Preloader
Site area kotli

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتظامی زوال: ایک زمانے کا منافع بخش ادارہ ‘سائٹ لمیٹڈ کوٹری’ سیاسی اثر و رسوخ، غیر قانونی بھرتیوں اور مبینہ انتظامی بدعنوانی کے باعث شدید مالی بحران میں گھِر چکا ہے۔
  • پانی کی فراہمی میں بے ضابطگیاں: واٹر سپلائی نیٹ ورک میں غیر قانونی کنکشنز اور مبینہ بھتہ خوری کے سبب ادارے کو ماہانہ کروڑوں روپے کے ریونیو کا نقصان ہو رہا ہے، جس کا اثر ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن پر پڑا ہے۔
  • املاک پر ناجائز قبضے: چیک اینڈ بیلنس کے فریم ورک کی عدم موجودگی کے باعث سائٹ لمیٹڈ کی قیمتی زمینوں اور املاک پر تجاوزات اور تجارتی قبضے قائم ہو چکے ہیں۔
  • صنعتی شعبے پر اثرات: بنیادی سہولیات کے فقدان اور لینڈ مافیا کے اثرات کے باعث متعدد صنعتی یونٹس بند ہو چکے ہیں جبکہ کئی سرمایہ کار اپنی ملیں اور مشینری دیگر اضلاع میں منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر) سندھ کے اہم صنعتی زونز میں شمار ہونے والا ‘سائٹ لمیٹڈ کوٹری’ (SITE Limited Kotri) اس وقت تاریخ کے سنگین ترین انتظامی و مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ ماضی میں صنعت کاروں کے لیے فعال سہولت کار اور مالی طور پر ایک خود کفیل و منافع بخش ادارہ کہلانے والا یہ آرگنائزیشن، آج اندرونی بے ضابطگیوں، سیاسی سفارشات پر ہونے والی تعیناتیوں اور کنٹرول کے ناقص نظام کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

ادارے کی اس ابتر صورتحال کا سب سے بڑا خمیازہ جہاں ایک طرف نچلے درجے کے ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی عدم ادائیگی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے، وہی دوسری طرف کوٹری انڈسٹریل ایریا کی بدحالی کے باعث ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے صنعت کار بھی شدید مایوسی کا شکار ہیں۔

2013 کا موڑ: ٹریٹمنٹ پلانٹ سے سب انجینئرز کی تعیناتی تک کا پس منظر

سائٹ لمیٹڈ کے ملازمین اور مقامی ذرائع کے مطابق ادارے کی بدقسمتی کا آغاز سال 2013 کے بعد سے ہوا، جب ٹریٹمنٹ پلانٹ پر تعینات عملے کی مبینہ غفلت کی وجہ سے پہلے اربوں روپے کا پلانٹ غیر فعال ہوا اور بعد ازاں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ان ہی ملازمین کو ادارے میں بطور ‘سب انجینئر’ اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر پوسٹ کر دیا گیا۔

اس غیر قانونی اور غیر معنویت پر مبنی ہیر پھیر کے بعد ادارے میں نہ صرف چیک اینڈ بیلنس کا روایتی ڈھانچہ فلج ہو کر رہ گیا بلکہ انتظامی امور میں شفافیت کی جگہ مبینہ بدعنوانی اور اقربا پروری نے لے لی۔ تجربہ کار اور ایماندار افسران کو نظر انداز کر کے بااثر افراد کو مزید اختیارات دیئے گئے، جس نے ادارے کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا۔

واٹر سپلائی نیٹ ورک: ریونیو چوری اور غیر قانونی کنکشنز کا طریقہ کار

سائٹ لمیٹڈ کوٹری کی آمدنی کا سب سے بڑا اور بنیادی ذریعہ صنعتی زون کو واٹر سپلائی کی فراہمی ہے۔ تاہم، واٹر سپلائی شعبے میں مبینہ ملی بھگت اور رشوت ستانی کی وجہ سے ادارے کا قانونی ریونیو مسلسل گرتا جا رہا ہے۔

ذرائع اور موصولہ اطلاعات کے مطابق پانی کے تقسیمی نظام میں درج ذیل بے ضابطگیاں معمول بن چکی ہیں:

  • کاغذی بمقابلہ عملی صورتحال: قانونی طور پر جہاں محض 1 انچ کا پانی کا کنکشن منظور کیا جاتا ہے، وہاں عملے کی ملی بھگت سے 3 انچ سے زائد کے غیر قانونی کنکشنز فراہم کیے گئے ہیں۔
  • مالیاتی نقصان کا تناسب: قانونی 1 انچ کے کنکشن کا سرکاری ماہانہ بل اگر تقریباً 50 ہزار روپے بنتا ہے، تو 3 انچ کے غیر قانونی کنکشنز کے عوض صنعتی یونٹس سے ماہانہ لاکھوں روپے کی غیر رسمی ‘منتھلی’ وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
  • سرکاری خزانے کو نقصان: اس متوازی نظام کی وجہ سے سائٹ لمیٹڈ کو ماہانہ کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم ہونا پڑ رہا ہے، جس کی رقم ادارے کے کھاتے میں جانے کے بجائے چند بااثر افراد کی جیبوں میں جا رہی ہے۔

ان مبینہ بے ضابطگیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو ملازمین یا افسران چند سال قبل انتہائی معمولی وسائل کے مالک تھے، آج وہ کروڑوں روپے کے اثاثوں، جائیدادوں اور لگژری گاڑیوں کے مالک بن چکے ہیں، جبکہ ادارے کے پاس اپنے دیانتدار اور نچلے عملے کو وقت پر تنخواہ دینے کے لیے فنڈز موجود نہیں۔

املاک پر ناجائز قبضے اور لینڈ مافیا کا عمل دخل

سائٹ لمیٹڈ کی حدود میں واقع قیمتی سرکاری زمینیں اور املاک بھی انتظامی غفلت کی وجہ سے محفوظ نہیں رہیں۔ ادارے کے اندر موجود چیک اینڈ بیلنس کے نظام کے بالکل ختم ہو جانے کے باعث سائٹ لمیٹڈ کی زیرِ نگرانی اراضی پر تجارتی تجاوزات کی بھرپمار ہو چکی ہے۔

کوٹری انڈسٹریل ایریا میں سڑکوں کے کناروں اور اہم تجارتی پوائنٹس پر غیر قانونی طور پر ہوٹل، دکانیں اور کیبن تعمیر کر لیے گئے ہیں۔ علاقائی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر نذرانے وصول کر کے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے صنعتی زون کا انفراسٹرکچر اور جغرافیائی نظم و ضبط شدید متاثر ہو چکا ہے۔

کوٹری انڈسٹریل زون کی تباہی: صنعت کاروں کی نقل مکانی

سائٹ لمیٹڈ کی ناقص پالیسیوں، بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور پینے کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا سب سے بڑا نقصان کوٹری کے صنعتی زون کو پہنچا ہے۔ صنعت کاروں کو پیداواری عمل جاری رکھنے کے لیے جن بنیادی سہولیات کی ضرورت ہوتی ہے، وہ انہیں میسر نہیں ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کو درج ذیل نکات میں دیکھا جا سکتا ہے:

  • صنعتی یونٹس کی بندش: بنیادی سہولیات نہ ملنے اور پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے متعدد صنعت کاروں نے اپنی ملوں اور فیکٹریوں کو تالے لگا دیے ہیں۔
  • سرپلس سرمائے کی نقل مکانی: تحفظ کے احساس کی کمی اور لینڈ مافیا کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث کئی سرمایہ کار اپنی قیمتی مشینری اور سرمایہ پنجاب یا سندھ کے دیگر محفوظ اور فعال صنعتی زونز میں منتقل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
  • بے روزگاری میں اضافہ: ملوں کی بندش اور نقل مکانی کے باعث ہزاروں مقامی مزدور اور دیہاڑی دار افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، جس سے علاقے میں معاشی بحران شدید تر ہو گیا ہے۔

مالیاتی اعداد و شمار اور اثرات کا تجزیاتی خاکہ

سائٹ لمیٹڈ کوٹری کی بدحالی کے مختلف پہلوؤں اور اس کے نتائج کا ایک اجمالی جائزہ درج ذیل جدول میں پیش کیا گیا ہے:

پہلوماضی کی صورتحالموجودہ بحرانی صورتحال
مالیاتی حیثیتخود کفیل اور منافع بخش ادارہملازمین کی تنخواہوں و پینشن کی ادائیگی سے قاصر
واٹر سپلائی ریونیوشفاف ریکوری اور ادارے کی آمدن کا بڑا ذریعہغیر قانونی 3 انچ کنکشنز اور مبینہ منتھلی کا نظام
املاک و زمین کا تحفظمنظم صنعتی اراضیغیر قانونی ہوٹل، دکانیں اور تجاوزات قائم
صنعتی سرگرمیاںمکمل گنجان اور فعال ملیںملوں کو تالے، مشینری کی دیگر شہروں میں منتقلی

ایڈیٹوریل نوٹ اور حکومتی توجہ کی ضرورت

صحافتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو کسی بھی صنعتی زون کی تباہی براہ راست صوبائی و قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سائٹ لمیٹڈ کوٹری کی موجودہ زوال پذیری کوئی یکایک رونما ہونے والا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ سالہا سال کی غفلت، غیر قانونی سیاسی مداخلت اور عدم احتساب کا نتیجہ ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) سائٹ سے لے کر متعلقہ وزارتوں تک کو ان تمام حالات و واقعات کی اطلاع ہونے کے باوجود تاحال کوئی عملی و سخت قدم نہیں اٹھایا گیا، جس سے بدعنوان عناصر کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

حکومتِ سندھ اور اربابِ اختیار کے لیے ضروری اقدامات:

  1. اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی: سائٹ لمیٹڈ کوٹری میں 2013 کے بعد سے ہونے والی تمام غیر قانونی بھرتیوں، ترقیوں اور واٹر سپلائی شعبے میں ہونے والے مالیاتی نقصان کی فوری نیب یا اینٹی کرپشن کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
  2. غیر قانونی کنکشنز اور تجاوزات کا خاتمہ: تمام غیر قانونی واٹر کنکشنز کو فوری منقطع کر کے قانون کے مطابق شفاف میٹرنگ کا نظام نافذ کیا جائے اور سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا جائے۔
  3. پیشہ ورانہ قیادت کی تعیناتی: ادارے میں سیاسی اثر و رسوخ کے خاتمے کے لیے میرٹ پر مبنی دیانتدار اور باصلاحیت افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ ادارے کو دوبارہ ایک منافع بخش اور صنعت کار دوست ادارے کے طور پر بحال کیا جا سکے۔