اہم نکات جھارکھنڈ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن نے وکلاء کو سوشل میڈیا پر مختصر تفریحی ویڈیوز (رییلز) اور نمائشی کارروائیوں کی عکاسی کرنے سے روک دیا ہے۔ موصول ہونے والی متعدد شکایات کے بعد جاری کردہ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ موکلین کو راغب کرنے کے لیے ایسی سرگرمیاں قانون کے پیشے اور عدلیہ کے وقار کو مجروح کرتی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے تمام ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت یا قانونی پیشے کی نامناسب عکاسی کرنے والا تمام مواد فوری طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیں۔ ہدایت نامے کی خلاف ورزی کرنے والے وکلاء کے خلاف ضابطہ اخلاق کے تحت سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ واقعے کی تفصیلات اور ایسوسی ایشن کا اقدام ہندوستانی ریاست جھارکھنڈ میں ہائی کورٹ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن نے ایک اہم اور پروقار فیصلہ سناتے ہوئے تمام پیشہور وکلاء کو سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر مختصر تفریحی ویڈیوز اور نمائشی ویڈیوز بنانے سے سختی سے منع کر دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موکلین کو متوجہ کرنے یا سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے عدالت کے ماحول یا وکالت کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنا قانونی پیشے کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن نے ایک باضابطہ ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت اور عدالتی نظام ایک انتہائی باوقار ادارہ ہے۔ وکلاء کی جانب سے سوشل میڈیا پر کی جانے والی اس قسم کی سستی نمائندگی سے نہ صرف اس مقدس پیشے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عدلیہ کی عزت و احترام پر بھی حرف آتا ہے۔ شکایتوں کا پس منظر اور سوشل میڈیا کا رجحان حالیہ عرصے میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کچھ وکلاء کی جانب سے ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی تھیں جن میں عدالتی کارروائی کو ناٹکی انداز میں دکھایا جاتا تھا یا پھر موکلین کو راغب کرنے کے لیے اشتہاری انداز اپنایا جا رہا تھا۔ اس قسم کے رویے پر قانونی برادری، سینئر وکلاء اور خود عدالتی حلقوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ ایسوسی ایشن کو اس حوالے سے متعدد تحریری اور زبانی شکایات موصول ہوئیں، جن میں نشاندہی کی گئی تھی کہ کچھ وکلاء اپنے سیاہ کوٹ اور گاؤن کا استعمال تفریحی ویڈیوز اور رقص یا ڈرامائی مکالموں پر مبنی مواد بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ان شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کی انتظامی کمیٹی نے اس روایت کو فوری طور پر روکنے کا فیصلہ کیا۔ ہدایت نامے کے بنیادی نکات اور ضوابط ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں وکلاء پر چند لازمی پابندیاں اور ہدایات عائد کی گئی ہیں جن کا مقصد قانونی پیشے کے اخلاقی معیار کو برقرار رکھنا ہے: اشتہاری مواد کی ممانعت: موکلین کو متاثر کرنے یا اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بنائے گئے کسی بھی قسم کے تجارتی یا نمائشی ویڈیو کی مکمل ممانعت ہو گی۔ مواد کو فوراً ہٹانے کی ہدایت: جن وکلاء نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عدالتی پیشے سے متعلق غیر مناسب یا غیر اخلاقی ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں، وہ انہیں فی الفور حذف کریں۔ پیشہ ورانہ وقار کا پاس: وکلاء کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنے روزمرہ کے کام اور عام زندگی میں بھی اس پیشے کی باوقار روایت کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔ تادیبی کارروائی کا انتباہ: ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والے ارکان کے معاملے کو بار کونسل اور متعلقہ تادیبی کمیٹیوں کے سپرد کیا جائے گا، جہاں ان کے لائسنس کی منسوخی یا معطلی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ قانونی پیشے کی اخلاقیات اور بین الاقوامی تناظر قانونی اخلاقیات کے اصول کے تحت وکالت کو ایک تجارت یا کاروبار کے بجائے ایک عوامی اور قانونی خدمت کا درجہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے زیادہ تر قانونی نظاموں میں وکلاء کے لیے اشتہار بازی اور سستی شہرت کے ہتھکنڈوں پر سخت پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ بار کونسل کے قوانین کے مطابق کوئی بھی وکیل براہِ راست یا بالواسطہ اپنے کام کی اشتہار بازی نہیں کر سکتا۔ تاہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں بہت سے افراد ان قوانین کی آڑ لے کر الگ الگ طریقوں سے خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کے اس قدم سے دیگر صوبوں اور خطوں کی بار ایسوسی ایشنز کے لیے بھی ایک مثال قائم ہوئی ہے تاکہ وہ تکنیکی دور میں اپنے پیشے کی حرمت کو محفوظ رکھ سکیں۔ پیشہ ورانہ اور سماجی اثرات ایسوسی ایشن کے اس سخت فیصلے کو قانونی برادری کے بیشتر سینئر وکلاء اور حقوق کے ماہرین کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ سوشل میڈیا پر معلومات کی فراہمی ایک مثبت اقدام ہو سکتا ہے، لیکن جب اس کا مقصد صرف سستی مقبولیت یا کمرشل فائدہ بن جائے تو اس سے عدالتی نظام کی سنجیدگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس اقدام سے درج ذیل مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے: عدالتی وقار کی بحالی: عدالتوں اور عدالتی پوشاک (سیاہ کوٹ) کے تقدس کو بحال رکھنے میں مدد ملے گی۔ نوجوان وکلاء کی رہنمائی: نئے آنے والے وکلاء کے لیے یہ پیغام واضح ہوگا کہ ان کی پہچان اور کامیابی کی بنیاد سوشل میڈیا کی مقبولیت نہیں بلکہ ان کی محنت، تحقیق اور دلائل ہیں۔ عوامی اعتماد میں اضافہ: عوام کا عدالتی نظام اور وکلاء کے پیشہ ورانہ معیار پر اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔ مستقبل کا لائحہ عمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ جھارکھنڈ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ یہ انتباہ جدید دور کی تکنیکی ایجادات اور روایتی پیشہ ورانہ اخلاقیات کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ہر فرد اپنے مواد کی رسائی بڑھانے کی دوڑ میں شامل ہے، وہیں قانونی اور طبی جیسے حساس پیشوں کو اپنے دائرہ کار اور احترام کی حفاظت کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ حکام اور ایسوسی ایشن کی جانب سے اب اس بات پر بھی نظر رکھی جائے گی کہ کتنے ارکان اس ہدایت نامے پر مکمل عمل درآمد کرتے ہیں۔ تادیبی اقدامات کی یہ تنبیہ نہ صرف جھارکھنڈ بلکہ تمام قانونی اداروں کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہو گی تاکہ تکنیکی ترقی کے نام پر اخلاقی اقدار کی پامالی کو روکا جا سکے۔ Post navigation یوکرین کی بجلی کی تنصیبات پر روس کے شدید حملے: لاکھوں گھر اندھیرے میں ڈوب گئے، یوکرینی ڈرونز کا بھی جوابی حملہ بھارت کی ریاست منی پور میں بھیانک قوم پرستی اور نسلی تشدد کی تازہ لہر: 5 افراد ہلاک، خطے میں خوف و ہراس اور کشیدگی برقرار