پیرس/بوگوٹا (نیوز ڈیسک): فرانسیسی دفاعی صنعت اور طیارہ ساز کمپنی ‘ڈیسالٹ ایوی ایشن’ (Dassault Aviation) کو اس وقت ایک بڑا مالی اور تزویراتی دھچکا لگا جب جنوبی امریکی ملک کولمبیا نے رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کا 3.2 ارب یورو (تقریباً 3.4 ارب ڈالر) کا معاہدہ آخری لمحات میں منسوخ کر دیا۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!سویڈش طیاروں کی حیران کن جیتدفاعی ذرائع کے مطابق، کولمبیا کی حکومت نے فرانسیسی رافیل طیاروں کے مقابلے میں سویڈن کے ساب گریپن (Saab Gripen) طیاروں کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ دفاعی ماہرین کے لیے اس لیے بھی حیران کن ہے کیونکہ فرانس کی پیشکش مالی طور پر زیادہ پرکشش تھی (تقریباً 2.96 ارب یورو)، لیکن کولمبیا نے مہنگی ہونے کے باوجود سویڈش ٹیکنالوجی کو منتخب کیا۔معاہدے کی منسوخی کی وجوہاترپورٹ کے مطابق، اس اچانک یو-ٹرن (U-turn) کی بڑی وجوہات درج ذیل بتائی جا رہی ہیں:ٹیکنالوجی کی منتقلی: کولمبیا کو سویڈن کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی تعاون کے حوالے سے بہتر شرائط ملیں۔آپریشنل لاگت: رافیل طیاروں کے مقابلے میں ‘گریپن’ طیاروں کی دیکھ بھال اور فی گھنٹہ پرواز کے اخراجات کم بتائے جاتے ہیں۔سیاسی اثر و رسوخ: جنوبی امریکہ میں بڑھتے ہوئے دفاعی مقابلے اور تزویراتی ترجیحات نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔فرانس کے لیے اس نقصان کی اہمیتیہ منسوخی محض ایک تجارتی نقصان نہیں بلکہ فرانس کے دفاعی وقار پر بھی ایک چوٹ ہے:جنوبی امریکہ میں قدم جمانے کی کوشش: فرانس اس معاہدے کے ذریعے لاطینی امریکہ کی دفاعی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتا تھا۔پے در پے چیلنجز: بھارت کے ساتھ بھی حالیہ دنوں میں 114 رافیل طیاروں کے بڑے معاہدے میں ‘سورس کوڈز’ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تنازعات سامنے آئے ہیں، جس سے فرانسیسی دفاعی برآمدات کے ماڈل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔مستقبل کے اثراتکولمبیا اب 16 عدد گریپن لڑاکا طیارے حاصل کرے گا تاکہ اپنے پرانے ہوتے ہوئے اسرائیلی طیاروں کے بیڑے کو تبدیل کر سکے۔ دوسری جانب، فرانس کو اب اپنی برآمدی پالیسی اور دیگر ممالک (جیسے انڈونیشیا اور بھارت) کے ساتھ جاری بات چیت میں اپنی شرائط پر نظرِ ثانی کرنا پڑ سکتی ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔خلاصہ: فرانس جو کہ حال ہی میں رافیل کی عالمی فروخت میں مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہا تھا، کولمبیا کے اس فیصلے کے بعد ایک بڑے ریونیو اور جنوبی امریکہ میں اپنی اہم ترین ڈیل سے محروم ہو گیا ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationمیڈیکل کالج میں بھارت کا نیٹ ورک بے نقاب، 20 افغان طلبا گرفتار اسلام آباد ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری جعلی قرار، عہدے سے برطرف