google-site-verification=aZNfMycu8K7oF6lNUgjpjoa8ZAyM0qfHriwatL8flQ4
Bangladesh faces export challenges

متوازن تجارتی پالیسیوں کی ضرورت پر زور؛ شپنگ لاگت بڑھنے سے بنگلہ دیشی برآمد کنندگان شدید پریشان

ڈھاکہ – (اقتصادی رپورٹس) بھارت کی جانب سے بنگلہ دیشی برآمد کنندگان کے لیے سامان کی ترسیل کے انتظامات (Transit Arrangements) کو معطل کرنے کے فیصلے نے بنگلہ دیش کی برآمدی صنعت کو شدید چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ اس یکطرفہ اقدام کے نتیجے میں بنگلہ دیشی مصنوعات کی ترسیلی لاگت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اور متوازن تجارتی پالیسیوں کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔

ٹرانزٹ معطلی کا اثر

بھارت، اپنے ملک کے اندرونی راستوں کو بنگلہ دیشی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا تھا، جس سے بنگلہ دیشی برآمد کنندگان کو سامان تیزی سے اور کم لاگت میں دیگر بین الاقوامی بندرگاہوں یا منزلوں تک پہنچانے میں مدد ملتی تھی۔ تاہم، اس سہولت کی معطلی سے صورتحال یکسر بدل گئی ہے:

  • شپنگ لاگت میں اضافہ: ٹرانزٹ روٹ بند ہونے کے بعد، بنگلہ دیشی برآمد کنندگان کو اب اپنا سامان طویل اور مہنگے سمندری راستوں یا دیگر زمینی راستوں سے بھیجنا پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے شپنگ اور لاجسٹک اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ خاص طور پر ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) اور دیگر کم منافع والی مصنوعات کی برآمدات کو متاثر کر رہا ہے۔
  • وقت کا ضیاع: متبادل راستوں کے استعمال سے سامان کی منزل تک پہنچنے میں لگنے والا وقت (Lead Time) بڑھ گیا ہے، جس سے بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کیے گئے ڈیلیوری کے وعدوں کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
  • مسابقتی برتری کو نقصان: لاگت اور وقت میں اضافے کے باعث بنگلہ دیشی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقتی برتری (Competitive Edge) کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

باہمی تجارتی تعلقات اور پالیسی کی ضرورت

بنگلہ دیش کی تجارتی برادری اور ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کے یکطرفہ اقدامات باہمی تجارتی تعلقات کی روح کے خلاف ہیں۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی پالیسیوں میں باہمی مفادات اور توازن کو یقینی بنایا جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق:

  1. باہمی رعایتیں: بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے لیے باہمی رعایتیں (Reciprocal Policies) فراہم کریں۔
  2. لاگت میں کمی: بنگلہ دیش کو اپنی برآمدات کو مسابقتی رکھنے کے لیے علاقائی تجارتی بلاکس کے ذریعے نئے اور کم لاگت والے ترسیلی راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
  3. حکومت کی مداخلت: بنگلہ دیشی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر بھارتی حکام کے ساتھ اٹھائے اور ٹرانزٹ سہولت کی بحالی کے لیے بات چیت کرے۔

بھارت کی معطلی کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بنگلہ دیش بین الاقوامی اقتصادی سست روی کے باوجود اپنی برآمدات کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اقدام سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برآمد کنندگان (SMEs) سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے ترسیلی لاگت میں معمولی سا اضافہ بھی ان کے منافع کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

About The Author

صفراوادی‘: انڈونیشیا کا وہ ’مقدس غار جہاں مکہ تک پہنچانے والی خفیہ سرنگ‘ موجود ہے جعفر ایکسپریس کے مسافروں نے کیا دیکھا؟ سی ڈی اے ہسپتال میں لفٹ خراب ٹریفک پولیس جدید طریقہ واردات