google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
IMG-20250403-WA0009

کومرم بھیم آصف آباد (تلنگانہ): بھارتی ریاست تلنگانہ کے ضلع کومرم بھیم آصف آباد میں ایک ایسا حیران کن واقعہ پیش آیا ہے جس نے معاشرے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہاں ایک نوجوان نے بیک وقت دو لڑکیوں کے ساتھ ایک ہی منڈپ میں شادی رچا کر محبت کی ایک نئی اور انوکھی داستان رقم کر دی ہے۔

سوریا دیو نامی اس نوجوان کا کہنا ہے کہ وہ لال دیوی اور جھلکاری دیوی دونوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور اسی لیے اس نے کسی ایک کو بھی ناراض نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دونوں کے ساتھ ایک ہی وقت میں شادی کرنے کا اعلان کیا۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب سوریا دیو نے اپنی شادی کے دعوت نامے شائع کروائے، جن پر دونوں دلہنوں کے نام درج تھے۔ اس نے ایک شاندار اور مشترکہ تقریب کا اہتمام کیا جس میں گاؤں کے لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

ذرائع کے مطابق، سوریا دیو کا دونوں لڑکیوں کے ساتھ گہرا تعلق تھا اور جب اس نے محسوس کیا کہ وہ دونوں کے بغیر نہیں رہ سکتا تو اس نے ان دونوں کے سامنے بیک وقت شادی کی تجویز رکھی۔ حیران کن طور پر، لال دیوی اور جھلکاری دیوی دونوں اس تجویز پر راضی ہو گئیں۔ ان تینوں نے باہمی رضامندی سے ایک ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد انہوں نے اپنے اس غیر معمولی رشتے کو باضابطہ بنانے کے لیے شادی کرنے کا ارادہ کیا۔

اس انوکھی شادی کے بارے میں جب گاؤں کے بزرگوں کو علم ہوا تو پہلے پہل انہیں کچھ ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔ تاہم، سوریا دیو، لال دیوی اور جھلکاری دیوی نے مل کر انہیں اپنے فیصلے سے آگاہ کیا اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔ طویل بحث و تمحیص کے بعد، گاؤں کے معززین نے بالآخر اس غیر روایتی شادی کو اپنی رضامندی دے دی اور نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے اس شادی کی تقریب کے انعقاد میں ہر ممکن مدد بھی فراہم کی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں ہندو میرج ایکٹ کے تحت ایک وقت میں ایک سے زیادہ شادی کرنا غیر قانونی ہے۔ اس قانون کے تحت، اگر کوئی ہندو مرد یا عورت پہلے سے شادی شدہ ہونے کے باوجود دوسری شادی کرتا ہے تو وہ قانوناً جرم تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، اس معاملے میں سوریا دیو نے ایک ہی تقریب میں دو خواتین سے شادی کی ہے، جس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اس شادی کو قانونی طور پر تسلیم کرنا مشکل ہو گا اور اس کے نتیجے میں سوریا دیو قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ہندوستان میں اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ اس سے قبل 2021 میں بھی تلنگانہ ہی میں ایک شخص نے ایک ہی منڈپ میں دو خواتین سے شادی کی تھی۔ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض اوقات محبت کی روایات اور سماجی رسم و رواج قانون کی حدود سے بھی آگے نکل جاتی ہیں۔

بہر حال، سوریا دیو کی یہ انوکھی شادی اس علاقے میں اور سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اس نوجوان کے جرات مندانہ فیصلے کو سراہ رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ہندو قانون کی خلاف ورزی پر تنقید کر رہے ہیں۔ تاہم، سوریا دیو، لال دیوی اور جھلکاری دیوی اپنی نئی زندگی کی شروعات پر خوش دکھائی دیتے ہیں اور انہوں نے ایک ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ محبت کی ایک ایسی داستان ہے جو آنے والے دنوں میں بھی یاد رکھی جائے گی۔

صفراوادی‘: انڈونیشیا کا وہ ’مقدس غار جہاں مکہ تک پہنچانے والی خفیہ سرنگ‘ موجود ہے جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟ سی ڈی اے ہسپتال میں لفٹ خراب ٹریفک پولیس جدید طریقہ واردات