“Story of Epstein list”
ایک ایسے جزیرے کی کہانی جہاں دنیا کے طاقتور ترین لوگ گھنا!ؤنے کام کرتے تھے جن میں امریکہ کے صدر ،دوسرے ممالک کے وزیراعظم اور دیگر بڑی شخصیات جو دنیا کی امیر ترین شخصیات کہلواتی
ـ
یہ سارا سسٹم “جیفری اپسٹین” کا کھڑا کیا تھا
یہ بظاہر ایک انویسٹر تھا اس کی ایک ایجنسی یا ادارہ تھا جو یہ کام کرتا تھا کہ یہ دنیا کے بڑے دولت مند لوگوں کا پیسہ سنبھالتا تھا انویسٹ کرواتا تھا
وہ ایجنسی کیسے کھولی اس نے ،پیسہ کس کا تھا یہ کوئی نہیں جانتا!
لیکن وہ صرف یہی کام نہیں کرتا تھا بلکہ دنیا کے طاقتور لوگوں کو آپس میں ملواتا تھا ،ڈیلز کرواتا تھا ،اور ان کو تحفظ فراہم کرتا تھا
اس نے امریکہ کے سمندر میں ایک جزیرہ خریدا وہاں
یہ سارے کام ہوتے تھے
دنیا کے امیر ترین لوگ وہاں عیاشی کرتے تھے اور ڈیلز کرتے تھے
عام انسانوں تو کیا دنیا کے طاقتور لوگ وہاں اس کی اجازت کے بغیر نہیں جاسکتے تھے حتی کہ ایلون مسک جیسے لوگ بھی
اس جزیرے پر شراب ،کم عمر بچیاں جن کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے تھے یہ سب لوگ اور دیگر عیاشی کی چیزیں پائی جاتی تھی
وہ تمام کام جو باہر کہیں بھی کرنا ممکن نہیں تھا یا پکڑے جانے کا ڈر تھا وہ اس جزیرے پر ہوتے تھے
جیفری کی ایک پارٹنر تھی جو ایک مشہور خاندان سے تعلق رکھتی گیسلین وہ مختلف ممالک سے دس سے پندرہ سال کی خوبصورت بچیاں ڈھونڈ کر ان کو ماڈلنگ ،فلموں میں کام کرنے کا اور پیسے کا لالچ دے کر اس جزیرے پر لاتی تھی اور یہاں دنیا کے سب سے بڑے افراد کے سامنے سیکس کے لئے پیش کردیا جاتا تھا
1996
کچھ متاثرہ بچیوں نے جو وہاں ان سب چیزوں کا شکار ہوچکی تھی انہوں نے فلورائیڈا میں پولیس کو شکایت کی لیکن پیچھے بڑے ہاتھ ہونے کی وجہ سے کیس دب گیا
2007
صحافیوں نے دوبارہ کیس کو کھولا اور اس کی جڑ تک پہنچے جس سے ثابت ہوگیا کہ واقعی اس جزیرے پر کچھ غلط ہورہا جو عام دنیا کے وہم و گما!ن میں بھی نہیں
2008
کچھ صحافیوں نے ان سب ثبوتوں کو میڈیا پر اپلوڈ کردیا جس سے پوری دنیا میں خبر پھیل گئی کہ اس جزیرے پر شاہانہ زندگی کی آڑ میں کچھ اور ہورہا تھا
اس سے عوام میں یہ بات پھیل گئی اور حکومت پر دباؤ آگیا کہ اس پر کاروائی کی جائے
تو جیفری کو پکڑ لیا گیا
لیکن وہاں ایک وکیل تھا “الیگزینڈر اکوسٹا “جس نے جیفری کو کہا کہ چھوٹے جرا-ئم کو قبول کرلو تاکہ تم جیل میں چلے جاو تھوڑے سے عرصے کے لئے اور بڑے جرا-ئم سے بچ جاو
یہ ایک ڈیل تھی
ایسا ہی ہوا جیفری کو تیرہ مہینوں کی جیل ہوگئی لیکن جیفری دن کے وقت جیل سے باہر ہوتا تھا اور رات کو جیل میں
خیر یہ رہا ہوگیا اور نیویارک شہر سے کچھ بچیوں کو سمگل کیا گیا دوبارہ
جو عدالت کی نظر میں آگیا اور کیس دوبارہ اوپن ہوگیا
2019
میں سب الزاما!ت سچے ثابت ہوئے اور جیفری کو سزا ہوگئی اور جیل میں بند کردیا
لیکن کچھ عرصے بعد ہی جیفری کی لا-ش جیل میں سے ملی جس پر کہا گیا کہ اس نے خود-کشی کرلی
لیکن وہ خود-کشی نہیں تھی کیونکہ اسی دن سب گارڈ جیل سے غا!ئب تھے ،کیمرے بند تھے اور پوسٹ ما!رٹم بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ یہ ٹرمپ کا پہلا دور تھا۔
جس سے واضح ہوگیا کہ کسی بااثر نے اس کو مر-وادیا
جزیرے پر ہرجگہ کیمرے لگے ملے لیکن ان میں سے سارا ڈیٹا کسی نے ڈلیٹ کردیا تھا
یہ تھی کہانی جیفری کی
اب اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ جزیرہ ایک جال تھا دنیا کے سب سے بڑے لوگوں کو قابو کرنے کا
اس جزیرے پر کیمرے لگے تھے اور جو جو گھنا!ونے کام ہوئے سب کی ریکارڈنگ ہوئی تھی
اور جیفری صرف ایک ویٹر سمجھ لیں اس جزیرے کا
اصل لوگ اصل مالکان کوئی اور تھے جنہوں نے یہ سب کیا
وہ دنیا کے بڑے لوگوں کو بلیک میل کرکے اپنی مٹھی میں رکھنا چاہتے تھے ان میں امریکی صدور خصوصاً ڈونلوڈ ٹرمپ بھی شامل ہے ،
ایلون مسک کی بھی ای میل سامنے آئی جس میں جیفری کو کہا کہ میں جزیرے پر آنا چاہتا ہوں
اور یہ بھی بتادوں کہ جیفری یہو-د-ی تھا
اور ایسے کام یہو-د-ی ہی کرسکتے
ڈونلڈ ٹرمپ کا اصرائیل کو بغیر کسی وجہ کے سپورٹ کرنا اور الٹا اپنا ہی نقصان کروانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اصرائیل کے پاس کچھ تو ہے؟ یا یوں کہو کہ سب کچھ ان ہی کا کیا دھرا ہے۔ جو ڈونلڈ ٹرمپ کو قابو کررہا لیکن اب اس جزیرے کی کہانی سامنے آنے پر دنیا کے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے جو میں ڈھونڈ رہا تھا ۔
بظاہر اس جزیرے کے مالک سامنے نہیں آئے لیکن میرا اپنا تجزیہ کہتا ہے کہ یہو-د-یوں کے علاوہ کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا۔ یہو-د-ی عالمی لابی ہی اس کی مالکان ہیں۔
لیکن ابھی بہت کچھ سامنے نہیں آیا اس متعلق کیونکہ جیفری اس کا واحد گواہ تھا اس کے جانے کے بعد سارے ثبوت بھی غا!ئب کردئیے گئے
Edit
اپسٹین لسٹ سے مراد وہ تمام لوگ جو جیفری کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے ،لیکن ان تمام لوگوں کے ثبوت موجود نہیں کہ واقعی سب نے وہ کام کئے یا کچھ نے کئے ،باقیوں کا صرف تعلق ہی تھا
۔
