لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ نے وفاقی حکومت اور ایف بی آر سمیت دیگر اداروں سے دو ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کر لیا
راولپنڈی – (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بینچ کے دو رکنی ڈویژن بینچ نے سینیٹری پیڈز پر 40 فیصد تک ٹیکس، لیویز اور کسٹمز ڈیوٹی کو چیلنج کرنے والی ایک آئینی درخواست پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ پنجاب بھر میں لاکھوں خواتین مقیم ہیں، اس لیے لاہور ہائی کورٹ کو اس درخواست کی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔
عدالتی کارروائی اور ایف بی آر کا اعتراض
جسٹس جواد حسن اور جسٹس محمد رضا قریشی پر مشتمل بینچ نے سماعت کے دوران اداروں کی جانب سے تحریری جوابات جمع نہ کرانے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
- ایف بی آر کا موقف: ایف بی آر کے وکیل نے یہ دلیل پیش کی کہ چونکہ درخواست میں وفاقِ پاکستان اور ایف بی آر کو فریق بنایا گیا ہے، اس لیے درخواست صرف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے اور راولپنڈی بینچ کے پاس دائرہ اختیار نہیں ہے۔
- عدالت کا فیصلہ: عدالت نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت، ایف بی آر کے چیئرمین، وزارت خزانہ اور قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سمیت تمام فریقین کو آئندہ سماعت سے قبل دو ہفتوں کے اندر شق وار جوابات جمع کرانے کا حکم دیا۔
درخواست گزار کا موقف: خواتین کی توہین اور صحت کا مسئلہ
یہ درخواست 25 سالہ وکیل ماہ نور عمر کی جانب سے عوامی مفاد میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی میں خواتین کا حصہ 48.51 فیصد ہے، یعنی تقریباً 151 ملین خواتین، لیکن اس کے باوجود سینیٹری پیڈز پر 40 فیصد تک ٹیکس عائد ہے۔
- امتیازی سلوک: درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ ٹیکس امتیازی نوعیت کا ہے اور آئین میں ضمانت دی گئی مساوات، وقار، سماجی انصاف اور استحصال سے تحفظ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس “صرف خواتین ہونے کی سزا” کے مترادف ہے۔
- صنعتی اور درآمدی ٹیکس: 1990 کے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت، مقامی طور پر تیار کردہ سینیٹری پیڈز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، جبکہ درآمد شدہ پیڈز اور خام مال پر 25 فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگتی ہے۔
- قیمتیں اور رسائی: یونیسیف پاکستان کے مطابق، تمام ٹیکسوں کے مجموعی اثر سے ایک سینیٹری پیڈ کی قیمت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک 10 پیڈز کے پیکٹ کی قیمت تقریباً 450 روپے ہے، جو ملک کی اوسط ماہانہ آمدنی (تقریباً 120 ڈالر) کے تناظر میں ایک خاندان کے ایک وقت کے کھانے کے برابر ہے۔
صحت اور سماجی وقار کے تقاضے
یونیسیف اور واٹر ایڈ (2024) کی تحقیق کے مطابق، پاکستان میں صرف 12 فیصد خواتین تجارتی سینیٹری پیڈز استعمال کرتی ہیں۔ زیادہ تر خواتین کپڑوں یا دیگر متبادل پر انحصار کرتی ہیں، جہاں صفائی اور صحت کی سہولیات کی کمی ہوتی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ قیمتوں میں کمی لاکھوں خواتین کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور ان کی صحت کے لیے ضروری ہے۔
درخواست گزار کے وکیل، احسن جہانگیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ کیس محض مالی معاملات کے بارے میں نہیں، بلکہ خواتین کے وقار کی بحالی کے بارے میں ہے۔ درخواست میں عالمی مثالیں دی گئیں، جیسے بھارت (2018)، نیپال (2025) اور برطانیہ (2021) جہاں پیریڈ ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے۔
مطالبات: درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سینیٹری پیڈز پر تمام ٹیکس اور ڈیوٹیز کو غیر آئینی قرار دے کر مکمل طور پر ختم کیا جائے، اور حکومت کو لڑکیوں کے اسکولوں میں ان کی مفت تقسیم کو یقینی بنانے کا حکم دیا جائے۔ وکیل کا موقف ہے کہ سینیٹری پیڈز کو سستا کرنے سے لڑکیاں اسکول چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوں گی، خواتین اعتماد کے ساتھ کام کر سکیں گی، اور مجموعی طور پر معاشرہ زیادہ صحت مند ہوگا۔
