برطانیہ کی لیبر حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں اور تجارتی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔جولائی میں کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانوی وزیراعظم بننے والے اینڈی برنہم نے اسرائیل کے بارے میں برطانیہ کی پالیسی کو سخت کرنے کا اشارہ دیا ہے۔اس اہم فیصلے سے نہ صرف اسرائیل اور برطانیہ کے سفارتی تعلقات شدید متاثر ہوں گے بلکہ امریکہ اور واشنگٹن کے ساتھ بھی برطانوی تعلقات میں دباؤ آنے کی توقع ہے۔اسرائیلی حکام نے برطانوی قدم پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جوابی اقدامات اور سفارتی سطح پر سخت احتجاج کی دھمکی دی ہے۔لندن / یروشلم: برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں اور وہاں تیار ہونے والی اشیاء کی تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کے اعلان کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ برطانوی وزراء کے اشاروں کے مطابق یہ اقدام برطانیہ اور اسرائیل کے دوطرفہ تعلقات میں ری سیٹ کی علامت اور مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے لندن کی مضبوط پالیسی کی عکاسی کرے گا۔جولائی میں سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے بعد ڈاوننگ اسٹریٹ کی باگ ڈور سنبھالنے والے نئے لیبر وزیراعظم اینڈی برنہم کے اس سخت مؤقف کو اسرائیل اور اس کے سب سے بڑے اتحادی، امریکہ، دونوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہو سکتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ پالیسی میں تبدیلیاں اور نئے وزیراعظم کا مؤقفبرطانیہ کی داخلی سیاست اور خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی جولائی میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نظر آئی ہے۔ سابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستعفی ہونے کے بعد اینڈی برنہم نے ملک کے دسویں 10 ڈاوننگ اسٹریٹ کا چارج سنبھالا تھا۔ برنہم کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی برطانیہ کے خارجہ امور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے لیبر پارٹی کی روایتی پالیسی سے ہٹ کر زیادہ سخت اور دوٹوک مؤقف اپنانے کی توقع کی جا رہی تھی۔برطانوی ایوانِ نمائندگان (پارلیمنٹ) میں برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی ازسرِ نو تنظیم کا ایک جامع فریم ورک پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ تجارتی پابندیوں کی یہ تجویز مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری غیر قانونی بستیاں آباد کرنے کے اسرائیلی اقدامات کے جواب میں تیار کی گئی ہے۔پابندیوں کی نوعیت اور مجوزہ اقداماتبرطانیہ کی طرف سے متوقع پابندیوں میں درج ذیل بنیادی اور اہم اقدامات شامل ہیں:تجارتی اور معاشی پابندیاں: مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی تمام تجارتی مصنوعات پر برطانوی مارکیٹ میں پابندی نافذ کی جائے گی۔بزنس اور مالیاتی ہدایت نامہ: برطانوی شہریوں اور کاروباری اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ ان بستیوں میں کسی بھی قسم کی معاشی یا مالیاتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری سے مکمل طور پر گریز کریں۔افراد پر ہدف شدہ پابندیاں: مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینے اور غیر قانونی توسیع میں ملوث مخصوص افراد اور اداروں پر سفارتی اور سفری پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پر عملدرآمد کیا جائے گا۔عالمی ردعمل: امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی کشیدگیاس فیصلے نے برطانوی خارجہ تعلقات کو ایک مشکل موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم اینڈی برنہم نے اس متوقع اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، تاہم وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن کی جانب سے لندن کے اس قدم کی تائید نہیں کی گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے لندن کی اس نئی پالیسی کے خلاف عوامی بیان جاری کیے جانے کے واضح امکانات موجود ہیں۔دوسری جانب، تل ابیب میں اسرائیلی حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر انتہائی غصے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گیدون سار اور دیگر دائیں بازو کے رہنماؤں نے فوری جوابی اقدامات کی دھمکیاں دی ہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے سخت گیر وزیرِ قومی سلامتی اٹامار بن گویر نے لندن کو شدید نتائج کی انتباہ دیتے ہوئے مختلف سفارتی جوابی کارروائیوں کا مطالبہ کیا ہے۔منصوبے کا پس منظر اور عالمی قانون کی پاسداریاقوامِ متحدہ کے سلامتی کونسل کے فیصلوں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے متعدد احکامات میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ 1967ء کی جنگ کے بعد سے فلسطینی علاقوں اور بالخصوص مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ اور وہاں قائم کی جانے والی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر غیر قانونی ہیں۔برطانیہ کے اندر بھی حقوقِ انسانی کے گروپس اور قانون سازوں کی بڑی تعداد طویل عرصے سے حکومت پر زور دے رہی تھی کہ وہ مقبوضہ علاقوں کی معاشی سرگرمیوں کو قانونی اسرائیلی سرحدوں کی تجارت سے الگ کرے۔ لندن حکومت کا یہ نیا قدم اگرچہ بین الاقوامی قوانین کی تعمیل کا نتیجہ ہے، لیکن برطانوی پارلیمنٹ اور عالمی برادری میں اس کے معاشی اور سفارتی اثرات ایک نئی بحث کا آغاز کر چکے ہیں۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبھارت کی پہلی مقامی بلٹ ٹرین کا ٹرائل آئندہ سال مئی یا جون میں شروع ہونے کا امکان: ویشنو وڈوڈرا میں وزیراعظم نریندر مودی کا پرجوش استقبال: 35 ہزار کروڑ روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد