Preloader
Social Welfare Committee meeting held

اہم نکات:

  • اجلاس کی صدارت: چیئرمین سوشل ویلفیئر کمیٹی و رکن قومی اسمبلی ملک اسد سکندر کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس جامشورو میں اعلیٰ سطحی اجلاس۔
  • بنیادی مقاصد: ضلع جامشورو میں آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) فنڈز سے جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاحی کاموں کا جامع جائزہ۔
  • تعلیم و صحت پر تمرکز: سیہون کی یونین کونسل جھانگارا کے تعلیمی اداروں کی بحالی، صحت اور پبلک ہیلتھ کے شعبوں کو ترجیح دینے پر اتفاق۔
  • قانونی و انتظامی ہدایات: عدالت عالیہ کی ہدایات اور وفاقی و صوبائی گائیڈ لائنز کے مطابق منصوبوں کی شفاف، معیاری اور بروقت تکمیل کا حکم۔

جامشورو میں عوامی فلاح و بہبود کا نیا دور: سوشل ویلفیئر کمیٹی کا اہم پیش رفت اجلاس

جامشورو (خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر): ضلع جامشورو میں قدرتی وسائِل، بالخصوص تیل اور گیس کی پیداوار سے حاصل ہونے والے فنڈز کو مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی شفافیت اور رفتار کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) حکومتِ پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی کے رکن ملک اسد سکندر کو ضلع جامشورو کے لیے سوشل ویلفیئر کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیے جانے کے بعد کمیٹی کا پہلا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے دربار ہال میں منعقد ہوا۔

اجلاس کا بنیادی مقصد ضلع بھر میں کام کرنے والی قومی و بین الاقوامی آئل اینڈ گیس کمپنیوں کی جانب سے کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی، تعلیمی، اور صحتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، مالیاتی شفافیت اور انتظامی چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔

انتظامی و عوامی نمائندوں کی وسیع پیمانے پر شرکت

اجلاس میں ضلع کی سیاسی، انتظامی اور فلاحی قیادت کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم سیکٹر کے تمام کلیدی اہم شراکت داروں (Stakeholders) نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سوشل ویلفیئر کمیٹی ملک اسد سکندر نے کی جبکہ ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے تفصیلی بریفنگ فراہم کی۔

اجلاس میں شریک اہم شخصیات اور حکام:

  • عوامی نمائندے: چیئرمین ضلع کونسل سہیل احمد شورو، چیئرمین یونین کونسل جھانگارا سید فرقان علی شاہ، چیئرمین ٹاؤن کمیٹی بلال قادر شورو اور مختلف یونین کونسلوں کے چیئرمینز۔
  • ضلعی انتظامیہ و محکمے: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون بابر خان نظامانی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو محمد طارق کاکا، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) جامشورو ڈاکٹر پیر منظور احمد۔
  • تکنیکی و ترقیاتی محکمے: ایگزیکٹو انجینئرز (بلڈنگز، ایجوکیشن ورکس، پبلک ہیلتھ) اور پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) کے نمائندے۔

شامل آئل اینڈ گیس کمپنیاں: اجلاس میں خطے میں تیل و گیس کی تلاش و پیداوار سے وابستہ تمام بڑی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں شامل ہیں:

  1. او جی ڈی سی ایل (OGDCL)
  2. پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL)
  3. پرائم پاکستان لمیٹڈ
  4. یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (UEP)
  5. پاکستان آئل فیلڈ لمیٹڈ (POL)
  6. زیور پیٹرولیم لمیٹڈ

سی ایس آر (CSR) فنڈز اور بنیادی ڈھانچے پر تفصیلی بریفنگ

اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے ملٹی میڈیا بریفنگ کے ذریعے ضلع کے مختلف علاقوں میں زیرِ تعمیر اور مجوزہ منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کی یہ قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ جن علاقوں سے معدنی وسائِل نکال رہی ہیں، وہاں کے متاثرہ اور مقامی لوگوں کی سماجی و معاشی حالت میں بہتری کے لیے اپنے منافع کا ایک مخصوص حصہ (CSR) خرچ کریں۔

بریفنگ میں بتائیا گیا کہ اس وقت ضلع کے مختلف شعبوں میں کئی اہم منصوبے زیرِ عمل ہیں:

  • صحت (Healthcare): بنیادی ہیلتھ یونٹس کی جدید کاری اور ادویات کی فراہمی۔
  • تعلیم (Education): اسکولوں کی عمارتوں کی مرمت، فرنیچر اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی۔
  • پبلک ہیلتھ (Public Health Infrastructure): واٹر سپلائی اسکیمیں اور نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری۔

سیہون کی یونین کونسل جھانگارا اور تعلیمی ترجیحات

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سوشل ویلفیئر کمیٹی ملک اسد سکندر نے آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے نمائندوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ ان علاقوں پر بالخصوص توجہ دیں جہاں سے پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے تعلقہ سیہون کی یونین کونسل جھانگارا کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے زور دیا کہ اس علاقے کے تعلیمی اداروں کی حالتِ زار کو فوراً بہتر بنایا جائے۔

انہوں نے کہا:

“جس زمین سے قوم کے لیے طاقت اور توانائی نکلتی ہے، اس کے گرد و نواح میں بسنے والے بچوں کو معیاری تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ تمام کمپنیاں یوسی جھانگارا کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات، اساتذہ کی دستیابی اور جدید تعلیمی وسائل کی فراہمی کے لیے بلاتاخیر اقدامات کریں۔”

عدالتِ عالیہ کے احکامات اور شفافیت کی ضمانت

ضلع جامشورو میں سی ایس آر فنڈز کے ماضی میں غیر متوازن یا تاخیر کا شکار استعمال کے حوالے سے مختلف وقتوں میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواستیں اور سماعتیں ہوتی رہی ہیں۔ اس پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے ملک اسد سکندر نے کہا کہ اب تمام عمل قانون اور عدالتی احکامات کے مطابق ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ گائیڈ لائنز پر حرف بہ حرف عملدرآمد کیا جائے گا۔ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام مالیاتی امور اور ترقیاتی کاموں کی باقاعدگی سے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی جائے گی تاکہ بدعنوانی يا کام کے ناقص معیار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

اس موقع پر ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے متعلقہ محکموں کے ایگزیکٹو انجینئرز اور فرموں کو ہدایت کی کہ منصوبوں کو دی گئی مدت (Deadlines) کے اندر مکمل کیا جائے اور کوالٹی کنٹرول پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔

پس منظر اور سماجی اثرات: یہ اقدام جامشورو کے لیے کیوں اہم ہے؟

ضلع جامشورو رقبے اور توانائی کے وسائِل کے لحاظ سے سندھ کا ایک انتہائی اہم ضلع ہے۔ یہاں تیل اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر ملکی معیشت کے لیے قیمتی توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ تاہم، ماضی میں مقامی آبادی کا یہ دیرینہ گلہ رہا ہے کہ اربوں روپے کی آمدنی کے باوجود مقامی گاؤں اور ٹاؤنز پینے کے صاف پانی، سڑکوں، اور معیاری اسکولوں سے محروم رہے ہیں۔

اجلاس کے متوقع اثرات:

  1. مقامی روزگار و فلاح: کمپنیوں کی مقامی فلاحی سرگرمیوں سے خطے کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے مواقع اور بنیادی سہولیات میسر آئیں گی۔
  2. عوامی اعتماد کی بحالی: حکومت، ضلعی انتظامیہ اور آئل کمپنیوں کے درمیان اس تال میل سے مقامی آبادی کا انتظامیہ پر اعتماد بحال ہوگا۔
  3. وقت کی بچت: مقررہ مدت میں کام کی تکمیل سے عوامی رقم کا ضیاع بچے گا اور سہولیات بروقت شہریوں تک پہنچیں گی۔

اجلاس کا اختتام آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے نمائندوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر غور و خوض اور آئندہ ماہ ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا دوبارہ جائزہ لینے کے فیصلے کے ساتھ ہوا۔