لندن، 30 ستمبر 2025: کامن ویلتھ آبزرور گروپ (COG) نے پاکستان کے 2024 کے عام انتخابات پر اپنی حتمی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں انتخابی عمل کے دوران سامنے آنے والے اہم نکات، چیلنجز اور مستقبل میں جمہوری اداروں کی مضبوطی کے لیے سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ ایسے حالات تھے جنہوں نے “انتخابی عمل کی معتبریت، شفافیت اور شمولیت کو متاثر کیا” ہو گا۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!گروپ کا پس منظر اور مقصد13 رکنی اس آزاد اور کثیر الجہتی گروپ کی قیادت نائجیریا کے سابق صدر ڈاکٹر گڈ لک جوناتھن نے کی تھی۔ اس گروپ کو سابق کامن ویلتھ سیکرٹری جنرل، محترمہ پیٹریسیا سکاٹ لینڈ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی دعوت پر تشکیل دیا تھا۔موجودہ سیکرٹری جنرل، محترمہ شرلی بوچوے نے مبصرین کی محنت اور شفافیت کے عزم کو سراہا اور پاکستان کی حکومت اور انتخابی کمیشن سے درخواست کی ہے کہ وہ رپورٹ میں دی گئی سفارشات کو حل کرنے کے لیے تمام انتخابی اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کر کے داخلی میکانزم قائم کریں۔رپورٹ کے اہم نکات اور خدشاتکامن ویلتھ گروپ نے اپنی حتمی رپورٹ میں انتخابی عمل کے پری پول، پولنگ ڈے اور پوسٹ پول مراحل کا گہرائی سے جائزہ لیا اور مندرجہ ذیل اہم خدشات کو اجاگر کیا۔1. بنیادی سیاسی حقوق کی محدودیترپورٹ نے ان حالات کو خاص طور پر اجاگر کیا جو بنیادی سیاسی حقوق کو محدود کرتے ہوئے نظر آئے اور جس کی وجہ سے ایک اہم سیاسی جماعت کی انتخابات میں منصفانہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ اس میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں اور میدان عمل کو ہموار کرنے کے لیے درکار شرائط کی عدم موجودگی شامل تھی۔2. انتخابی رات سیلولر سروسز کی بندشگروپ نے انتخابی رات کو سیلولر سروسز کی بندش کو بھی نوٹ کیا، جس سے نہ صرف انتخابی عمل کی شفافیت کم ہوئی بلکہ نتائج کی وصولی اور ترسیل کے عمل کی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑا۔ اس اقدام نے انتخابی عمل کے تمام مراحل میں عوامی اعتماد کی کمی کو بڑھایا۔3. شفافیت اور شمولیت پر اثررپورٹ کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ یہ پیش رفت (سیاسی حقوق کی محدودیت اور سروسز کی بندش) انتخابی عمل کی معتبریت (Credibility)، شفافیت (Transparency) اور شمولیت (Inclusiveness) کو متاثر کر سکتی ہے۔مثبت مشاہدات اور حوصلہ افزا پہلوچیلنجز کے باوجود، COG نے پاکستانی جمہوریت کے کچھ مثبت اور حوصلہ افزا پہلوؤں کی تعریف بھی کی، جن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی کچھ کوششیں نمایاں ہیں۔1. صنفی شمولیت میں بہتریووٹنگ رجسٹریشن میں کمی: COG نے جینڈر اور سوشل انکلوژن ونگ کے ذریعے ECP کی کوششوں کو سراہا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ووٹر رجسٹریشن میں صنفی فرق (Gender Gap) 2013 کی 12 فیصد سے کم ہو کر 2024 کے انتخابات میں 7.7 فیصد رہ گیا۔جنسی ہراسانی کی شکایت: گروپ نے انتخابی عمل کے دوران ہراسانی اور دھمکیوں کی اطلاع دینے کے لیے ECP کی جانب سے جینڈر ہاٹ لائن کے قیام کو بھی نوٹ کیا۔2. نوجوانوں اور سول سوسائٹی کا کردارنوجوانوں کی شرکت: رپورٹ میں نوجوان ووٹرز کی شرکت میں بہتری کو بھی نوٹ کیا گیا، جو پاکستانی جمہوریت کی مستقبل کی توانائی کی نشاندہی کرتا ہے۔سول سوسائٹی: COG نے کہا کہ پاکستان کی سول سوسائٹی تنظیمیں (CSOs) ملک کی جمہوری زندگی میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو مسلسل اصلاحات اور بہتری کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔3. جمہوریت کی صلاحیتمبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ چیلنجوں کے باوجود، مستقبل کے انتخابات میں بہتری کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔ رپورٹ کے الفاظ میں: “پاکستان کی جمہوریت کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایک متحرک اور متنوع میڈیا ہے؛ خواتین اور نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ متحرک ہیں…”اہم سفارشات برائے آئندہ انتخاباترپورٹ میں پاکستان میں آئندہ انتخابات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد پہلوؤں پر سوچ سمجھ کر سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان سفارشات کا مقصد جمہوری عمل کو کامن ویلتھ کے باہمی تعاون اور سیکھنے کے جذبے کے تحت مضبوط بنانا ہے۔قانونی اور انتظامی اصلاحات: انتخابی عمل سے متعلق قانونی فریم ورک اور اس کی تشریح میں اصلاحات کی جائیں تاکہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو سطح مساوات (Level Playing Field) فراہم ہو سکے۔سیاسی حقوق کی آزادی: سیاسی حقوق کو متاثر کرنے والے موجودہ قوانین پر نظر ثانی کی جائے تاکہ تمام جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے اور سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کی مکمل آزادی ہو۔میڈیا کا کردار: میڈیا کے حقوق، آزادی، اور ذمہ داریوں کو واضح کرنے کے لیے قوانین میں بہتری لائی جائے تاکہ وہ غیر جانبدارانہ اور موثر کردار ادا کر سکے۔انتخابی انتظامات میں شفافیت: الیکشن کمیشن کی انتظامی کارکردگی کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے، خصوصاً انتخابی نتائج کی وصولی اور ترسیل کے عمل کو ڈیجیٹل سیکیورٹی کے ساتھ یقینی بنایا جائے۔خواتین کی مزید شمولیت: خواتین کی شرکت کو مزید بڑھانے اور انتخابی عمل کے دوران ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں۔کامن ویلتھ کا آئندہ کردارکامن ویلتھ سیکرٹریٹ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی جمہوری اداروں کی حمایت جاری رکھے گا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سیکرٹریٹ سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتخابی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششوں میں تعاون کرے گا۔یہ رپورٹ پاکستان کی حکومت کو بھیجی جا چکی ہے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز میں تقسیم کی گئی ہے، تاکہ انتخابات کے پورے عمل کا تفصیلی جائزہ لے کر مستقبل کی اصلاحات کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔(اختتام)About The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationایشیا کپ 2025 فائنل ٹکٹس کی ریکارڈ توڑ قیمتیں: 8 لاکھ سے زائد کا ٹکٹ اب بھی دستیاب! بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: ’فتنہ الہندستان‘ سے وابستہ چار تخریب کار گرفتار، خواتین کا بھیس بدلنے کی بزدلانہ کوشش ناکام