اہم نکات: اعلیٰ سطحی ملاقات: چیئرمین بورڈ آف گورنرز پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی قیادت میں ایم ٹی آئی بنوں کے وفد کی صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن سے پشاور میں تفصیلی ملاقات۔ جدید طبی سہولیات کا عزم: ایم ٹی آئی بنوں میں ایم آر آئی (MRI) مشین کی نصب کاری، ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں کے ٹراما سنٹر کی توسیع اور جدید کڈنی سنٹر کے قیام کے منصوبوں پر پیش رفت۔ صوبائی حکومت کی یقین دہانی: وزیر صحت خلیق الرحمن کی جانب سے بنوں اور جنوبی اضلاع کے شہریوں کو مقامی سطح پر عالمی معیار کا علاج فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کی فنڈنگ اور انتظامی سرپرستی کا اعلان۔ عوامی اثرات: جدید تشخیصی و علاج کی سہولیات کے بعد بنوں، وزیرستان اور دیگر ملحقہ علاقوں کے مریضوں کو علاج کے لیے پشاور یا دیگر دور دراز بڑے شہروں کی طرف سفر کرنے کی زحمت سے نجات ملے گی۔ پشاور میں اہم پیش رفت: جنوبی اضلاع کے لیے طبی سہولیات کی نئی امید پشاور (رپورٹ: انورزیب خان): خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع بالخصوص ضلع بنوں اور اس کے ملحقہ علاقوں کے عوام کو صحت کی جدید، بروقت اور معیاری سہولیات مقامی سطح پر فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم اور دوررس پیش رفت سامنے آئی ہے۔ میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن (MTI) بنوں کی اعلیٰ انتظامی قیادت اور بورڈ آف گورنرز کے وفد نے پشاور میں صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن سے ان کے دفتر میں ایک اہم اور تفصیلی ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی مقصد ایم ٹی آئی بنوں کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں طبی خدمات کا دائرہ کار وسیع کرنا، جدید ترین تشخیصی آلات و مشنری کی فراہمی، موجودہ شعبہ جات کی اپ گریڈیشن اور نئے специализирован (تخصصاتی) شعبوں کا قیام یقینی بنانا تھا۔ ملاقات میں بنوں خطے کی جغرافیائی اہمیت اور وہاں بڑھتی ہوئی آبادی کی طبی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی اہم فیصلوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کا احوال اور شرکائے وفد چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایم ٹی آئی بنوں، ممتاز ماہرِ تعلیم و معالج پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد میں ادارے کے تمام کلیدی انتظامی افسران شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر صحت کے سامنے بنوں کے ہسپتالوں کا تفصیلی کیس اور عوامی مطالبات پیش کیے۔ وفد میں شامل اہم عہدیدار: پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود: چیئرمین بورڈ آف گورنرز (BoG)، ایم ٹی آئی بنوں پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور خان: ہاسپٹل ڈائریکٹر، ایم ٹی آئی بنوں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فرمان اللہ وزیر: میڈیکل ڈائریکٹر، ایم ٹی آئی بنوں منیب خان: سیکرٹری بورڈ آف گورنرز، ایم ٹی آئی بنوں ملاقات کے دوران ایم ٹی آئی بنوں کی قیادت نے صوبائی وزیر صحت کو ہسپتالوں کی موجودہ کارکردگی، روزانہ کی بنیاد پر او پی ڈی اور ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے اعداد و شمار اور جاری و مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ وفد نے وزیر صحت کو آگاہ کیا کہ بنوں ہسپتال پر نہ صرف مقامی آبادی بلکہ شمالی و جنوبی وزیرستان اور کرک و لکی مروت جیسے ملحقہ اضلاع کا بھی شدید بوجھ ہے۔ زیرِ غور اور مجوزہ نئے طبی منصوبے ملاقات کے دوران جن اہم منصوبوں اور اعلیٰ درجے کی جدید سہولیات پر اتفاقِ رائے اور تفصیلی بات چیت ہوئی، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں: ایم آر آئی (MRI) کی سہولت کا قیام: بنوں اور گرد و نواح میں جدید تشخیصی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مریضوں کو معائنے کے لیے نجی لیبارٹریوں یا پشاور جانا پڑتا تھا۔ اجلاس میں ایم ٹی آئی بنوں کے لیے جدید ترین ایم آر آئی مشین کی فوری خریداری اور اس کی نصب کاری کی منظوری اور عملی طریقہ کار پر گفتگو کی گئی۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال بنوں کے ٹراما سنٹر کی توسیع: شاہراہوں اور سرحدی علاقوں کے قریب ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی اور حادثات کے کیسز کی بڑی تعداد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنوں کا رخ کرتی ہے۔ اجلاس میں ٹراما سنٹر میں بستروں کی تعداد بڑھانے، وینٹی لیٹرز کی تعداد میں اضافے اور جدید سرجیکل ٹیکنالوجی شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کڈنی سنٹر (کلیوں کے علاج کا مرکز) کا قیام: جنوبی اضلاع میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مکمل کڈنی سنٹر کے قیام کا خاکہ پیش کیا گیا جس میں جدید ڈائلیسس یونٹ اور گردے کے امراض کے ماہرین (نیفرولوجسٹس) کی تعیناتی شامل ہے۔ موجودہ شعبہ جات کی اپ گریڈیشن: ہسپتال میں پہلے سے موجود شعبہ جات، جیسے نیورولوجی، کارڈیولوجی اور اطفال کے شعبوں کو اضافی سہولیات اور عملے کی فراہمی پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کا موقف اور یقین دہانی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن نے ایم ٹی آئی بنوں کی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ صوبائی حکومت کا بنیادی مقصد صوبے کے تمام اضلاع میں بالعموم اور دور دراز علاقوں میں بالخصوص صحت کے بنیادی اور ثانوی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “بنوں اور اس کے ملحقہ اضلاع کے عوام کو جدید تشخیصی اور معالجاتی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا محکمہ صحت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد اور عوامی ضروریات کے پیشِ نظر ہسپتالوں کے توسیع منصوبوں کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا۔” وزیر صحت نے ایم ٹی آئی بنوں کے حکام کو یقین دلایا کہ خیبر پختونخوا حکومت فنڈز کی بروقت فراہمی اور انتظامی و قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ انہوں نے موقع پر ہی محکمہ صحت کے متعلقہ اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایم ٹی آئی بنوں کی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل اور مؤثر رابطہ کاری (Coordination) قائم رکھیں تاکہ تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں کی کاغذی کارروائی کے بعد فوری عملی شروعات ممکن بنائی جا سکے۔ بنوں اور جنوبی اضلاع کا طبی پس منظر (Context and Background) تاریخی اور انتظامی لحاظ سے ضلع بنوں خیبر پختونخوا کے جنوبی زون کے لیے ایک مرکزی طبی اور تجارتی مرکز کا درجہ رکھتا ہے۔ جب سے ایم ٹی آئی (میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز) ریفارمز ایکٹ لاگو ہوا ہے، ہسپتالوں کی خودمختاری اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم وقت کے ساتھ آبادی میں اضافے نے طبی وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجز: مریضوں کا زبردست دباؤ: بنوں کا خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال اور ڈی ایچ کیو ہسپتال نہ صرف ضلع بنوں کی تقریباً 12 لاکھ آبادی کو صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں بلکہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے بارڈر علاقوں سے آنے والے ہزاروں متاثرین اور مریضوں کی کافلوں کا بار بھی انہی ہسپتالوں پر ہے۔ سفر کی دشواریاں: بنوں سے پشاور کا فاصلہ تقریباً 200 کلومیٹر ہے، جو کہ ایمرجنسی، دل کے دورے، شدید ٹراما، یا گردے کی خرابی کی حالت میں مریضوں کے لیے وقت اور مالی اعتبار سے انتہائی کٹھن اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ تشخیصی خلا: ایم آر آئی جیسی بنیادی جدید تشخیصی سہولت کی عدم موجودگی کے باعث غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کو نجی تشخیصی مراکز کو بھاری رقم ادا کرنا پڑتی تھی، جس سے ان کا مالی بوجھ بڑھ جاتا تھا۔ عوامی و سماجی اثرات: صحت عامہ کے شعبے میں انقلاب کی امید اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے نتائج کو بنوں اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کے لیے ایک بڑا اور مثبت شگون قرار دیا جا رہا ہے۔ ان فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کے نتیجے میں خطے کے عوام پر درج ذیل مثبت اثرات مرتب ہوں گے: مقامی سطح پر علاج (Relief from Travel): ایم آر آئی، ٹراما سنٹر اور کڈنی سنٹر جیسے منصوبے فعال ہونے سے پشاور یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے معائنے اور علاج کے طویل اور مہنگے سفر سے مکمل نجات ملے گی۔ قیمتی جانوں کی بچت: ایمرجنسی میں ٹراما سنٹر کی توسیع کے باعث شاہراہوں یا دہشت گردی سے متاثرہ واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کو سیکنڈز کے حساب سے علاج میسر آئے گا، جس سے اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔ غریب اور نادار طبقات کی مالی بچت: سرکاری ہسپتال میں جدید سہولیات کی فراہمی سے نجی ہسپتالوں اور ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا استحصال ختم ہوگا اور غریب مریض بلامعاوضہ یا انتہائی کم نرخوں پر جدید علاج کروا سکیں گے۔ طبی تعلیمی و تحقیقی ترقی: بنوں میڈیکل کالج اور ایم ٹی آئی بنوں کے ڈاکٹروں، ینگ میڈیکلز اور طلبہ کو بھی جدید آلات کے ساتھ جدید تحصیلی و تحقیقی تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ اختتامی کلمات ملاقات کے اختتام پر ایم ٹی آئی بنوں کی قیادت نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن کی جانب سے مسائل کے حل میں سنجیدہ دلچسپی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مقررہ ٹائم لائنز کے اندر تمام منصوبوں پر کام کی پیش رفت کو یقینی بنائیں گے تاکہ بنوں کے عوام ایک جدید، محفوظ اور مضبوط نظامِ صحت سے مستفید ہو سکیں۔ Post navigation تیل و گیس کمپنیوں کے فنڈز سے ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت اور بروقت تکمیل پر زور، اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد خیبرپختونخوا میں امن و امان کا اہم اجلاس: وزیراعلیٰ کا پولیس بجٹ میں تاریخی اضافے کا اعلان، وفاقی اداروں سے عسکری آلات کی جلد فراہمی کا مطالبہ