اہم نکات (خلاصہ) طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب: حیسکو (HESCO) سب ڈویژن گلشن شہباز، جامشورو میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 گھنٹے تک پہنچ گیا ہے، جس سے وزیراعظم پاکستان کے احکامات ہوا میں اڑا دیے گئے ہیں۔ ٹرانسفارمرز کا مبینہ ’ٹھیکہ نظام‘: ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق حیسکو افسران اور اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹرانسفارمرز پرائیویٹ افراد کو ٹھیکے پر دیے گئے ہیں، جہاں سے بھاری ماہانہ بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ بجلی چوری اور جعلی میٹرز: پرائیویٹ افراد کی جانب سے 1,500 سے 5,000 روپے فی کنکشن لے کر کنڈا سسٹم اور جعلی میٹرز کے ذریعے بجلی چوری کرائی جا رہی ہے۔ صارفین پر اضافی بوجھ: بجلی چوری کا خسارہ باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو ڈیڈکشن بلوں کی صورت میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر) — حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کی انتظامی نااہلی، مبینہ کرپشن اور عملے کی باہمی ملی بھگت کے باعث ضلع جامشورو کے علاقے سب ڈویژن گلشن شہباز اور اس سے ملحقہ آبادیوں میں طاقت کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ روزانہ 18 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث نہ صرف شہریوں کی معمولاتِ زندگی معطل ہو کر رہ گئے ہیں بلکہ مقامی کاروبار بھی شدید تباہی کا شکار ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب وفاقی حکومت اور وزیراعظم پاکستان کی جانب سے واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ملک کے کسی بھی حصے میں صارفین کو بلاوجہ طویل لوڈشیڈنگ کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ تاہم، گلشن شہباز میں حیسکو حکام ان تمام سرکاری احکامات اور پالیسیوں کو یکسر نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کرپشن کا مبینہ نیٹ ورک: ٹرانسفارمرز کا پرائیویٹ ٹھیکہ اور غیر قانونی وصولیاں ذرائع اور مقامی شہریوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، سب ڈویژن گلشن شہباز کی حدود میں قائم حیسکو کا نظام مکمل طور پر ایک غیر قانونی اور غیر رسمی نیٹ ورک کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ الزام عائد کیا گیا ہے کہ سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) اور ایکسیئن (XEN) کی مبینہ سرپرستی میں گزشتہ کئی سالوں سے بجلی کے ٹرانسفارمرز پرائیویٹ افراد اور بااثر لینڈ مافیا کو ‘ٹھیکے’ پر الاٹ کیے گئے ہیں۔ اس غیر قانونی انتظام سے ہونے والی مالی وصولیوں کا تخمینہ درج ذیل اہم نکات میں دیکھا جا سکتا ہے: افسران کی ماہانہ آمدن: ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پرائیویٹ ٹھیکیداروں سے فی ٹرانسفارمر 50,000 روپے ماہانہ ایس ڈی او اور دیگر بالا افسران تک پہنچائے جاتے ہیں۔ لائن مین کی علیحدہ کٹوتی: ایریا لائن مین کی سطح پر فی ٹرانسفارمر 10,000 سے 15,000 روپے کی رقم الگ سے وصول کی جاتی ہے۔ کنڈا کنکشن کی شرح: ٹھیکیداروں کے تعینات کردہ پرائیویٹ لائن مین عام شہریوں اور غیر قانونی تجاوزات سے فی کنکشن 1,500 روپے سے 5,000 روپے تک رشوت لے کر کنڈا سسٹم فراہم کرتے ہیں۔ اس منظم نیٹ ورک کے نتیجے میں وہ تمام افراد جو چند سال قبل معاشی طور پر مستحکم نہیں تھے، آج مبینہ طور پر لاکھ پتی بن چکے ہیں، جبکہ حیسکو کا سرکاری نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ متاثرہ علاقے اور بجلی چوری کا جغرافیہ جامشورو کی سب ڈویژن گلشن شہباز سے منسلک متعدد آبادیوں میں بجلی چوری کا یہ سلسلہ انتہائی منظم انداز میں جاری ہے۔ جن علاقوں میں بجلی چوری اور سرپرستی کے گٹھ جوڑ کی سب سے زیادہ شکایات سامنے آئی ہیں، ان میں شامل ہیں: خدا کی بستی خورشید کالونی بھٹائی کالونی غوثیہ کالونی گاڑھو گوٹھ سکندر آباد کالونی خاصخیلی گوٹھ خانزادہ کالونی ان تمام کالونیوں میں حیسکو کے نچلے عملے کی آنکھ پوشی اور پرائیویٹ ٹھیکیداروں کی سرگرمیوں کے باعث بلا خوف و خطر بجلی چوری کی جا رہی ہے۔ بعض مقامات پر نہ صرف کنڈا سسٹم استعمال ہو رہا ہے بلکہ بجلی کے پولز پر جعلی اور بائی پاس میٹرز بھی نصب کیے گئے ہیں جن کے ذریعے بجلی کا استعمال کھلے عام جاری ہے اور اسے لائن لاسز میں ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ شریف اور قانونی صارفین پر ‘ڈیڈکشن بلوں’ کا عذاب حیسکو کی اس مبینہ کرپشن اور بجلی چوری کی تمام تر قیمت ان میٹر صارفین کو ادا کرنا پڑ رہی ہے جو باقاعدگی سے اپنے ماہانہ بل ادا کرتے ہیں۔ بجلی چوری کے باعث پیدا ہونے والے تکنیکی و مالیاتی خسارے (Line Losses) کو پورا کرنے کے لیے حیسکو انتظامیہ باقاعدہ صارفین کو ‘ڈیڈکشن بلز’ (Detection Bills) کے نام پر ہزاروں روپے کے اضافی بل بھیج دیتی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف انہیں 18, 18 گھنٹے کی طویل لوڈشیڈنگ برداشت کرنا پڑتی ہے تو دوسری طرف ہر ماہ ہزاروں روپے کے اضافی اور فرضی بل تھما دیے جاتے ہیں۔ اس دوہرے عذاب نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ کاروباری طبقہ تباہ اور عوامی زندگی معطل 18 گھنٹے کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث گلشن شہباز اور اس کے گرد و نواح کی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ چھوٹے دکاندار، ورکشاپ مالکان، اور تجارتی مراکز بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکول جانے والے بچوں، مریضوں اور بزرگوں کو شدید گرمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مساجد میں وضو اور پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، کیونکہ واٹر سپلائی اور موٹریں بجلی کی غیر موجودگی کے باعث کام نہیں کر رہیں۔ چھاپہ مار ٹیموں کی ناکامی اور پیشگی اطلاعات کا الزام وزارتِ پانی و بجلی اور نیپرا (NEPRA) کی جانب سے وقت فوقتاً بجلی چوری کی روک تھام کے لیے چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہیں۔ تاہم، مقامی شہریوں اور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ٹیمیں عملی طور پر بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ الزام ہے کہ چھاپہ مار ٹیموں کی آمد سے قبل ہی حیسکو کے مقامی افسران پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو باخبر کر دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے تمام غیر قانونی کنڈے اور بائی پاس کنکشن عارضی طور پر ہٹا دیے جاتے ہیں اور علاقہ ‘کلیئر’ دکھا دیا جاتا ہے۔ تفتیشی ٹیموں کے جانے کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ کنڈے دوبارہ بحال کر دیے جاتے ہیں۔ بیشتر اوقات یہ ٹیمیں صرف افسران کے دفاتر یا مقامی ہوٹلوں تک محدود رہ کر زبانی جمع خرچ کے بعد واپس لوٹ جاتی ہیں۔ قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان اور چیف حیسکو سے اپیل اس تمام صورتحال کے نتیجے میں جہاں ایک طرف حیسکو کے چند کرپٹ افسران اور پرائیویٹ ٹھیکیداروں کے بینک بیلنس میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں دوسری طرف قومی خزانے کو سالانہ کروڑوں روپے کا شدید مالی ٹیکہ لگ رہا ہے۔ حیسکو چیف اور بالادست حکام کی اس تمام معاملے پر خاموشی اور عدم توجہی پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ گلشن شہباز، جامشورو کے رہائشیوں اور کاروباری تنظیموں نے وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن)، نیپرا انتظامیہ اور وزیراعظم پاکستان سے پرزور اپیل کی ہے کہ: طویل لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ: علاقے میں 18 گھنٹے کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کا فوراً خاتمہ کیا جائے اور حکومتی پالیسی کے مطابق بجلی فراہم کی جائے۔ شفاف اور آزادانہ انکوائری: سب ڈویژن گلشن شہباز میں ٹرانسفارمرز کے پرائیویٹ ٹھیکوں، جعلی میٹرز اور کنڈا سسٹم کی اعلیٰ سطحی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ محکمہ جاتی اور قانونی کارروائی: بجلی چوری اور کرپشن میں ملوث حیسکو افسران، ایس ڈی او، ایکسیئن اور فیلڈ اسٹاف کے خلاف سخت قانون کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جائے۔ اگر اعلیٰ حکام نے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو علاقہ مکینوں نے شدید احتجاجی مظاہروں اور انڈس ہائی وے کو بلاک کرنے کی انتباہی دھمکی دی ہے۔ Post navigation صوبائی محتسب اعلیٰ کے ریجنل ڈائریکٹر علی اکبر جاگرانی کا جمس ہسپتال جیکب آباد کا مفصل دورہ، طبی سہولیات کا جائز ہ