جیکب آباد / سکھر (خاص رپورٹ): جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) سندھ کے رہنماؤں نے عالمی و قومی سیاسی صورتحال اور صوبائی حقوق کے حوالوں سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ کی وحدت، این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں آئینی ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جامع مسجد مبارکپور میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی سطح پر جارحانہ پالیسیوں کی ناکامی کے بعد امریکی قیادت اپنی سیاسی خفت مٹانے (فیس سیونگ) کے لیے خطرناک اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ خبر کا خلاصہ (اہم نکات) عالمی صورتحال پر تشویش: امریکی انتظامیہ بین الاقوامی سطح پر سیاسی ناکامی کا ملبہ چھپانے کے لیے فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے ایران پر حملے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ صوبائی حقوق کا تحفظ: سندھ کی جغرافیائی وحدت، 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر کسی قسم کا سمارٹ وار یا سودے بازی برداشت نہیں کی جائے گی۔ معاشی و معاشرتی مسائل: حکمران اشرافیہ کی بدعنوان پالیسیوں اور قومی وسائل کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک میں نااہلی اور غربت کی شرح میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ سکھر پیس مارچ کا اعلان: امن، بھائی چارے اور بیداری کے لیے 19 تا 21 مارچ 2027ء کو سکھر میں ایک تاریخی انٹرنیشنل پیس میلے کا انعقاد کیا جائے گا۔ عالمی تناظر اور بین الاقوامی سازشیں جامع مسجد مبارکپور میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال نہایت نازک موڑ پر داخل ہو چکی ہے۔ بین الاقوامی پالیسیوں میں مسلسل ناکامی کے بعد خطے کو ایک اور بڑی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر اپنی بگڑتی ہوئی سیاسی ساکھ کو بچانے اور ‘فیس سیونگ’ کے لیے فالس فلیگ (ڈرامائی یا فرضی) کارروائیاں تخلیق کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ ایران پر دباؤ بڑھایا جا سکے یا دوبارہ حملے کے لیے من گھڑت جواز تراشے جا سکیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب بھی دنیا میں نو آبادیاتی یا بڑی طاقتیں داخلی یا خارجی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں، تو وہ اکثر عوامی توجہ ہٹانے کے لیے علاقائی کشیدگی کا سہارا لیتی ہیں۔ جے یو آئی کے رہنماؤں نے انتباہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی نئے معرکے کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت اور امن پر بدترین اثرات مرتب کریں گے۔ حرمین شریفین کا تحفظ اور ایمانی رشتے اجتماع سے خطاب کے دوران حرمین شریفین کی عظمت اور اسلامی دنیا کے مقدس مقامات کے دفاع پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ جے یو آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین تمام مسلم امت کا دل اور مرکزِ ایمان ہیں۔ ان مقدساتِ اسلامیہ کی حفاظت کسی ایک گروہ یا ریاست کا ذمہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم اور امتِ مسلمہ کا ایمانی فریضہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی طاغوتی طاقتیں امتِ مسلمہ کو تقسیم کر کے ان کے معاشی اور سیاسی مراکز کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، مگر مسلمانوں کا اتحاد ان تمام ناپاک عزائم کو ناکام بنا دے گا۔ ┌─────────────────────────────────────────┐ │ جے یو آئی سندھ کے بنیادی مطالبات │ └────────────────────┬────────────────────┘ │ ┌──────────────────────────────┼──────────────────────────────┐ │ │ │ ┌───────┴────────┐ ┌────────┴────────┐ ┌────────┴────────┐ │ سندھ کی وحدت │ │ 18ویں ترمیم │ │ این ایف سی │ │ کا تحفظ │ │ کا تحفظ │ │ ایوارڈ کی بحالی │ └────────────────┘ └─────────────────┘ └─────────────────┘ ملکی معیشت اور حکمران اشرافیہ کی لوٹ مار ملکی معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر انصاری اور دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے، جس کی بنیادی وجہ ملک پر مسلط حکمران اشرافیہ کی بدعنوانیاں اور نااہلی ہے۔ قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔ معاشی ابتری کے نتائج ذیل میں پیش کیے گئے ہیں: غربت میں مسلسل اضافہ: روز مرہ اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وسائل کی غیر مساوی تقسیم: وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی فراہمی میں تاخیر اور بے قاعدگیوں سے عام شہری متاثر ہو رہا ہے۔ صوبائی خدشات: این ایف سی ایوارڈ کی بروقت اور شفاف منتقلی میں رکاوٹیں کھڑی کر کے صوبوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سندھ کی وحدت، 18ویں ترمیم اور آئینی حقوق صوبائی خودختاری اور آئینی تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اجتماع میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ سندھ کی جغرافیائی اور تاریخی وحدت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ جے یو آئی کے رہنماؤں نے زور دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم صوبائی خودختاری اور وفاق پاکستان کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ اگر کسی بھی غیر آئینی طریقے یا پس پردہ سازش کے ذریعے 18ویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کرنے کی کوشش کی گئی، تو سندھ کے عوام اس کے خلاف سخت احتجاج کریں گے۔ صوبے کے وسائل پر پہلا حق سندھ کے عوام کا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کٹائی یا مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ سکھر انٹرنیشنل پیس مارچ 2027ء کا اعادہ عوامی بیداری اور خطے میں امن کے قیام کے لیے جے یو آئی سندھ نے ایک بڑے بین الاقوامی ایونٹ کا شیڈول جاری کیا ہے۔ تنظیم کے ترجمان کے مطابق سندھ کا پرامن روایتی پیغام دنیا بھر میں پہنچانے کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ تاریخ: 19، 20 اور 21 مارچ 2027ء مقام: سکھر، سندھ عنوان: سکھر انٹرنیشنل پیس مارچ / میلہ متوقع شرکت: سندھ بھر سے اور بین الاقوامی سطح سے لاکھوں افراد، جن میں علماء، سیاسی کارکنان اور سول سوسائٹی کی شخصیات شامل ہوں گی۔ اس پیس مارچ کا بنیادی مقصد تشدد، شدت پسندی اور بدعنوانی کا خاتمہ کر کے امن، اسلامی اخوت اور انسانیت کا پیغام پھیلانا ہے۔ اجتماع کی نمائندگی اور دیگر رہنماؤں کے خطابات جامع مسجد مبارکپور میں منعقدہ اس عظیم الشان اجتماع میں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی و صوبائی رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں موجود اور خطاب کرنے والے دیگر نمایاں رہنماؤں میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں: حاجی محمد عباس بنگلانی محکم الدین بروہی صوفی اللہ یار قاری محمد عثمان بہٹو مولانا عبدالواحد مستوئی کرم اللہ مہر قاری ریاض احمد ٹانوری مولانا ہمت اللہ برڑو خالد حسین چنہ تمام مقررین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عوام کے حقوق، اسلامی اقدار اور صوبائی سلامتی کی جنگ ہر فورم پر لڑتے رہیں گے اور سکھر پیس مارچ کو کامیاب بنانے کے لیے دیہات سے لے کر شہروں تک رابطہمہم چلائی جائے گی۔ Post navigation سائٹ لمیٹڈ کوٹری کی زوال پذیری: سیاسی اثر و رسوخ، مبینہ بدعنوانی اور ناقص انتظامی پالیسیوں کے باعث صنعتی زون شدید بحران کا شکار