اہم نکات:اریانا سبالینکا نے جیسیکا پیگولا کو سیدھے سیٹوں میں شکست دے کر یو ایس اوپن کے فائنل میں جگہ بنا لی جہاں ان کا مقابلہ ایلینا رباکینا سے ہوگا۔قزاقستان کی ایلینا رباکینا کے ہاتھوں عالمی نمبر ون کی پوزیشن سے محروم ہونے کے بعد سبالینکا نے بالآخر اس حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔سبالینکا نے اعتراف کیا کہ عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن کھونا ان کے لیے دلی صدمے کا باعث تھا، تاہم وہ اسے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ٹینس کے ماہرین کے مطابق یو ایس اوپن کا یہ فائنل نہ صرف گرینڈ سلیم ٹرافی کا فیصلہ کرے گا بلکہ آنے والے دنوں میں عالمی درجہ بندی کی جنگ کو بھی نئی سمت دے گا۔امریکی ریاست نیویارک کے معروف آرتھر ایش اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کا فائنل اب سے کچھ ہی دیر میں دو بہترین اور طاقتور ترین کھلاڑیوں کے درمیان کھیلا جانے والا ہے۔ دنیا کی بہترین ٹینس کھلاڑیوں میں شمار ہونے والی اریانا سبالینکا اور قزاقستان کی ایلینا رباکینا کے درمیان ہونے والا یہ معرکہ رواں سال کے سب سے سنسنی خیز مقابلوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ سبالینکا نے سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کی جیسیکا پیگولا کو سیدھے سیٹوں میں شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کیا، لیکن فائنل سے قبل ہونے والی پریس کانفرنس میں ان کا تمام تر تمرکز عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن سے محرومی پر رہا۔عالمی نمبر ون پوزیشن کی منتقلی اور سبالینکا کا ردعملحال ہی میں ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (WTA) کی جاری کردہ رینکنگ کے مطابق قزاقستان کی ایلینا رباکینا نے اریانا سبالینکا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ طویل عرصے تک ٹینس کی دنیا پر حکمرانی کرنے والی سبالینکا کے لیے یہ تبدیلی کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں تھی۔سیمی فائنل میں فتح کے بعد جب ذرائع ابلاغ نے ان سے عالمی نمبر ون پوزیشن سے محرومی کے بارے میں سوال کیا، تو سبالینکا نے کھلے دل کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا:“یہ سچ ہے کہ جب آپ سے دنیا کی نمبر ون پوزیشن چھن جاتی ہے، تو یہ ایک انتہائی تکلیف دہ احساس ہوتا ہے۔ میں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے سالہا سال محنت کی تھی، اور اس پوزیشن کا ہاتھ سے نکل جانا یقیناً ایک ایسا دکھ ہے جسے فوری طور پر بھلانا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن کھیل کی دنیا میں یہ سب کچھ چلتا رہتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ایلینا رباکینا نے شاندار کھیل پیش کیا ہے اور وہ اس مقام کی حقدار تھیں، تاہم وہ خود کو دوبارہ اس پوزیشن پر لانے کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کریں گی۔سیمی فائنل کا احوال: پیگولا کے خلاف حتمی پیش رفتیو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں سبالینکا کا سامنا مقامی ہیرو جیسیکا پیگولا سے تھا۔ اس میچ میں سبالینکا کی جارحانہ سروسز اور کورٹ پر بہترین فارم نے پیگولا کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ سبالینکا نے یہ میچ انتہائی کنٹرولڈ انداز میں کھیلا اور کسی بھی مرحلے پر حریف کھلاڑی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا۔پیگولا کے خلاف اس فتح نے یہ ثابت کر دیا کہ ذہنی اور نفسیاتی دباؤ کے باوجود سبالینکا کورٹ کے اندر بہترین ٹینس کھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سیمی فائنل کا نتیجہ سبالینکا کے لیے ایک بڑا حوصلہ افزا قدم ثابت ہوا ہے کیونکہ وہ اس سے قبل اپنے کیریئر میں اہم موقعوں پر دباؤ کا شکار ہوتی رہی ہیں، لیکن اس بار ان کا رویہ بالکل مختلف نظر آ رہا ہے۔رباکینا کا ابھار اور ٹورنامنٹ میں سفرایلینا رباکینا کی حالیہ پیش رفت نے ویمنز ٹینس کے افق پر ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ قزاقستان کی نمائندگی کرنے والی اس شاندار کھلاڑی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران مسلسل بہترین کارکردگی پیش کرتے ہوئے متعدد بڑے ٹائٹل اپنے نام کیے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔رباکینا کے کھیل کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی سکون اور تحمل سے بھری تکنیک اور انتہائی تیز رفتار سروسز ہیں۔ ان کی شاندار فارم کے باعث یو ایس اوپن کے اس فائنل کو ایک طرف طاقتور شارٹس اور دوسری طرف بہترین کورٹ کوریج کے درمیان مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔سبالینکا بمقابلہ رباکینا: ماضی کا موازنہدونوں کھلاڑیوں کے درمیان ماضی کے مقابلوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کا ریکارڈر کافی دلچسپ اور توازن کا حامل رہا ہے۔خصوصیت / اعداد و شماراریانا سبالینکاایلینا رباکیناموجودہ عالمی درجہ بندینمبر 2نمبر 1کھیل کا اندازانتہائی جارحانہ، پاور شارٹسمتوازن، تیز سروس، ذہنی استحکامیو ایس اوپن سیمی فائنل نتیجہسیدھے سیٹوں میں فتح (بمقابلہ پیگولا)فیصلہ کن سیٹوں میں فتحاہم ہتھیارفور ہینڈ اور طاقتور سروسبیک ہینڈ اور تیز رفتار ایکٹنگیہ اعداد و شمار اور ماضی کے مقابلے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان کسی بھی میچ کا نتیجہ پہلے سے طے کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنی طاقت پر بھروسہ کرتی ہیں اور کورٹ پر جارحانہ حکمت عملی اپناتی ہیں۔فائنل کا نفسیاتی پہلو اور آئندہ کے اثراتیو ایس اوپن کا یہ فائنل صرف ایک گرینڈ سلیم ٹرافی جیتنے کا معرکہ نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ایک شدید نفسیاتی جنگ بھی چھپی ہوئی ہے۔سبالینکا کے لیے موقع: سبالینکا اس فائنل کو جیت کر نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا دوبارہ منوانا چاہتی ہیں بلکہ وہ اس فتح کے ذریعے رباکینا سے اپنی نمبر ون پوزیشن کا بدلہ بھی لینا چاہتی ہیں۔رباکینا کے لیے چیلنج: رباکینا کے لیے یہ میچ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ان کا عالمی نمبر ون بننا کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ وہ واقعی اس وقت دنیا کی بہترین ٹینس کھلاڑی ہیں۔کھیل کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جو بھی کھلاڑی فائنل کے پہلے سیٹ میں ابتدائی پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا، اس کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سبالینکا کو اپنے اعصاب پر قابو رکھنا ہوگا، جب کہ رباکینا کو سبالینکا کے جارحانہ شارٹس کا مؤثر جواب دینا ہوگا۔شائقین ٹینس کی نظریں نیویارک پریو ایس اوپن کا یہ فائنل رواں سال کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹینس مقابلوں میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے ٹینس کے شائقین اور تبصرہ نگار اس تاریخی مقابلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا سبالینکا اپنے غم کو طاقت میں بدل کر گرینڈ سلیم اپنے نام کر پائیں گی یا پھر رباکینا اپنی برتری قائم رکھتے ہوئے بطور نمبر ون ڈومیننس برقرار رکھیں گی، اس کا فیصلہ چند ہی گھنٹوں میں سامنے آ جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationایشیا کپ: نشرح سندھو کی تباہ کن بولنگ، پاکستان ویمنز ٹیم ہانگ کانگ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل