اہم نکات روس کے تازہ ترین فضائی اور ڈرون حملوں نے یوکرین کے توانائی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں گھرانے بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے ستمبر کی شام سے اب تک 433 دور مار ڈرونز داغے، جن میں سے 371 ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔ جوابی کارروائی کے طور پر یوکرین نے بھی روس کے اندرونی علاقے میں ڈرون حملہ کر کے ایک صنعتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں سے خطے میں بجلی کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے اور آنے والے سرد موسم میں عوام کے لیے شدید انسانی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حملوں کی تفصیلات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان یوکرین پر روس کی جانب سے کیے جانے والے تازہ ترین فضائی اور ڈرون حملوں نے ملک میں بجلی اور توانائی کی فراہمی کے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔ کیف میں قائم حکام کے مطابق روسی افواج نے ملک کی اہم بجلی کی تنصیبات، گرڈز اور پاور ہاؤسز کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں لاکھوں خاندان اور رہائشی عمارتیں اندھیرے میں ڈوب گئی ہیں اور متعدد شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔ یوکرین کی فضائی دفاعی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی طرف سے اتوار اور ہفتے کی درمیانی رات سے لے کر اب تک 433 دور مار اور خودکش ڈرونز داغے گئے۔ اگرچہ یوکرینی دفاعی نظام نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 371 ڈرونز کو ہوا ہی میں تباہ کر دیا، تاہم باقی ماندہ ڈرونز اور روزمرہ کی بمباری نے بجلی کے اہم انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کو نہ روکا۔ یوکرین کا جوابی اقدام: روس کے صنعتی مرکز پر حملہ دوسری جانب، یوکرین نے بھی اپنے دفاعی اور جوابی لائحہ عمل کے تحت روس کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرینی ڈرونز نے روس کے علاقہ نژنی نووگورود میں ایک اہم صنعتی تنصیب پر حملہ کیا ہے۔ روسی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یوکرینی ڈرون حملے کے باعث صنعتی مرکز کو نقصان پہنچا ہے۔ ماہرینِ حرب کا ماننا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روس کے صنعتی اور لاجسٹک مراکزی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت اور رسد کے نظام کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ یوکرینی تنصیبات پر حملوں سے باز رہے۔ اعداد و شمار اور جنگی اعداد کا جائزہ روسی حملوں اور دفاعی اقدامات کے اعداد و شمار اس لڑائی کی شدت کو واضح کرتے ہیں: روسی ڈرونز کی کل تعداد: 433 دور مار ڈرونز داغے گئے۔ یوکرینی دفاع کی کامیابی: 371 ڈرونز کو ہوا میں تباہ کر دیا گیا۔ متاثرہ آبادی: لاکھوں گھرانے بجلی، حرارت اور پانی کی بنیادی سہولیات سے محروم۔ روس میں متاثرہ علاقہ: نژنی نووگورود کا صنعتی زون۔ تاریخی پس منظر اور توانائی کی جنگ کا عنصر روس اور یوکرین کے درمیان جاری اس کشمکش میں بجلی کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا ایک بڑی عسکری حکمتِ عملی بن چکا ہے۔ 2022 کے اوائل میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ہی روس نے یوکرین کے توانائی کے نیٹ ورک کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ سردیوں کی آمد سے قبل بجلی کے نظام کو مفلوج کرنے کا مقصد یوکرینی عوام کی برداشت کا امتحان لینا اور ملک کے معاشی و انتظامی ڈھانچے کو نڈھال کرنا ہے۔ یوکرین کے پاور ہاؤسز، ٹرانسفارمرز اور بجلی کی مرکزی لائینیں اس سے قبل بھی بارہا تباہ ہوئی ہیں، جن کی تعمیرِ نو پر کروڑوں ڈالر کا خرچ آ چکا ہے۔ باوجود اس کے کہ عالمی برادری اور مغربی ممالک یوکرین کو ایئر ڈیفنس سسٹمز اور پاور جنریٹرز فراہم کر رہے ہیں، اتنے بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کو مکمل طور پر روکنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ انسانی بحران اور ممکنہ اثرات توانائی کے بحران نے یوکرین میں عام شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بجلی کی عدم موجودگی سے نہ صرف روشنی کا نظام متاثر ہوا ہے بلکہ گھروں کو گرم رکھنے والے حرارتی سسٹمز، اسپتالوں کی اہم طبی مشینری، تعلیمی اداروں اور پانی کی فراہمی کے نیٹ ورک پر بھی بے حد منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اگر یہ حملے یوں ہی جاری رہے تو آنے والے شدید سردی کے ایام میں یوکرین کے شہریوں کو ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بجلی کی عدم موجودگی سے صنعتی پیداواوار رک چکی ہے جس کے باعث ملک کی معیشت مزید بدحالی کا شکار ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی ردِعمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ نے شہری تنصیبات اور بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کو درپیش ان مشکلات اور بنیادی سہولیات کی معطلی سے انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کا ماننا ہے کہ جب تک فریقین کے درمیان سفارتی بات چیت اور عسکری انقطاع کی راہ ہموار نہیں ہوتی، تب تک عام شہری یوں ہی جنگ کا ایندھن بنتے رہیں گے۔ یوکرین میں پاور گرڈز کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی امداد کی ضرورت ہے تاکہ لاکھوں شہریوں کو اس اندھیرے اور سردی کے عذاب سے نکالا جا سکے۔ Post navigation سوات اور ملحقہ علاقوں میں 4.4 شدت کا زلزلہ: شہریوں میں خوف و ہراس، زلزلہ پیما مرکز نے تفصیلات جاری کر دیں وکلاء کا سوشل میڈیا پر مختصر ویڈیوز بنانے پر پابندی: جھارکھنڈ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس ایسوسی ایشن کا تادیبی کارروائی کا انتباہ