اسلام آباد: پاکستان میں صارفین قیمت انڈیکس کی مہنگائی میں آئندہ ماہ مزید اضافے کا خدشہ ہے، جس کی بنیادی وجہ خوراک اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، مہنگائی کی شرح میں 0.8 فیصد تک کا اضافہ متوقع ہے، جو پہلے ہی افراط زر کے بوجھ تلے دبے عام شہریوں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے گا۔
اہم محرکات: بجلی اور خوراک کے اخراجات
مرکزی صارفین قیمت انڈیکس میں متوقع اضافے کے دو اہم عوامل ہیں:
- بجلی کی قیمتیں: حکومت کی جانب سے سبسڈی کم کرنے اور گردشی قرضہ (Circular Debt) کو کم کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اضافہ صنعتی اور گھریلو دونوں صارفین کی پیداواری اور ماہانہ لاگت میں براہ راست اضافہ کر رہا ہے۔
- خوراک کی مہنگائی: موسمیاتی تبدیلیوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور ذخیرہ اندوزی (Hoarding) کی وجہ سے ملک بھر میں خوراک کی اشیاء، خاص طور پر سبزیوں، دالوں اور کچھ بنیادی اجناس کی قیمتیں بلند رہنے کی توقع ہے۔ یہ مہنگائی کا وہ حصہ ہے جو کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔
Shutterstock
حقیقی شرح سود اور مانیٹری پالیسی
مہنگائی میں اضافے کے اس ماحول میں، حقیقی شرح سود (Real Interest Rate) کا بھی اہم کردار ہے۔ حقیقی شرح سود اس فرق کو کہتے ہیں جو ملک کی شرح سود (Policy Rate) اور مہنگائی کی شرح کے درمیان ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس وقت حقیقی شرح سود تقریباً 400 سے 450 بیسس پوائنٹس (bps) تک رہنے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک (State Bank of Pakistan) کی مانیٹری پالیسی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے نسبتاً سخت رہے گی۔ مرکزی بینک کا مقصد حقیقی شرح سود کو مثبت رکھنا ہے تاکہ معیشت میں زیادہ قرض لینے کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور کرنسی کی قدر کو مستحکم کیا جا سکے۔
عالمی اجناس کی قیمتوں کا خطرہ
مہنگائی کے مستقبل کے منظرنامے کو عالمی اجناس کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال سے بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔
- تیل کی قیمتیں: اگر بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ مقامی انرجی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا، جو بالواسطہ طور پر ہر چیز کی قیمت بڑھا دے گا۔
- خام مال کی درآمد: درآمد شدہ خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی مقامی صنعتوں کی پیداواری لاگت کو متاثر کرتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین پر منتقل ہو جاتا ہے۔
نتیجہ
مہنگائی میں متوقع یہ اضافہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مسلسل چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔ حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرے، جبکہ مرکزی بینک پر مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے اپنی مانیٹری پالیسی کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھنے کا دباؤ بھی برقرار ہے۔ عام شہری آئندہ مہینوں میں بھی اشیائے ضرورت کی خریداری پر زیادہ رقم خرچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔
