پشاور (پریس ریلیز) پاکستان ہندکووان تحریک کے صوبائی صدر ایم اکبر سیٹھی نے ملک میں رائج دوہرے نظامِ قانون اور طبقاتی تقسیم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون صرف غریب کے لیے ہے، جبکہ بااثر طبقہ تمام تر ضابطوں سے آزاد ہے، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں دوہرا قانون پوری شدت سے نافذ ہے، جہاں پارلیمنٹ کے ارکان خود بڑی ملوں، فیکٹریوں اور وسیع کاروبار کے مالک ہیں مگر ان کے لیے ٹیکس گوشواروں میں چھوٹ، مبینہ کرپشن میں سہولت اور مکمل قانونی تحفظ موجود ہے تاکہ ان پر کبھی کوئی آنچ نہ آئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہی انصاف ہے کہ ایک طرف بااثر لوگ قانون سے بالاتر ہوں اور دوسری طرف ایک غریب دکاندار اگر گوشوارہ جمع نہ کروا سکے تو اس کی موبائل سم بلاک، بینک اکاؤنٹ منجمد اور اسے جرمانے و قید کی سزائیں سنائی جائیں؟ یہ کھلا طبقاتی ظلم اور دہرا معیار ہے، ایم اکبر سیٹھی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے ممبران اور سرکاری افسران عوام کے خادم ہیں، کوئی “خدائی خدمت گار” نہیں۔ یہ سب عوام کے ٹیکسوں سے بھاری تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے پیسوں پر عیش و عشرت اور سرکاری خرچ پر حج و عمرے کرنا نہ تو اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ ہی قابل قبول؛ ایسے حج اور عمرے قبول نہیں ہوتے جو غریب عوام کا خون نچوڑ کر ادا کیے جائیں، صوبائی صدر نے مزید کہا کہ ملک اس وقت غربت کی انتہا کو چھو رہا ہے اور کمر توڑ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے، مگر حکمران طبقے کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ یہ روش ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام ارکانِ پارلیمنٹ اور اعلیٰ افسران کے گوشوارے عوام کے سامنے لائے جائیں اور ٹیکس قوانین کا اطلاق امیر و غریب پر یکساں کیا جائے، اگر یہ ناانصافی بند نہ ہوئی تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے گا۔
