Preloader
Cancer conference inaugurated at LUHMS

اہم نکات (مختصر خلاصہ)

  • تین روزہ قومی کانفرنس: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز () جامشورو میں 19 تا 21 اکتوبر 2026 تین روزہ قومی کینسر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں 500 سے زائد طبی ماہرین، محققین اور معالجین شرکت کر رہے ہیں۔
  • نوجوان خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خدشہ: پاکستان میں 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں برسٹ کینسر کی تشخیص تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے لیے موروثی عوامل اور طویل مدتی صحت کو پیشِ نظر رکھ کر علاج کا جامع لائحہ عمل ناگزیر ہے۔
  • ملٹی ڈسپلنری ٹیم ورک کی اہمیت: سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی کے مطابق کینسر جیسے پیچیدہ موذی مرض کے خاتمے کے لیے مختلف طبی شعبوں کے ماہرین کے باہمی تعاون، ٹیم ورک اور باقاعدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔
  • طبی تعلیم کا نیا فریم ورک: راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے ماڈل 2026 کے ذریعے ملک میں برین ڈرین، اساتذہ کی کمی اور نصابی نقائص پر قابو پانے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر)

تعلیم و تحقیق اور طبی علوم کے ممتاز مرکز، لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) جامشورو میں پیر 19 اکتوبر 2026 کو تین روزہ “قومی کینسر کانفرنس 2026” کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ اس کثیر المقاصد اور اہم کانفرنس کا بنیادی موضوع ’’جدت، سہولیات تک رسائی اور باہمی تعاون کے ذریعے کینسر کے علاج میں بہتری‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔

کانفرنس میں ملک بھر سے کینسر کے نامور معالجین، سرجنز، محققین، آنکولوجسٹس اور صحت کے شعبے سے وابستہ 500 سے زائد ممتاز شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ یہ کانفرنس سائنسی شواہد، نئی دریافتوں اور عملی تکنیکوں کے تبادلے کے ذریعے کینسر کے خلاف ملکی سطح پر ایک مضبوط اور جامع پالیسی بنانے کی سمت میں اہم پیش رفت ثابت ہو رہی ہے۔

کانفرنس کا خاکہ اور اہم شماریاتی خدوخال

19 سے 21 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والی اس تین روزہ کانفرنس کو سائنسی تحرک اور عملی تربیت سے آراستہ کیا گیا ہے۔

کانفرنس کے تعلیمی و تدریسی شیڈول کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • مجموعی شرکاء: ملک بھر سے 500 سے زائد ماہرین، ینگ ڈاکٹرز اور محققین۔
  • تحقیقی مقالے (Research Papers): کینسر کے جدید علاج، ادویات اور تشخیص سے متعلق 55 اہم تحقیقی مقالے پیش کیے جا رہے ہیں۔
  • خصوصی لیکچرز: قومی و بین الاقوامی سطح کے نامور اساتذہ کی جانب سے 34 کلیدی لیکچرز ترتیب دیے گئے ہیں۔
  • تربیتی ورکشاپس: کانفرنس کے انعقاد سے قبل اور بعد میں مجموعی طور پر 9 جدید عملی و تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
  • اسکریننگ و آگاہی کیمپ: عام شہریوں اور مریضوں کی سہولت و معائنے کے لیے 3 مفت اسکریننگ اور ہیلتھ اوئیرنس کیمپ لگائے گئے ہیں۔

سائنس اور انسانیت کا سحر انگیز امتزاج: وائس چانسلر پروفیسر اکرام دین اجن کا خطاب

افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر لمس، پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے تمام معزز شرکاء کا گرمجوشانہ خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک اکادمی اجلاس نہیں بلکہ سائنس اور خدمتِ خلق کو یکجا کرنے، طبی علم کو عملی اقدامات میں بدلنے اور کینسر کے مریضوں اور ان کے دکھی خاندانوں کے لیے امید کی نئی کرن پیدا کرنے کے قومی عزم کا مظہر ہے۔

پروفیسر اکرام دین اجن نے اپنے خطاب میں درج ذیل نکات پر خصوصی زور دیا:

  • نوجوان ڈاکٹرز کی تربیت: اس کانفرنس کے ذریعے زیرِ تربیت ماہرین اور نوجوان ڈاکٹروں کو کینسر کیئر (Cancer Care) کے شعبے میں مستقبل کا حقیقی اور قابلِ اعتماد رہنما بننے کے مواقع میسر آئیں گے۔
  • علاج کے بنیادی ستون: کینسر کے علاج کی بنیادی حکمتِ عملی میں بیماری سے بچاؤ، ابتدائی مرحلے میں بروقت تشخیص، سائنسی شواہد پر مبنی علاج اور ہر مریض کے لیے عزت، ہمدردی اور امید کو یقینی بنانا شامل ہے۔
  • مستقبل کے اہداف: انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کے نتیجے میں بین الادارتی تعاون مضبوط ہوگا، نئے تحقیقی و کلینیکل ٹرائلز شروع ہوں گے، اور عوامی سطح پر آگاہی بڑھنے سے مریضوں کی زندگی بچانے کے تناسب میں واضح بہتری آئے گی۔

کم عمر خواتین میں چھاتی کا کینسر: طبی و سماجی چیلنجز

کانفرنس کے اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کینسر کیئر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے شعبہ سرجری کے سربراہ اور لاہور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید چوہدری نے پاکستانی خواتین میں چھاتی کے کینسر (Breast Cancer) کے پھیلتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی اعداد و شمار کے برعکس پاکستانی خواتین میں برسٹ کینسر کی تشخیص کثرت سے 40 سال سے کم عمر کی خواتین میں ہو رہی ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

انہوں نے علاج کے دوران درپیش مخصوص خطرات اور حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:

  1. ہمہ جہت جائزہ: جوان سال مریضاؤں کے علاج میں صرف ٹیومر (رسولی) کو ختم کرنا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ موروثی خطرات، بچوں کی پیدائش کی صلاحیت (Fertility preservation)، حمل کے منصوبوں، ازدواجی زندگی اور طویل مدتی معیارِ زندگی کو مدنظر رکھنا ازحد ضروری ہے۔
  2. عوامل و اسباب: موروثی جینیاتی خصوصیات، خاندان میں کینسر کی تاریخ، ہارمونل تبدیلیاں اور عصری طرزِ زندگی بنیادی خطرات میں شامل ہیں، تاہم بعض اوقات بغیر کسی بظاہر وجہ کے بھی بیماری جنم لے سکتی ہے۔
  3. ابتدائی علامت کو نظر انداز نہ کریں: انہوں نے خواتین اور معالجین پر زور دیا کہ کم عمر خواتین کے سائنوں میں بننے والی کسی بھی گلٹی یا نسیج کو بلا معائنہ ‘بے ضرر’ فرض کر لینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

کینسر کے علاج کے لیے ملٹی ڈسپلنری ٹیم کا قیام

پاکستان کی سرجیکل آنکولوجی سوسائٹی کے صدر پروفیسر محمد فاروق افضل نے ’’کینسر کا علاج ایک ٹیم کی طرح — بہترین کارکردگی دکھانے والی مختلف شعبوں کی ٹیموں کی تشکیل‘‘ کے موضوع پر ایک جامع پریزنٹیشن دی۔

انہوں نے کندھے کے ایک پیچیدہ اور نایاب سارکوما (Sarcoma) کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ کینسر کا علاج کسی ایک سرجن یا معالج کا کام نہیں بلکہ اس میں سرجن، آنکولوجسٹ، ریڈیالوجسٹ، پیتھالوجسٹ اور فزیو تھراپسٹ کا باہمی ربط اور ٹیم ورک درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے ایک موثر طبی ٹیم کی پانچ بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی:

  • مضبوط اور واضح قیادت (Leadership): فیصلے کرنے کی واضح صلاحیت۔
  • باہمی مانیٹرنگ (Performance Monitoring): ٹیم کے ارکان کا ایک دوسرے کی کارکردگی کا تعمیری جائزہ۔
  • باہمی تعاون (Back-up Behavior): بوقتِ ضرورت ایک دوسرے کی مدد اور رہنمائی۔
  • حالات سے مطابقت (Adaptability): مریض کی بدلتی طبی صورتحال کے مطابق پلان میں تبدیلی۔
  • اجتماعی مفاد (Team Orientation): انفرادی شہرہ یابی کے بجائے مریض کی زندگی اور ٹیم کے مفاد کو ترجیح دینا۔

انہوں نے سفارش کی کہ تمام ہسپتالوں میں ہفتہ وار ‘ٹیومر بورڈ’ (Tumor Board) کے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں اور فیصلے کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے۔

طبی تعلیم کا نیا رخ: آر ایم یو ماڈل 2026

راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر پروفیسر محمد عمر نے “پاکستان میں طبی تعلیم کا بدلتا منظرنامہ — آر ایم یو ماڈل 2026” کے عنوان سے خصوصی مقالہ پیش کیا۔

انہوں نے پاکستان کے میڈیکل ایجوکیشن سسٹم کو درپیش سنگین چیلنجز پر بے باکانہ تجزیہ پیش کیا:

  • ڈاکٹروں کا فرار (Brain Drain): نوجوان ڈاکٹروں کا تیزی سے ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہونا اور ہاؤس جاب شروع کرنے والے فارغ التحصیل ڈاکٹروں کی تعداد میں تدریجی کمی۔
  • نظامی نقائص: تعلیمی اداروں میں طلبہ کی غیر حاضری، اساتذہ کی کمی، پرانا نصاب، تحقیق کا کمزور ماحول اور جامعات کا کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز (CPSP) کے ساتھ عدم کوآرڈینیشن۔
  • آر ایم یو 12 نصاب اور اصلاحات: اس بحران سے نمٹنے کے لیے انہوں نے آر ایم یو (RMU) کے 2026ء کے اصلاحاتی ماڈل کی تفصیلات بیان کیں، جس میں ACGME ماڈل پر مبنی یونیورسٹی ریزولیوشن، انڈرگریجویٹ نصاب میں جدید تبدیلیاں، اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافہ، اور طبی تعلیم میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) و ڈیجیٹل سسٹم کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نتیجہ و ایڈیٹوریل تجزیہ

پاکستان جیسے درمیانی آمدنی والے ملک میں کینسر جیسی مہلک اور گراں قدر بیماری کے علاج کے لیے اس نوعیت کی قومی کانفرنسوں کا انعقاد انتہائی اہم ثابت ہوتا ہے۔ لمس جامشورو میں منعقدہ یہ کانفرنس نچلی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر پالیسی سازوں، ریسرچرز اور سرجنز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا اہم سبب بنی ہے۔

کینسر کی پیشگی تشخیص اور علاج کے جدید طریقوں سے لیس ہو کر اور میڈیکل ایجوکیشن میں جدید اصلاحات لا کر ہی ملک میں کینسر سے ہونے والی اموات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کانفرنس کے اگلے دو دنوں میں مزید اہم تحقیقی مقالے اور تجاویز سامنے آنے کی توقع ہے، جن پر عمل درآمد پاکستان کے شعبہ صحت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔

نیوز ڈیسک: ہیلتھ اینڈ سائنس رپورٹنگ