Preloader
Unity for peace

اہم نکات :

  • بین المسالک و مذہبی اتحاد کا مشترکہ اقدام: مجلس وحدت مسلمین سندھ اور اتحاد اہل سنت جیکب آباد کے اکابرین نے علاقے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امن کی مشترکہ اپیل جاری کی ہے۔
  • سوشل میڈیا پر فوری ‘سیز فائر’ کا مطالبہ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے فریقین کے نوجوانوں کو اشتعال انگیز پوسٹس، ویڈیوز اور پیغامات سے فوری طور پر گریز کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
  • اعلیٰ سطحی جرگے تشکیل دینے کا اعلان: جیکب آباد کے سادات، علماء اور معززین پر مشتمل وفد عنقریب میڑ کا دورہ کر کے فریقین کے ساتھ باہمی بات چیت کے ذریعے معاملے کو سمیٹے گا۔
  • مقامی شخصیات کا احترام اور امن کی خواہش: قاضی شہر پیر سید اعجاز علی شاہ بخاری نے میر اعجاز حسین خان جکھرانی اور جکھرانی خاندان کے احترام کی توثیق کرتے ہوئے چند ناعاقبت اندیش عناصر کے پروپیگنڈے کو رد کرنے پر زور دیا ہے۔

جیکب آباد (خاص رپورٹ: اے جی بلوچ)

سندھ کے اہم سرحدی ضلع جیکب آباد اور اس کے گرد و نواح میں حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی تلخیوں اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے علاقائی، سیاسی اور مذہبی قیادت میدان میں آ گئی ہے۔ بین المسالک ہم آہنگی کو فروغ دینے اور بدگمانیوں کو دور کرنے کے لیے مجلس وحدت مسلمین (MWM) سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی اور اتحاد اہل سنت جیکب آباد کے صدر و قاضی شہر پیر سید اعجاز علی شاہ بخاری نے مشترکہ طور پر تمام فریقین کو صبر، برداشت اور بردباری کی تلقین کی ہے۔

علاقے کی صورتحال کو پرامن رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پیشگی انتظامی و تحریکی تدابیر پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ شہر کا دیرینہ بھائی چارہ اور روایتی امن کسی طور متاثر نہ ہو۔

سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی روکی جائے: علامہ مقصود علی ڈومکی

مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالت میں کسی بھی قسم کی تلخی، بداعتمادی یا فاصلے پیدا کرنا نہ تو شہر کے مفاد میں ہے اور نہ ہی علاقے کی روایات سے مطابقت رکھتا ہے۔ انہوں نے فریقین بالخصوص نوجوان طبقے سے زور دے کر اپیل کی کہ وہ فوری طور پر سوشل میڈیا پر “سیز فائر” کی کیفیت برقرار رکھیں۔

علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا:

“سوشل میڈیا موجودہ دور میں غلط فہمیوں اور اشتعال کو ہوا دینے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ ہماری فریقین کے نوجوانوں سے التماس ہے کہ وہ فیس بک، واٹس ایپ یا کسی بھی پلیٹ فارم پر ایسی کوئی پوسٹ، ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری نہ کریں جس سے بداعتمادی اور نفرت میں اضافہ ہو۔ تمام تر اختلافات اور تحفظات کا حل سوشل میڈیا پر تبصرہ نگاری کے بجائے باہمی گفت و شنید اور میز پر بیٹھ کر تلاش کیا جانا چاہیے۔”

میڑ میں جرگے کا قیام اور افہام و تفہیم کا لائحہ عمل

تنازع کو دائمی طور پر حل کرنے اور فریقین کو ایک پیج پر لانے کے لیے عملی اقدامات کا روڈ میپ پیش کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے اعلان کیا کہ جیکب آباد کی تمام معتبر شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد متنازع علاقے کا دورہ کرے گا۔

اس مصالحتی وفد کی ساخت اور دائرہ کار درج ذیل نکات پر مبنی ہوگا:

  1. وفد کی ترکیبی ساخت: جیکب آباد کے معزز سادات کرام، اکابر علمائے کرام، معززینِ شہر اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ رہنما اس وفد کا حصہ ہوں گے۔
  2. میڑ کا دورہ: وفد عنقریب ‘میڑ’ پہنچ کر دونوں فریقین سے فرداً فرداً اور مشترکہ طور پر تفصیلی ملاقاتیں کرے گا۔
  3. احترام اور بھائی چارے کا فروغ: تمام مساعی کا بنیادی مقصد معاملے کو روایتی سندھی میڑ، احترام، اور بھائی چارے کے ماحول میں افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا ہو گا۔
  4. دائمی حل کی تلاش: عارضی صلح کے بجائے ایسی ضمانتیں حاصل کی جائیں گی جس سے مستقبل میں دوبارہ اس قسم کی کشیدگی جنم نہ لے سکے۔

جکھرانی خاندان اور معززین کا احترام قائم رہے گا: پیر سید اعجاز علی شاہ بخاری

جماعت اہل سنت ضلع جیکب آباد کے امیر اور قاضی شہر پیر سید اعجاز علی شاہ بخاری نے اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں شہر کے تمام مکاتبِ فکر، قبائلی رہنماؤں اور عام شہریوں کو تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے علاقے کی سرکردہ قبائلی و سیاسی شخصیت میر اعجاز حسین خان جکھرانی کی خدمات اور مقام کو سراہا۔

پیر سید اعجاز علی شاہ بخاری نے اپنے بیان میں کہا:

“میر اعجاز حسین خان جکھرانی جیکب آباد کی ایک نہایت معتبر، بڑی اور قابلِ احترام سیاسی و قبائلی شخصیت ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ میر خالد حسین خان جکھرانی اور تمام جکھرانی خاندان ہمارے لیے واجبِ احترام ہے۔ شہر کے تمام سادات، علماء اور باشعور شہری صرف اور صرف امن و امان اور اپنصائیت کے خواھاں ہیں۔ چند ناعاقبت اندیش عناصر کی جانب سے پھیلاۓ جانے والے پراپیگنڈے کو بنیاد بنا کر جکھرانی خاندان اور شہر کے غیور عوام کے درمیان فاصلے پیدا نہیں ہونے دیے جائیں گے۔”

سماجی پس منظر اور درپیش چیلنجز

ضلع جیکب آباد جغرافیائی طور پر سندھ اور بلوچستان کے سرحدی سنگم پر واقع ہے، جہاں قبائلی ساخت اور سیاسی وابستگیاں انتہائی حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ماضی میں بھی مختلف قبائلی اور سیاسی تحفظات کے باعث علاقے کا امن داؤ پر لگتا رہا ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان مقامی تجارت اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کی وسیع رسائی کی وجہ سے معمولی نوک جھونک یا انفرادی جھگڑے بھی منٹوں میں قبائلی و سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے ماحول میں دینی رہنماؤں، سادات اور قاضیِ شہر کا سامنے آنا انتہائی خوش آئند ہے، کیونکہ سندھ کی ثقافت میں ‘میڑ’ اور مذہبی اکابرین کے احترام کی روایت آج بھی انتہائی مؤثر سمجھی جاتی ہے۔

شہریوں کا ردِعمل اور آئندہ کا پیش منظر

سیاسی و مذہبی قیادت کے اس مشترکہ اور فوری اقدام پر جیکب آباد کے سول سوسائٹی، تاجر برادری اور شہریوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ شہر مزید کسی کشیدگی یا بندش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اگر تمام فریقین سوشل میڈیا پر بیان بازی روکنے اور مصالحتی وفد کے ساتھ تعاون کرنے کے وعدے پر قائم رہتے ہیں، تو قوی امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں میڑ کے دورے کے بعد صورتحال مکمل طور پر نارمل ہو جائے گی اور انتشار پھیلانے والے ناعاقبت اندیش عناصر کی سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔

ایڈیٹوریل نوٹ

شہر میں امن و امان کی بحالی کے لیے صحافتی و اخلاقی ذمہ داری تقاضا کرتی ہے کہ تمام خبر رساں ادارے اور شہری ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ غیر تصدیق شدہ افواہوں اور اشتعال انگیز مواد کو پھیلانے سے گریز کرنا ہی اس وقت جیکب آباد کے وسیع تر مفاد میں ہے۔