Preloader
Terrorist outfits using AI

اہم نکات (خلاصہ)

  • جدید ٹیکنالوجی کا سہارا: جیشِ محمد نے اپنے سربراہ مسعود اظہر کے مصنوعی صوتی اور تصویری پیغامات تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال تیز کر دیا ہے۔
  • تنظیمی بحالی کی کوشش: اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو راغب کرنا اور تنظیم میں نچلی سطح پر بھرتیوں کے عمل کو دوبارہ متحرک کرنا ہے۔
  • عالمی رجحان: استخباراتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق داعش اور القاعدہ جیسی عالمی کالعدم تنظیمیں اس ٹیکنالوجی کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والی صفِ اول کی جماعتیں رہی ہیں۔
  • دفاعی و سیکیورٹی چیلنجز: مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیجیٹل گمراہی اور جعلی مواد کا پھیلاؤ عالمی سیکیورٹی اور سائبر اداروں کے لیے ایک سخت اور نیا چیلنج بن چکا ہے۔

تجزياتی رپورٹ: سیکیورٹی اداروں کے لیے نئی تشویش

استخباراتی اداروں کی جدید ترین تجزیاتی رپورٹوں کے مطابق کالعدم تنظیم جیشِ محمد نے اپنے تنظیمی و تبلیغی نیٹ ورک کو فعال کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی جدید ترین تکنیکوں کو بروئے کار لانا شروع کر دیا ہے۔ موصول ہونے والی معتبر اطلاعات کے مطابق تنظیم اپنے سربراہ مسعود اظہر کے جدید مصنوعی صوتی اور تصویری پیغامات تیار کر رہی ہے تاکہ ان کی مدد سے تنظیمی سرگرمیوں کو دوبارہ تقویت دی جا سکے اور نوجوانوں کو بھرتی کیا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتہا پسند اور کالعدم گروہ اب محض روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ جدید سائنسی ایجادات اور مصنوعی ذہانت کے مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس طریقہ کار کا مقصد ایک طرف سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچنا ہے اور دوسری طرف کم سے کم وقت میں اپنے پیغامات کو وسیع پیمانے پر پھیلانا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور کالعدم تنظیمیں: اکیسویں صدی کا نیا محاذ

حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے تیزی سے ہوتے ہوئے فروغ نے جہاں مختلف شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہاں اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ استخباراتی جائزوں کے مطابق خطے اور دنیا بھر میں سرگرم مختلف انتہا پسند تنظیمیں اس تکنیک کو اپنے لیے ایک اہم حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

اس ضمن میں درج ذیل اہم حقائق سامنے آئے ہیں:

  • ابتدائی پیش رفت: عالمی کالعدم تنظیموں جیسے داعش اور القاعدہ نے سب سے پہلے اپنے کارروائیوں اور نشریات کو مصنوعی ذہانت کے سانچے میں ڈھالا۔
  • تیز ترین اپنانے والی تنظیم: تمام تر جائزوں میں داعش کو ایک ایسی تنظیم کے طور پر دیکھا گیا ہے جس نے سائبر اور تکنیکی ذرائع کو سب سے تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔
  • نئے طریقے: جعلی آڈیو، ڈیپ فیک ویڈیوز، اور خودکار سوشل میڈیا بوٹس کے ذریعے نفرت انگیز مواد کی مسلسل فراہمی اور تشہیر۔

ان تنظیمی حربوں کے سامنے آنے کے بعد سائبر سیکیورٹی اور استخباراتی اداروں کی تشویش میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائے گئے پیغامات کو اصل مواد سے الگ کرنا بالخصوص عام شہریوں کے لیے نہایت دشوار ہوتا جا رہا ہے۔

بھرتیوں کی بحالی: تکنیکی طریقہ کار اور خطرات

جیشِ محمد کی جانب سے اپنے اہم رہنما کے صوتی و تصویری پیغامات کی تیاری کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو گمراہ کر کے تنظیم میں شامل کرنا ہے۔ طویل عرصے سے سیکیورٹی پابندیوں اور سخت نگرانی کے باعث ایسی تنظیموں کے لیے جلسے، جلوس یا بالمشافہ اجتماعات منعقد کرنا ناممکن ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اب مجازی دنیا کا سہارا لے رہی ہیں۔

مصنوعی صوتی و تصویری کلپس (ڈیپ فیکس) بنانے کے لیے مسعود اظہر کی پرانی تقریروں، تحریروں اور آواز کے نمونوں کو مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے۔ اس سے ایک ایسی مصنوعی آواز اور شکل تخلیق کی جاتی ہے جو بولنے میں بالکل اصل محسوس ہوتی ہے۔ ایسے پیغامات کو مختلف خفیہ پیغامات رسانی کی ایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے تاکہ متاثر کن اور پراثر انداز میں نئے ارکان کو راغب کیا جا سکے۔

تجزئیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار محض تبلیغ کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک قسم کی نفسیاتی اور سائبر جنگ کا حصہ ہے جو خطے کی امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنجز

جدید تکنیک کی اس لہر نے قانون نافذ کرنے والے اور استخباراتی اداروں کے سامنے کئی پیچیدہ سوالات اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ روایتی طریقوں کے برعکس مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ مواد کا پتہ لگانا اور اس کے منبع کو تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔

اہم چیلنجز درج ذیل ہیں:

  1. جعلی مواد کی شناخت: عام اور جدید سافٹ ویئر کے ذریعے تیار کردہ ڈیپ فیک ویڈیوز اور آڈیو کی اصلیت کی تصدیق کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر وقت میسر نہیں ہوتی۔
  2. غیر مرکزی نیٹ ورکس: ان پیغامات کو پھیلانے کے لیے کسی ایک سرور یا مرکزی دفتر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ دنیا کے کسی بھی کونے سے نیٹ ورک پر ڈالے جا سکتے ہیں۔
  3. عالمی قوانین کا فقدان: مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے فی الحال عالمی سطح پر کوئی مضبوط یا یکساں قانونی فریم ورک موجود نہیں ہے، جس کا فائدہ غیر قانونی تنظیمیں اٹھا رہی ہیں۔

عالمی اور علاقائی سیکیورٹی پر اثرات

اس قسم کے اقدامات سے نا صرف علاقائی بلکہ عالمی سیکیورٹی کے توازن کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ جب کالعدم تنظیمیں تکنیکی اعتبار سے خود کو جدید بناتی ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے روایتی دفاعی حکمت عملی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔

ماہرینِ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے اس منفی استعمال کو وقت پر نہ روکا گیا تو آنے والے دنوں میں یہ تنظیمیں سائبر حملوں، مالیاتی جعل سازی اور دیگر سنگین الیکٹرانک جرائم کے ذریعے مزید وسائل حاصل کر سکتی ہیں۔ اس لیے محض عسکری یا زمینی کارروائی کے بجائے اب ایک مضبوط اور مربوط سائبر پالیسی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔

مستقبل کی حکمت عملی: ممکنہ حل اور اقدامات

مصنوعی ذہانت کے اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری اور تمام متعلقہ ممالک کے سیکیورٹی اداروں کو مشترکہ اور جدید اقدامات اٹھانے ہوں گے:

  • سائبر ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن: استخباراتی اداروں کو خودکار الگورتھم اور مصنوعی ذہانت سے لیس ایسے ٹولز تیار کرنے ہوں گے جو جعلی مواد کی آن لائن آمد پر فوری شناخت کر کے اسے بلاک کر سکیں۔
  • ٹیکنالوجی کمپنیوں کا تعاون: دنیا کی تمام بڑی سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ مواد کے استعمال کو روکنے کے لیے سخت فلٹرز لگائیں۔
  • عوامی آگاہی: عام شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے شعور دیا جائے تاکہ وہ اس قسم کی جعلی ویڈیوز اور گمراہ کن پیغامات کا شکار نہ بنیں۔

مجموعی طور پر، جیشِ محمد اور دیگر تنظیمی گروہوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کا یہ نیا اور تکنیکی استعمال اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ دشت گردی کے خلاف جنگ اب محض زمین یا پہاڑوں پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا کے نادیدہ محاذوں پر بھی لڑی جائے گی، اور اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے لیے جدید علم اور سائنسی بصیرت کا ہونا لازمی ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔