
نئی دہلی / تہران (نیوز ڈیسک): عام طور پر ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں اور خلیجِ فارس کے گرم پانیوں (آبنائے ہرمز) کے درمیان بظاہر کوئی مماثلت نظر نہیں آتی، لیکن زمین کی ساخت کا مطالعہ کرنے والے ماہرین (Geologists) نے ایک ایسا ‘اسٹرینج لنک’ یا عجیب و غریب تعلق دریافت کیا ہے جو کروڑوں سال پرانی زمین کی تبدیلیوں سے جڑا ہوا ہے۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!ٹیکٹونک پلیٹس کا سنگم
رپورٹ کے مطابق، یہ تعلق زمین کی تہوں یا ٹیکٹونک پلیٹس (Tectonic Plates) کی حرکت سے پیدا ہوتا ہے۔
- ہمالیہ کی تخلیق: کروڑوں سال پہلے جب انڈین پلیٹ، یوریشین پلیٹ سے ٹکرائی تو دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ ہمالیہ وجود میں آیا۔
- آبنائے ہرمز کا بننا: اسی دوران، عربین پلیٹ کی حرکت اور یوریشین پلیٹ کے ساتھ اس کے ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ جغرافیائی صورتحال پیدا ہوئی جس نے آبنائے ہرمز اور زاگروس (Zagros) کے پہاڑی سلسلے کو جنم دیا۔
زلزلے اور زیرِ زمین دباؤ کا تعلق
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ میں ہونے والی زیرِ زمین تبدیلیوں کا اثر بالواسطہ طور پر مشرقِ وسطیٰ کے خطے تک پہنچتا ہے۔
- دباؤ کی منتقلی: زمین کی ایک پلیٹ میں پیدا ہونے والا تناؤ (Stress) دوسری پلیٹ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ہمالیہ کے خطے میں انرجی کا اخراج بعض اوقات ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد و نواح میں زلزلوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
- ارضیاتی ہم آہنگی: ماہرین کے مطابق یہ دونوں خطے زمین کے اس ‘موبائل بیلٹ’ کا حصہ ہیں جہاں زمین کی تہیں اب بھی مسلسل حرکت میں ہیں اور ایک دوسرے کو دھکیل رہی ہیں۔
موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہمالیہ کی بلندی ایشیا کے مونسون اور ہواؤں کے رخ کو متعین کرتی ہے، جو بالآخر خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کے سمندری درجہ حرارت اور بخارات بننے کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہمالیہ سے آنے والی سرد ہوائیں اور بحیرہ عرب کے اوپر بننے والے موسمیاتی نظام ان دونوں دور دراز علاقوں کو ایک ہی ماحولیاتی زنجیر میں جکڑ دیتے ہیں۔
تاریخی اور ثقافتی اہمیت
قدیم زمانے میں ‘شاہراہِ ریشم’ کے ذریعے ہمالیہ کے دامن سے نکلنے والے قافلے اکثر انہی تجارتی راستوں کا رخ کرتے تھے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کو جوڑتے تھے۔ یوں یہ تعلق صرف ارضیاتی ہی نہیں بلکہ تاریخی اور تجارتی بھی رہا ہے۔
خلاصہ: زمین کی ایک ہی زنجیر کے دو سرے
یہ رپورٹ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی فطرت آپس میں جڑی ہوئی ہے۔ ہمالیہ کی چوٹیاں جہاں آسمان سے باتیں کرتی ہیں، وہیں ان کی جڑوں میں ہونے والی ہلچل آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستوں کی جغرافیائی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ سائنسدانوں کے نزدیک یہ مطالعہ مستقبل میں زلزلوں کی پیش گوئی اور پلیٹس کی حرکت کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔


