اہم نکات (خلاصہ) تعلیمی و آراستگی دورہ: نوشہرہ ورکاں کے ایک مقامی سکول کے طلباء و طالبات نے عملی آگاهی اور قانون سے آشنائی کے مقصد کے تحت تحصیل کورٹس نوشہرہ ورکاں کا مطالعاتی دورہ کیا۔ بار قیادت سے ملاقات: طلباء نے صدر تحصیل بار رائے اظہر امتیاز کھرل ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری حافظ محمد سہیل رسول گجر ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء سے تفصیلی ملاقات کی۔ عدالتی نظام پر بریفنگ: جنرل سیکرٹری بار حافظ محمد سہیل رسول گجر ایڈووکیٹ نے بچوں کو کچہری کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا اور عدالتی کارروائی، آئین و قانون کی اہمیت پر بریفنگ دی۔ مثبت اثرات: تعلیمی اور قانونی حلقوں نے اس سیشن کو بچوں میں قانون کی پاسداری، شہری شعور اور مستقبل کے کیریئر کی منصب کاری میں اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔ نوشہرہ ورکاں (رپورٹ: ڈاکٹر توقیر اسلم، نمائندہ خصوصی گوجرانوالہ) طلباء و طالبات میں آئینی شعور کی بیداری، قانون کی اہمیت اور انصاف کے نظام کو قریب سے سمجھنے کے لیے نوشہرہ ورکاں کے مقامی سکول کے بچوں نے تحصیل کورٹس (کچہری) نوشہرہ ورکاں کا ایک خاص تعلیمی و مطالعاتی دورہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد نصابی تعلیم سے ہٹ کر عملی زندگی میں قانون کی اہمیت، عدالتی عمل اور انصاف کی فراہمی میں وکلاء و قضات کے کردار سے بچوں کو روشناس کرانا تھا۔ دورے کے دوران سکول کے طلباء و اساتذہ کا کچہری آمد پر وکلاء برادری نے پرجوش خیرمقدم کیا۔ بچوں نے تحصیل بار ایسوسی ایشن کے صدر رائے اظہر امتیاز کھرل ایڈووکیٹ اور جنرل سیکرٹری حافظ محمد سہیل رسول گجر ایڈووکیٹ سے خصوصی ملاقات کی، جہاں آئینی ضوابط، شہریوں کے حقوق اور عدالتی کارروائی کے حوالے سے فکر انگیز نشست کا اہتمام کیا گیا۔ کچہری کے مختلف شعبہ جات کا دورہ اور میٹنگ وکلاء برادری کی جانب سے بچوں کو کچہری کے تمام اہم حصوں کا تفصیلی وزٹ کروایا گیا۔ طلباء نے دیوانی و فوجداری عدالتوں، بار روم، سائلین کے بیٹھنے کی جگہوں اور رجسٹرار آفس سمیت دیگر متعلقہ شعبہ جات کو خود جا کر دیکھا۔ اس وزٹ کی اہم اور نمایا خصوصیات درج ذیل ہیں: بار روم اور لائبریری کا وزٹ: بچوں کو بار روم لے جایا گیا جہاں انہیں بتایا گیا کہ وکلاء مقدمات کی تیاری کس طرح کرتے ہیں اور قانونی کتب کی مطالعہ گاہ کی کیا اہمیت ہے۔ عدالتی ہالز کا معائنہ: طلباء نے عدالت عالیہ اور مقامی عدالتوں کے کام کرنے کے طریقے اور ججز کی کارروائی کا مشاہدہ کیا۔ سائلین کی سہولت کاری: بچوں کو دکھایا گیا کہ دور دراز سے آنے والے سائلین کو انصاف کی فراہمی کے لیے کون کون سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ قانونی اصطلاحات کی وضاحت: سادہ اور آسان اردو میں بچوں کو ‘دعویٰ’، ‘پٹیشن’، ‘وکالت نامہ’ اور ‘جج کے فیصلے’ جیسے بنیادی قانونی مفاہیم سمجھائے گئے۔ بار قیادت کی جانب سے طلباء کو جامع بریفنگ اس دورے کی سب سے اہم نشست میں جنرل سیکرٹری تحصیل بار ایسوسی ایشن نوشہرہ ورکاں، حافظ محمد سہیل رسول گجر ایڈووکیٹ نے طلباء کو عدالتی ساخت اور وکالت کے پیشے پر ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے اور ان کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی: قانون کی حکمرانی (Rule of Law): کسی بھی معاشرے کی ترقی اور امن و امان کے لیے قانون پر عملدرآمد سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ آئینِ پاکستان اور بنیادی حقوق: ملک کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔ انصاف کی فراہمی میں وکلاء کا کردار: وکیل محض ایک پیشہ ور شخص نہیں بلکہ وہ مظلوم کو اس کا حق دلوانے اور عدالت کی معاونت کرنے والا ایک اہم ستون ہے۔ بہترین شہری کے فرائض: بچوں کو تلقین کی گئی کہ وہ بچپن سے ہی قوانین (جیسے ٹریفک قوانین، سکول کے ضوابط اور معاشرتی آداب) کا احترام کریں تاکہ آئندہ چل کر ایک ذمہ دار شہری بن سکیں۔ اس موقع پر صدر بار رائے اظہر امتیاز کھرل ایڈووکیٹ نے بھی بچوں کی آمد کو سراہا اور کہا کہ نوجوان نسل کو عدالتی نظام کی حقیقتوں اور آئینی فرائض سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ عملی تعلیم اور تعلیمی دوروں کا پس منظر و اہمیت پاکستان کے تعلیمی نظام میں زیادہ تر توجہ کتابی اور نصابی معلومات پر دی جاتی ہے، جس کے باعث طلباء کو ملک کے بنیادی اداروں—مثلاً عدالت، پارلیمنٹ، پولیس اور انتظامیہ—کے کام کرنے کے عمل کا عملی تجربہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ماہرینِ تعلیم ‘عملی اور تجرباتی تعلیم’ (Experiential Learning) پر زور دے رہے ہیں۔ نوشہرہ ورکاں کے اس مقامی سکول کی جانب سے طلباء کو تحصیل کورٹس کا دورہ کروانا اسی کڑی کا ایک تسلسل ہے: خوف اور ہچکچاہٹ کا خاتمہ: عام طور پر عوام اور بالخصوص بچوں کے ذہنوں میں عدالتوں اور کچہری کا ایک خوفناک یا پیچیدہ تاثر ہوتا ہے۔ ایسے دوروں سے یہ غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں۔ کیریئر گائیڈنس (Career Guidance): جن بچوں کا رجحان قانون، فلسفے، صحافت یا انتظامی امور کی طرف ہے، انہیں اس دورے کے ذریعے اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے میں مدد ملتی ہے۔ شہری و اخلاقی شعور: جب بچے عدالتوں میں سائلین کو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے دیکھتے ہیں، تو ان میں ہمدردی اور انصاف پر مبنی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ وکلاء برادری اور تعلیمی حلقوں کا ردِعمل اس تعلیمی وزٹ کو نوشہرہ ورکاں کی وکلاء برادری، اساتذہ اور والدین کی طرف سے انتہائی سراہا گیا۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا تھا کہ ایسے دورے طلباء کی شخصیت سازی اور ذہنی وسعت کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ اساتذہ کا موقف: سکول انتظامیہ اور اساتذہ نے بار ایسوسی ایشن کی قیادت، خصوصاً رائے اظہر امتیاز کھرل ایڈووکیٹ اور حافظ محمد سہیل رسول گجر ایڈووکیٹ کا گرم جوش استقبال اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔ وکلاء کا عزم: بار قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی مختلف سکولوں اور کالجوں کے طلباء کے لیے ایسے تعلیمی و آراستگی سیشنز کا انعقاد کرتے رہیں گے تاکہ قانون اور آئین کا صحیح پیغام نئی نسل تک پہنچ سکے۔ طلباء کا تاثر: دورے میں شامل بچوں نے بے حد خوشی اور اشتیاق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کچہری آ کر اور وکلاء سے بات چیت کر کے بہت کچھ نیا اور کارآمد سیکھنے کو ملا، جس سے ان کی علم میں اضافہ ہوا ہے۔ نتیجہ (Editorial Conclusion) نوشہرہ ورکاں کی تحصیل کورٹس میں سکول کے بچوں کا یہ تعلیمی دورہ ایک نہایت خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب نسلِ نو کو مثبت سرگرمیوں اور قانون کی پاسداری کی طرف راغب کرنے کی اشد ضرورت ہے، نصابی تعلیم کو عملی میدان سے جوڑنا ایک بہترین قدم ہے۔ اگر اس طرح کے معلوماتی دوروں کو تمام اضلاع اور تحصیلوں کی سطحات پر باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ بنا دیا جائے تو نہ صرف بچوں کے اندر آئینی شعور بیدار ہوگا بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے گی جہاں قانون کی احترام اور انصاف کی بالادستی کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے۔ Post navigation خضر حیات خان سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا تعینات: بلدیاتی نظام میں اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک اہم پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ پشاور: امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت، وفاقی وزراء بھی ہمراہ