
پشاور – افغانستان کے صوبے خوست اور ننگرہار میں طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے کمانڈر حافظ گل بہادر گروپ کے درمیان تصادم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع اور طالبان کے مصدقہ ذرائع کے مطابق اس تصادم میں حافظ گل بہادر گروپ کے 16 اہم ترین کمانڈرز مارے گئے ہیں۔
اس تصادم میں مارے جانے والوں میں 10 ساتھیوں سمیت خوست میں اور 6 ساتھی ننگرہار میں مارے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ تصادم اس وقت ہوا جب طالبان کی سیکیورٹی فورسز نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کے کمانڈروں اور ان کے ساتھیوں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کچھ عناصر ان کے جنگجوؤں پر حملے کر رہے ہیں، جس کے بعد یہ کارروائی شروع کی گئی۔
افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان نے افغان طالبان سے اس معاملے پر بات چیت کرنے کی اپیل کی ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ یہ صورتحال مزید خراب ہو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تصادم دونوں جانب سے ایک بڑی غلطی ہے اور اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔
یہ خبر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی اور سیکیورٹی معاملات پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کر رہے ہیں، جب کہ افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔