Preloader
Trump is in a corner and likely to lash out at Iran

اہم نکات

  • ٹرمپ کا سیاسی دباؤ: امریکی سیاست اور اندرونی چیلنجز کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے بعد اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی توجہ ہٹانے اور انتقامی سیاست کے لیے ایران پر دوبارہ سخت دباؤ یا عسکری کارروائی کر سکتے ہیں۔
  • ضمنی انتخابات کے بعد کا سیاسی منظر نامہ: امریکی ضمنی انتخابات کے اختتام کے ساتھ ہی انتظامیہ کو آزادانہ پالیسیاں اور سخت فیصلے نافذ کرنے کا سیاسی موقع مل جائے گا، جس کے مشرقِ وسطیٰ پر عمیق اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
  • سفارت کاری کا ناگزیر کردار: تجزیہ کاروں اور عالمی امور کے ماہرین کے مطابق کسی بھی نئے عالمی یا علاقائی ڈیزاسٹر سے بچنے کے لیے عالمی طاقتوں اور اتحادیوں کی جانب سے وقت سے پہلے دانشمندانہ سفارت کاری اور سیاسی حکمتِ عملی انتہائی ضروری ہے۔
  • عالمی معیشت پر اثرات: امریکہ اور ایران کے درمیان نیا تنازع اور کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور مشرقِ وسطیٰ کے مجموعی امن کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

واشنگٹن / تہران: امریکی سیاست کے پیچیدہ اور پرشمار بدلتے ہوئے حالات میں ایک بار پھر یہ خدشہ شدت اختیار کر رہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے سیاسی رفقاء اپنی اندرونی سیاسی مشکلات اور دباؤ سے نکلنے کے لیے ایران کے خلاف سخت ترین رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور سیاسی مبصرین کے مطابق، امریکی سیاست میں جب بھی اندرونی محاذ پر دباؤ بڑھتا ہے تو غیر ملکی پالیسی کو بطورِ ڈھال استعمال کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مڈ ٹرم یعنی ضمنی انتخابات کے مرحلے سے نکلنے کے بعد امریکی سیاسی منظر نامے میں ایران کے حوالے سے سخت اور جارحانہ اقدامات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں سب سے اہم اور بنیادی سوال جو عالمی برادری، سفارت کاروں اور بین الاقوامی اداروں کے سامنے کھڑا ہے وہ یہ ہے کہ اس متوقع تباہی کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے کیسے روکا جائے؟ کیا عالمی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے وقت رہتے ایسا سفارتی فریم ورک تیار کر سکتے ہیں جو اس ممکنہ تصادم کی راہ میں رکاوٹ بن سکے؟

اندرونی دباؤ اور انتقامی سیاست کا خطرہ

ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ سیاسی چیلنجز کا مقابلہ دفاعی انداز کے بجائے جارحانہ حکمتِ عملی سے کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنے دورِ اقتدار میں انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے تاریخی جوہرٰی معاہدے (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کی اور تہران پر “شدید ترین دباؤ” (میکسیمم پریشر) کی پالیسی عائد کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب کوئی سیاسی قائد اندرونی طور پر سیاسی یا قانونی کٹہرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے، تو وہ اپنے حامیوں کی توجہ موڑنے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے خارجہ پالیسی کے سخت فیصلوں کا سہارا لیتا ہے۔ ضمنی انتخابات کی دھول بیٹھنے کے بعد، امریکہ کی داخلی سیاست میں پیدا ہونے والا خلا ایسے انتہائی فیصلوں کے لیے راہ ہموار کر سکتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر کوئی مؤثر روک تھام نہ کی گئی تو تہران کے خلاف نئی معاشی پابندیاں، خفیہ کارروائیاں یا خلیج کیمرے میں عسکری کشیدگی دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

امریکہ اور ایران کے تعلقات: ماضی اور موجودہ تناظر

امریکہ اور ایران کے تعلقات دہائیوں سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں، لیکن حالیہ سالوں میں یہ تناؤ خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان تعلقات کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی نکات اور تاریخ کا جائزہ لینا ضروری ہے:

  • 2015ء کا جوہری معاہدہ: باراک اوباما کے دور میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایٹمی معاہدہ طے پایا جس کے تحت ایران پر سے معاشی پابندیاں ہٹائی گئیں۔
  • 2018ء کا یکطرفہ فیصلہ: ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کو تاریخ کا بدترین معاہدہ قرار دے کر اس سے علیحدگی کا اعلان کیا اور سخت ترین معاشی پابندیاں بحال کر دیں۔
  • 2020ء کی عسکری کشیدگی: جنوری 2020ء میں بغداد کے ہوائی اڈے پر ایرانی القدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد دونوں ممالک براہِ راست جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔
  • موجودہ بحران: ایران کے ایٹمی پروگرام میں پیش رفت، علاقائی اثر و رسوخ اور معاشی دباؤ کے باعث فریقین کے مابین بے اعتمادی کی فضا قائم ہے۔

تباہی سے بچاؤ کا طریقہ: سفارت کاری اور حکمتِ عملی

امریکی طاقت کو بے لگام ہونے اور ایران کے ساتھ تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے محض خدشات ظاہر کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ایک واضح اور عملی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق درج ذیل اقدامات اس متوقع ڈیزاسٹر کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:

  1. یورپی اتحادیوں کا متحرک کردار: برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ واشنگٹن پر یکطرفہ عسکری یا سخت اقدامات سے گریز کے لیے دباؤ ڈالیں۔ یورپ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر بھگتتا ہے، لہٰذا اس کا غیر جانبدارانہ دباؤ انتہائی اہم ہے۔
  2. علاقائی طاقتوں کی ثالثی: خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب، قطر اور عمان، جنہوں نے حالیہ عرصے میں ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔
  3. بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کا کردار: ایران کے جوہری پروگرام پر شفاف نگاہ رکھنا اور تکنیکی ماہرین کی رسائی کو یقینی بنانا سیاسی الزامات کی دھند کو چھانٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
  4. امریکی کانگریس کی نگرانی: امریکی قانون سازوں اور پارلیمان کو چاہیے کہ وہ بغیر پیشگی منظوری کے کسی بھی قسم کے غیر ملکی عسکری مہم جوئی پر آئینی پابندیاں عائد رکھیں۔

“اگر دنیا نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والے اس نئے طوفان کو نظر انداز کیا تو اس کے نتائج صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی لپیٹ میں پوری عالمی معیشت اور خطے کا امن آ جائے گا۔” — بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کار

عالمی معیشت اور مشرقِ وسطیٰ پر ممکنہ اثرات

اگر امریکہ اور ایران کے مابین تلیخیاں دوبارہ کھلی دشمنی میں بدلتی ہیں تو اس کے اثرات عالمی سطح پر انتہائی بھیانک ہوں گے۔ تنگہِ ہرمز، جہاں سے دنیا کا بڑا تیل کا جہاز گزرتا ہے، بلاک ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

اقتصادی اور سیاسی اثرات درج ذیل صورتوں میں سامنے آ سکتے ہیں:

  • تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ: خام تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں بے قابو ہو سکتی ہیں، جس سے پہلے سے مہنگائی کا شکار ممالک پر مزید مالیاتی بوجھ پڑے گا۔
  • مشرقِ وسطیٰ کی عدمِ استحکام: یمن، لبنان، شام اور عراق میں جاری نازک امن کے عمل کو شدید نقصان پہنچے گا۔
  • سپلاہی چین میں خلل: بحیرہ احمر اور خلیجِ فارس کی تجارتی گزرگاہیں غیر محفوظ ہونے سے عالمی تجارت متاثر ہوگی۔

نتیجہ

امریکی اندرونی سیاست کے ڈرامائی مراحل اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ طور پر ایران کو دوبارہ نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی ایک ایسا حساس موضوع ہے جس پر عالمی برادری کو ابھی سے بیدار ہونا پڑے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی نئے عسکری یا سیاسی بحران کو جنم لینے سے روکنے کا واحد راستہ پختہ عزم، فعال سفارت کاری اور تمام متعلقہ فریقین کا صبر و تحمل ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے معاشی اور سفارتی اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کو بات چیت کی میز پر قائم رکھیں، تو اس ممکنہ تباہی اور تصادم سے دنیا کو بحفاظت بچایا جا سکتا ہے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔