اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کے کنٹری ڈائریکٹر، لوئے شبانے نے خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وومن کمیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور تولیدی صحت و حقوق سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو درپیش چیلنجز اور آئندہ مشترکہ لائحہ عمل پر ایک اہم مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔اجلاس میں چار سال سے زائد عرصے کے تعطل کے بعد کمیشن کی فعالیت، ادارہ جاتی نظام کو مستحکم بنانے اور خواتین کے حقوق سے متعلق قانون سازی، بالخصوص صنفی بنیاد پر تشدد اور تولیدی صحت کے حقوق سے متعلق قوانین پر مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر زیرِ بحث لایا گیا۔خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے خواتین کے تحفظ کے لیے دارالامان شیلٹر ہومز میں سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی، تاکہ محفوظ رہائش اور معاونت کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے اور خواتین کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم ہو۔اس کے ساتھ کم عمری کی شادی کے خلاف بل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی، تاکہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور باوقار زندگی کے فروغ کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنائے جائیں۔خواتین کی بااختیاری صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تعلیم، صحت، معاشی مواقع اور قانونی تحفظ کے ذریعے خواتین کو معاشرتی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے گزشتہ ایک دہائی کے دوران مستحکم اقدامات کیے گئے ہیں۔ صوبے میں وومن کمیشن اور متعلقہ اداروں کی کوششوں سے خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔میٹنگ کے دوران شواہد پر مبنی پالیسی سازی، جنڈر سے متعلق ڈیٹا، رپورٹنگ کے نظام کی بہتری اور ضلعی سطح پر عملدرآمد و احتساب کے مؤثر طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔ ڈاکٹر لوئے شبانے نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) کی جانب سے خیبر پختونخوا میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
