا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو متاثر کیا ہے بلکہ بین الاقوامی ہوا بازی کے قوانین اور علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!واقعے کا پس منظر: آسمانوں پر تناؤ کی نئی لہر
رپورٹس کے مطابق، فروری 2026 کے وسط میں پاک فضائیہ کا ایک گلف اسٹریم جی 450 طیارہ، جو کہ عام طور پر وی آئی پی نقل و حمل یا خصوصی مشنز کے لیے استعمال ہوتا ہے، ایک طے شدہ پرواز پر تھا جس کے لیے اسے بھارتی فضائی حدود (Indian Airspace) سے گزرنا تھا۔ تاہم، بھارتی حکام نے آخری لمحے پر طیارے کو اپنی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے باعث طیارے کو طویل متبادل راستہ اختیار کرنا پڑا۔
بھارتی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور وزارتِ دفاع کا موقف ہے کہ یہ طیارہ محض ایک مسافر بردار جہاز نہیں تھا بلکہ اس میں نصب جدید سینسرز اور الیکٹرانک آلات بھارتی دفاعی تنصیبات کی جاسوسی کر سکتے تھے۔ دوسری جانب، پاکستان نے اس اقدام کو بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے معاہدوں (خصوصاً شکاگو کنونشن) کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے بھارت کی “سٹریٹجک بدمعاشی” قرار دیا ہے۔
گلف اسٹریم جی 450: ایک طیارہ یا اڑتا ہوا جاسوس؟
اس پورے تنازعے کی جڑ میں وہ طیارہ ہے جسے بھارت نے بلاک کیا ہے۔ گلف اسٹریم جی 450 اگرچہ بظاہر ایک بزنس جیٹ ہے، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق پاک فضائیہ کے بیڑے میں شامل یہ طیارے جدید ترین الیکٹرانک انٹیلی جنس (ELINT) اور سگنل انٹیلی جنس (SIGINT) کے آلات سے لیس ہو سکتے ہیں۔
بھارتی دفاعی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ:
- یہ طیارہ بھارتی سرحد کے قریب پرواز کرتے ہوئے بھارتی ریڈارز، کمیونیکیشن فریکوئنسیز اور دفاعی نیٹ ورکس کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان ان طیاروں کو بھارتی فضائیہ (IAF) کی نئی تنصیبات، جیسے کہ حال ہی میں حاصل کردہ ‘ایس-400’ میزائل سسٹمز اور نئے ایئر بیسز کی میپنگ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طیارہ ایک معمول کی سفارتی پرواز پر تھا اور اس میں کوئی ایسا آلہ نصب نہیں تھا جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہو۔
ایف آئی آر (FIR) کا تنازعہ اور قانونی پیچیدگیاں
اس واقعے نے فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) کے انتظام پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت، ہر ملک کو اپنی فضائی حدود کا کنٹرول حاصل ہوتا ہے، لیکن ٹرانزٹ پروازوں (ایک ملک سے دوسرے ملک جانے والی پروازیں جو تیسرے ملک کی فضا استعمال کریں) کے لیے کچھ عالمی ضابطے موجود ہیں۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان فضائی حدود کا تنازعہ نیا نہیں ہے۔ 2019 میں بالاکوٹ واقعے کے بعد پاکستان نے کئی مہینوں تک اپنی فضائی حدود بھارت کے لیے بند رکھی تھی، جس سے عالمی ایوی ایشن کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ اب 2026 میں، بھارت کی جانب سے پاک فضائیہ کے طیارے پر پابندی نے “جوابی کارروائی” (Tit-for-tat) کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت پاک فضائیہ کے طیاروں پر پابندی برقرار رکھتا ہے، تو پاکستان بھی بھارتی فوجی اور سرکاری پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر سکتا ہے۔ اس سے بھارت کی وسطی ایشیا اور یورپ کے لیے پروازیں شدید متاثر ہوں گی۔
علاقائی سکیورٹی اور ‘کولڈ وار’ کا نیا رخ
یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کئی دیگر واقعات نے ماحول گرم کر رکھا ہے۔ حال ہی میں آگرہ کے ایئر بیس میں پی آئی اے کے نشان والا غبارہ ملنا اور سرحدوں پر ڈرونز کی نقل و حرکت میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں کو جانچنے (Testing) کے عمل میں مصروف ہیں۔
بھارت کی جانب سے امریکہ سے مزید P-8I پوسیڈن طیاروں کی خریداری اور پاکستان کی جانب سے اپنے الیکٹرانک وارفیئر بیڑے کی جدید کاری نے ایک نئی “خاموش جنگ” چھیڑ دی ہے۔ فضاؤں میں ہونے والی یہ کشمکش محض طیاروں کی آمد و رفت تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ریڈارز، جامرز اور سائبر وارفیئر کا ایک پیچیدہ کھیل بن چکی ہے۔
بین الاقوامی ہوا بازی پر اثرات
اگر یہ تنازعہ مزید طول پکڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف فوجی پروازوں تک محدود نہیں رہیں گے۔
- ایندھن کے اخراجات: اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے فضائی حدود بند کرتے ہیں، تو بین الاقوامی ایئر لائنز کو طویل راستے اختیار کرنے پڑیں گے، جس سے ایندھن کے اخراجات اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
- ایوی ایشن سیفٹی: ایف آئی آر (FIR) میں تعاون کی کمی کے باعث فضا میں طیاروں کے درمیان فاصلے اور کنٹرول کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو کہ فلائٹ سیفٹی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
- سفارتی تعطل: یہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ممکنہ مذاکراتی عمل کو مزید مشکل بنا دے گا۔
دفاعی ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ “بھارت کا یہ اقدام اشتعال انگیز ہے اور بین الاقوامی فضائی قوانین کے تحت ٹرانزٹ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کی ایک دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے۔”
دوسری طرف، بھارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سکیورٹی کے حوالے سے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ “پاک فضائیہ کے خصوصی طیاروں کا بھارتی دفاعی حدود کے اتنے قریب آنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔”
مستقبل کا منظرنامہ: کیا جنگ کا خطرہ ہے؟
اگرچہ فی الحال یہ تنازعہ صرف “فضائی حدود کی پابندی” تک محدود ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں چھوٹے چھوٹے واقعات اکثر بڑی جنگوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی شہری ہوا بازی کی تنظیم (ICAO) کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ دونوں ممالک کو ایک طے شدہ فریم ورک پر لایا جا سکے جہاں فوجی اور سول پروازوں کے حقوق واضح ہوں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھائے گی، جبکہ بھارتی وزارتِ دفاع نے اپنی سرحدوں اور فضائی حدود کی “حفاظت” کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
نتیجہ
2026 کا یہ “ایئر اسپیس اسٹینڈ آف” (Airspace Standoff) اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں جنگیں اب صرف زمین پر نہیں بلکہ آسمانوں کے ان دیکھے حصوں میں لڑی جا رہی ہیں۔ گلف اسٹریم جی 450 کا واقعہ محض ایک طیارے کا راستہ روکے جانے کی خبر نہیں ہے، بلکہ یہ اس عدم اعتماد کی عکاسی ہے جو دہائیوں سے ان دو پڑوسیوں کے درمیان موجود ہے۔ آنے والے دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا دونوں ممالک سفارتی حل تلاش کرتے ہیں یا آسمانوں پر یہ نئی ‘سرد جنگ’ ایک بڑے شعلے میں بدل جاتی ہے۔
کیا آپ اس حوالے سے پاکستان یا بھارت کے کسی سرکاری ردعمل کی تفصیلات جاننا چاہیں گے؟
