
نیویارک / سینٹیاگو (اقتصادی رپورٹ): جیسے جیسے دنیا تیزی سے گرین انرجی اور الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ رہی ہے، تانبے کی اہمیت سونے سے بھی بڑھ گئی ہے۔ ‘ویژول کیپیٹلسٹ’ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، تانبے کی عالمی پیداوار اور ذخائر پر چند مخصوص ممالک کا غلبہ ہے، جو مستقبل کی عالمی معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!تانبے کی پیداوار میں سرفہرست ممالک
رپورٹ کے مطابق، دنیا کا نصف سے زیادہ تانبا صرف چند ممالک سے حاصل ہوتا ہے:
- چلی (Chile): دنیا میں تانبے کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ملک ہے۔ عالمی سپلائی کا تقریباً 23% سے 25% حصہ اکیلے چلی فراہم کرتا ہے۔ یہاں موجود ‘ایسکنڈیڈا’ (Escondida) دنیا کی سب سے بڑی تانبے کی کان ہے۔
- پیرو (Peru): دوسرے نمبر پر براعظم جنوبی امریکہ کا ہی ملک پیرو ہے، جو عالمی پیداوار میں تقریباً 10% حصہ ڈالتا ہے۔
- جمہوریہ کانگو (DRC): افریقہ کا یہ ملک تیزی سے اوپر آ رہا ہے اور اس نے پیداوار کے لحاظ سے چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
- چین (China): اگرچہ چین تانبے کا چوتھا بڑا پیدا کنندہ ہے، لیکن وہ تانبے کا دنیا میں سب سے بڑا صارف (Consumer) ہے، جو عالمی طلب کا 50 فیصد سے زیادہ اکیلے استعمال کرتا ہے۔
تانبا ‘نیا سونا’ کیوں ہے؟
رپورٹ میں تانبے کی اہمیت کے تین بڑے اسباب بیان کیے گئے ہیں:
- بجلی کی ترسیل: تانبا بجلی کا بہترین موصل (Conductor) ہے، اس لیے پاور گرڈز اور وائرنگ میں اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
- الیکٹرک گاڑیاں: ایک عام پیٹرول گاڑی کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑی میں چار گنا زیادہ تانبا استعمال ہوتا ہے۔
- قابلِ تجدید توانائی: شمسی توانائی اور ونڈ ٹربائنز کی تعمیر میں تانبے کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔
مستقبل کے خدشات اور چیلنجز
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک تانبے کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہوگا، جبکہ موجودہ کانوں سے پیداوار میں کمی آ رہی ہے۔
- سیاسی خطرات: تانبے کی سپلائی کا زیادہ تر حصہ ان ممالک میں ہے جہاں سیاسی عدم استحکام یا ماحولیاتی قوانین کی وجہ سے کان کنی متاثر ہو سکتی ہے۔
- ری سائیکلنگ کی ضرورت: بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اب پرانے تانبے کو دوبارہ استعمال (Recycling) کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
خلاصہ: تزویراتی دوڑ
تانبے پر کنٹرول اب صرف معاشی نہیں بلکہ ایک تزویراتی (Strategic) مسئلہ بن چکا ہے۔ چین دنیا بھر میں، بالخصوص افریقہ میں تانبے کی کانوں کو خریدنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ وہ کلین انرجی کی عالمی دوڑ میں سب سے آگے رہ سکے۔


