اہم نکات (خلاصہ) رجب طیب اردوان کا انتباہ: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے یوکرینی ہم منصب ولودیstructure زلنسکی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بحیرہ اسود (Black Sea) میں تجارتی جہازوں پر روس اور یوکرین کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کو “ناقابلِ فہم” قرار دیا ہے۔ حملے روکنے کی اپیل: انقرہ میں صدارتی دفتر سے جاری بیان کے مطابق، صدر اردوان نے زور دیا کہ بحیرہ اسود میں تجارتی اور بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دونوں فریقوں کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ترکیہ کا متوازن کردار: نیٹو کے رکن ملک ترکیہ نے 2022ء میں یوکرین پر روس کے جامع حملے کے بعد سے ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ اپنے خوشگوار اور متوازن تعلقات برقرار رکھے ہیں۔ علاقائی و عالمی اہمیت: بحیرہ اسود کے راستے عالمی غذائی سپلائی، بالخصوص اناج اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو یقینی بنانا عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے انتہائی حیاتی تصور کیا جاتا ہے۔ انقرہ (خاص رپورٹ) — ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے یوکرین کے صدر ولودی میر زلنسکی سے رابطہ کر کے بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی بحری کشیدگی اور تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترکیہ کے صدارتی دفتر (کُلیّہ) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، ترکیہ کے صدر نے واضح کیا کہ جنگ کے باوجود بحیرہ اسود جیسی عالمی اہمیت کی حامل شاہراہ پر تجارتی اور کارگو جہازوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ فہم ہے اور اسے روکنے کے لیے فوری اور عمل انگیز اقدامات کی ضرورت ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022ء سے جاری خونریز جنگ کے دوران بحیرہ اسود کا خطہ نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے بلکہ یہ عالمی تجارت، بالخصوص اناج اور کھاد کی عالمی ترسیل کی سب سے اہم بحری گزرگاہ بھی ہے۔ ترکیہ نے بارہا دونوں جنگجو فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس بحری راستے پر تجارتی جہاز رانی کے لیے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کریں۔ بحیرہ اسود میں بحری کشیدگی کا پس منظر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز سے ہی بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں، بندرگاہوں اور سمندری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان حملوں نے نہ صرف عالمی سمندری نقل و حمل کو شدید متاثر کیا بلکہ بحری جہاز رانی کی انشورنس قیمتوں کو بھی ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا۔ اس خطے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت کے حوالے سے اہم پس منظر درج ذیل ہے: بحیرہ اسود اناج راہداری (Black Sea Grain Initiative): 2022ء میں ترکیہ اور اقوامِ متحدہ نے مشترکہ طور پر ایک تاریخی معاہدہ طے کرایا تھا جس کے تحت یوکرین کی بندرگاہوں سے دنیا بھر، بالخصوص افریقی اور ایشیائی ممالک کو لاکھوں ٹن اناج کی محفوظ ترسیل ممکن بنائی گئی تھی۔ معاہدے کی منسوخی: جولائی 2023ء میں روس اس معاہدے سے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے الگ ہو گیا تھا کہ اس کی اپنی زرعی مصنوعات اور کھاد پر عائد مغربی پابندیاں ختم نہیں کی گئیں۔ متبادل راستے اور نئے خطرات: معاہدے کے خاتمے کے بعد، یوکرین نے رومانیہ اور بلغاریہ کے ساحلی پانیوں کے قریب اپنے متبادل بحری راستے (Humanitarian Corridor) قائم کیے، تاہم بحیرہ اسود میں بارودی سرنگوں، ڈرون حملوں اور میزائلوں سے تجارتی جہازوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔ ترکیہ کا نقطہ نظر: ثالثی اور متوازن سفارت کاری نیٹو (NATO) کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود ترکیہ کی خارجہ پالیسی روس-یوکرین جنگ میں منفرد اور متوازن رہی ہے۔ صدر اردوان کی زیرِ قیادت ترکیہ نے جنگ کے آغاز ہی سے ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کو استوار رکھا ہے۔ ترکیہ کی اس سفارتی حکمتِ عملی کے بنیادی خدوخال درج ذیل ہیں: یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت: ترکیہ نے یوکرین کی خودمختاری، بشمول کریمیا کی حیثیت، کا ہمیشہ اعادہ کیا ہے اور یوکرین کو دفاعی ساز و سامان (بشمول بائراکطار ڈرونز) بھی فراہم کیے ہیں۔ روس کے ساتھ اقتصادی اور سٹریٹجک روابط: مغرب کے برعکس ترکیہ نے روس پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کیں بلکہ توانائی، سیاحت اور تجارت کے شعبوں میں ماسکو کے ساتھ روابط قائم رکھے۔ ثالث کا مرکزی کردار: ترکیہ نے 2022ء میں استنبول میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور مذاکراتی ٹیموں کے درمیان براہِ راست ملاقاتیں کرائیں اور اناج معاہدے جیسا کامیاب ڈپلومیٹک بریک تھرو حاصل کیا۔ اسی لیے جب صدر اردوان دونوں فریقین کے اقدامات پر تنقید کرتے ہیں تو عالمی برادری میں ان کے مؤقف کو وزن دیا جاتا ہے، کیونکہ ترکیہ درحقیقت بحیرہ اسود کا متصل ملک ہے اور ‘مونٹرو کنونشن 1936ء’ کے تحت بحیرہ اسود کے بوغازوں (باسفورس اور در دانیال) کا مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔ تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے عالمی معیشت پر اثرات بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے محض دو ممالک کا تنازع نہیں ہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور باہم منسلک عالمی سپلائی چین پر براہِ راست پڑتے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں سامنے آنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ڈیٹا اور نکات کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے: عالمی غذائی سیکیورٹی پر دباؤ: یوکرین اور روس دنیا میں گندم کی کل برآمدات کا تقریباً 25 سے 30 فیصد جبکہ سورج مکھی کے تیل کا 60 فیصد سے زائد فراہم کرتے ہیں۔ بحیرہ اسود میں خلل سے کم ترقی یافتہ ممالک میں قحط اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انشورنس پریمیم میں بے پناہ اضافہ: سمندری خطرات کے باعث تجارتی جہازوں کی انشورنس کی قیمتیں (War Risk Premium) کئی گنا بڑھ چکی ہیں، جس کی وجہ سے جہاز رانی کی کمپنیاں اس راستے پر سفر کرنے سے کتراتی ہیں۔ بحری راستوں میں عدم استحکام: بحیرہ اسود میں موجود تیرتی ہوئی غیر فعال سمندری بارودی سرنگیں (Floating Sea Mines) نہ صرف فریقین کے لیے بلکہ تجارتی ملکیت والے آئل ٹینکرز اور بلک کیریئرز کے لیے بھی ہلاکت خیز ثابت ہو رہی ہیں۔ صدر اردوان اور زلنسکی کی گفتگو کے ممکنہ نتائج صدارتی دفتر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ ایک بار پھر بحیرہ اسود میں جنگ بندی یا کم از کم “بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے نئے ضوابط” کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکیہ کا نیا اقدام درج ذیل مقاصد کے حصول کے لیے ہو سکتا ہے: بحری سیکیورٹی کے نئے فریم ورک کی تجویز: ترکیہ اقوامِ متحدہ کے تعاون سے روس اور یوکرین دونوں کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ غیر عسکری تجارتی جہازوں پر حملے نہ کرنے کا باضابطہ معاہدہ کریں۔ بحیرہ اسود کو تصادم سے دور رکھنا: ترکیہ نہیں چاہتا کہ نیٹو اور روس کے درمیان براہِ راست سمندری تصادم بحیرہ اسود کی حدود میں ہو، کیونکہ اس سے ترکیہ کے لیے مونٹرو کنونشن کے تحت اپنے وعدوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ نئے مذاکراتی عمل کا آغاز: صدر اردوان کے اس سخت مؤقف کے بعد، توقع کی جا رہی ہے کہ ترکیہ آنے والے دنوں میں ماسکو سے بھی اسی قسم کا رابطہ کرے گا تاکہ سمندری تنازع کو حل کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ نتیجہ اور آئندہ کا منظرنامہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا یوکرینی صدر ولودی میر زلنسکی کو دیا گیا پیغام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحیرہ اسود کی صورتحال ایک بار پھر خطرے کی سرخ لکیر کے قریب پہنچ رہی ہے۔ تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچانا نہ صرف بین الاقوامی سمندری قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے بے گناہ شہریوں اور عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا روس اور یوکرین ترکیہ کی اس سفارتی تنبیہ پر عمل کرتے ہوئے بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے کسی یکساں اور مشترکہ ضابطہ اخلاق پر متفق ہوتے ہیں یا نہیں، یا پھر یہ سمندری علاقہ بھی زمینی محاذ کی طرح مزید برباد کن تصادم کا شکار ہوتا جائے گا۔ Post navigation افغان سرحد پار ڈرون گھس پیٹھ کی کوشش ناکام: پاکستان کا شدید ردِعمل، افغانستان میں 10 مقامات پر نشانہ انداز کارروائی