📌 اہم نکات (خلاصہ) تاریخی بحالی: جامشورو کے شہر کوٹری میں 22 دسمبر 1846ء کو تعمیر کیے گئے 180 سالہ قدیم تاریخی چرچ کی جامع تزئین و آرائش اور اصل طرزِ تعمیر کے مطابق بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا۔ مشترکہ افتتاح: ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید اور صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے ایک پروقار تقریب میں چرچ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ بین المذاہب ہم آہنگی: تقریب کے شرکاء نے اس اقدام کو پاکستان بالخصوص سندھ میں مذہبی رواداری، بھائی چارے اور اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کی عملی مثال قرار دیا۔ ثقافتی ورثے کا تحفظ: محکمہ نوادرات سندھ اور مقامی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے عمارت کے تاریخی ڈھانچے اور نوادرات کو محفوظ بنایا گیا تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تاریخ سے جڑی رہیں۔ تاریخی ورثے کی سحر انگیز بحالی: پس منظر اور پیش رفت سندھ کی دھرتی صدیوں سے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب کا امین رہی ہے۔ یہاں کی مٹی میں رواداری، صوفیانہ فکر اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جڑیں نہایت گہری ہیں۔ اسی تاریخی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، ضلع جامشورو کے اہم صنعتی و تاریخی شہر کوٹری میں واقع 180 سال قدیم تاریخی چرچ کو اس کی اصل شاندار حالت میں بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی چرچ برطانوی دورِ حکومت میں 22 دسمبر 1846ء کو تعمیر کیا گیا تھا۔ پچھلی دو صدیوں کے دوران موسمی اثرات، دیکھ بھال کی کمی اور وقت کی برد برد کی وجہ سے یہ عمارت شدید خستہ حالی کا شکار ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے اس کے تاریخی وجود کو خطرات لاحق تھے۔ مقامی مسیحی برادری اور مورخین کی جانب سے عرصے سے اس عمارت کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات نے اس قدیم عمارت کی تاریخی و معماری اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سائنسی و فنی بنیادوں پر بحالی کا منصوبہ تیار کیا۔ بحالی کے تمام تر عمل میں اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ عمارت کا بنیادی فنِ تعمیر، محرابیں، دیواریں اور قدامت کا احساس متاثر نہ ہو۔ ماہرینِ نوادرات کی نگرانی میں کام مکمل ہونے کے بعد اب یہ چرچ ایک بار پھر اپنی پوری تاریخی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ پروقار افتتاحی تقریب اور معزز مہمان گرامی چرچ کی بحالی اور تزئین و آرائش کی مکمل ہونے کی خوشی میں ایک پروقار اور پرجلوس افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی قیادت، انتظامی افسران، اور مذہبی رہنماؤ ں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کی صدارت اور افتتاح مشترکہ طور پر ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید اور صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات سید ذوالفقار علی شاہ نے کیا۔ تقریب کے نمایاں شرکاء: انتھونی نوید (ڈپٹی اسپیکر، سندھ اسمبلی) سید ذوالفقار علی شاہ (صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت و نوادرات) حنا دستگیر (رکن سندھ اسمبلی) ڈاکٹر سکندر علی شورو (رکن سندھ اسمبلی) فیاض حسین عباسی (کمشنر حیدرآباد ڈویژن) غضنفر علی قادری (ڈپٹی کمشنر جامشورو) بشپ کلیم جون (حیدرآباد ڈایوسیس) پادری شعیب (انچارج کوٹری چرچ) تقریب کا باقاعدہ آغاز روایتی سندھی مہمان نوازی سے ہوا، جہاں چرچ کے انچارج پادری شعیب نے تمام معزز مہمانوں کو سندھی ثقافت کی پہچان اجرک اور پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ رہنماؤں کے خطاب: بین المذاہب رواداری اور حکومت کے عزم کا اعادہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے سندھ میں مذہبی ہم آہنگی کی اہمیت اور اقلیتوں کے حقوق کی تحفظ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ 1. ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کا بیان: ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا: “کوٹری کا یہ چرچ 1846ء کا ایک اہم تعمیراتی شاہکار ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ عمارت خستہ حال ہو چکی تھی، لیکن ہماری ترجیح یہ تھی کہ اس کی اصل بنیادوں اور طرزِ تعمیر کو چھیڑے بغیر اسے نئی زندگی دی جائے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت صوبے میں مساوات، مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ مکمل امن، محبت اور باہمی احترام کے ساتھ رہ رہے ہیں۔” 2. صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا موقف: صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت نے سندھ حکومت کے ویژن کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: “سندھ کی حکومت صوبے کے تمام تاریخی اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔ چاہے وہ ہندو برادری کے مندر ہوں، مسیحی برادری کے چرچ ہوں یا دیگر اقلیتوں کی مقدس جگہیں۔ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ اقلیتی برادریوں کے ساتھ محبت، احترام اور مساوی سلوک کو یقینی بنانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔” 3. مقامی نمائندوں اور انتظامیہ کا نقطہ نظر: رکن اسمبلی ڈاکٹر سکندر علی شورو نے کہا کہ یہ چرچ صرف ایک مذہبی عبادت گاہ نہیں بلکہ کوٹری کا ایک انمول تاریخی اثاثہ ہے، جس کی بحالی پر مقامی آبادی حکومت کی مشکور ہے۔ کمشنر حیدرآباد فیاض حسین عباسی نے تکنیکی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تاریخی عمارتوں کی اصل حالت میں بحالی ایک پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ اس عمارت کی حفاظت سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے تاریخی ورثے سے جوڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بشپ کلیم جون (حیدرآباد ڈایوسیس) نے تمام مسیحی برادری کی طرف سے سندھ حکومت اور محکمہ نوادرات کے اس اقدام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے لیے ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا قدم قرار دیا۔ تاریخی عمارت کے کلیدی اعداد و شمار اور حقائق کوٹری چرچ کی تاریخ اور موجودہ بحالی کے منصوبے کے اہم نکات درج ذیل ہیں: تفصیلات / نکاتکیٹیگری / معلوماتتعمیر کا سال22 دسمبر 1846ء (برطانوی دور)کل عمر180 سالمقامکوٹری، ضلع جامشورو، سندھمنصوبے کا مقصداصل طرزِ تعمیر کی حفظ و بقا اور مذہبی ورثے کا تحفظسرپرست ادارہمحکمہ ثقافت، سیاحت و نوادرات، حکومتِ سندھمستفیدینمقامی مسیحی برادری، مورخین، اور سیاح تجزیہ اور اثرات: یہ بحالی کیوں اہم ہے؟ کوٹری کے اس 180 سالہ قدیم چرچ کی بحالی محض ایک اینٹ اور پتھر کی عمارت کو درست کرنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے سماجی، ثقافتی اور بین الاقوامی سطح پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ 1. مذہبی رواداری کا عالمی پیغام موجودہ دور میں جہاں دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی منافرت اور انتہا پسندی کا چیلنج درپیش ہے، پاکستان بالخصوص سندھ سے یہ پیغام جانا کہ حکومت اور عوام مل کر ایک اقلیتی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں، عالمی سطح پر ملک کے مثبت اور معتدل امیج کو اجاگر کرتا ہے۔ 2. مذہبی سیاحت (Religious Tourism) کا فروغ سندھ میں بے شمار تاریخی مندر، گرودوارے، اور قدامت پسند چرچ موجود ہیں۔ کوٹری چرچ کی اس عمدہ بحالی سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سیاحوں اور محققین کی بھی اس خطے میں دلچسپی بڑھے گی، جس سے مقامی معیشت اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔ 3. اقلیتوں میں تحفظ کا احساس جب ریاست خود آگے بڑھ کر اقلیتی برادریوں کے مذہبی و ثقافتی ورثے کی دیکھ بھال کرتی ہے، تو اس سے ملک میں بسنے والی اقلیتوں میں اعتماد اور قومی یگانگت کا احساس مضبوط ہوتا ہے۔ ایڈیٹوریل نوٹ (ایڈیٹر کی رائے) خبر رساں اصولوں کے مطابق، تاریخی ورثے کی بحالی کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ افتتاح کے بعد اس کی مستقل دیکھ بھال (Maintenance) کے لیے ایک باضابطہ فنڈ اور کمیٹی قائم کی جائے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ افتتاح کے بعد عمارتوں کی دیکھ بھال میں غفلت برتی جاتی ہے۔ سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ چرچ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک ایسا پائیدار نظام تشکیل دیں تاکہ یہ 180 سالہ تاریخی ورثہ آئندہ دہائیوں تک محفوظ رہ سکے۔ کوٹری چرچ کی بحالی ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح تاریخ، ثقافت اور مذہبی احترام کو ایک ساتھ ملا کر معاشرے میں امن اور محبت کا پیغام پھیلایا جا سکتا ہے۔ Post navigation کینسر کے خلاف سائنسی پیش رفت اور مشترکہ جدوجہد: لمس جامشورو میں تین روزہ ‘قومی کینسر کانفرنس 2026’ کا باقاعدہ آغاز، طبی ماہرین کا کینسر کے علاج اور طبی اصلاحات پر زور ڈھینڈہ: سابق چیئرمین حاجی اشتیاق حیدر کی والدہ محترمہ کی نمازِ جنازہ ادا، ایم این اے بابر نواز خان اور اہم سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت