اسلام آباد / شمالی وزیرستان (نیوز ڈیسک): وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک اہم بیان میں تصدیق کی ہے کہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے غلام خان سیکٹر میں سرحد پار سے ہونے والے ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کو کامیابی سے پسپا کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں “فتنۃ الخوارج” کے 37 دہشت گرد ہلاک اور 80 سے زائد شدید زخمی ہوئے ہیں۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!غلام خان سیکٹر: حملے کی تفصیلاترپورٹ کے مطابق، 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں نے سرحد پار سے شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان میں ایک سرحدی چوکی کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔فوری جوابی کارروائی: پاک فوج کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس حملے کو مکمل طور پر ناکام بنایا بلکہ حملہ آوروں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا۔دہشت گردوں کا فرار: شدید جوابی کارروائی کے بعد دہشت گرد اپنے درجنوں ساتھیوں کی لاشیں اور زخمیوں کو چھوڑ کر سرحد پار فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔آپریشن “غضبِ حق”: 5 اپریل تک کی تازہ ترین صورتحالوفاقی وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے 5 اپریل 2026 کی شام 5 بجے تک جاری رہنے والے “آپریشن غضبِ حق” کے مجموعی نقصانات کی تفصیلات بھی شیئر کی ہیں۔ ان کے مطابق، سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائیوں میں اب تک درج ذیل کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں:نقصانات کی تفصیل (دہشت گرد و افغان رجیم)مجموعی تعدادہلاک ہونے والے دہشت گرد796زخمی ہونے والے دہشت گرد1,043 سے زائدتباہ شدہ چوکیاں (Posts)286قبضے میں لی گئی چوکیاں44تباہ شدہ جنگی ساز و سامان (ٹینک، ڈرونز، آرٹلری)249نشانہ بنائے گئے خفیہ ٹھکانے اور سہولت کار81حکومتی موقف اور عزموزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے پشت پناہوں کے خلاف “آپریشن غضبِ حق” پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پار افغانستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔علاقائی سلامتی اور مستقبل کے خدشاتدفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ غلام خان سیکٹر میں اس بڑے حملے کی ناکامی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی سرحدی دفاعی لائن انتہائی مضبوط ہے۔ تاہم، سرحد پار سے ہونے والے مسلسل حملوں اور افغان طالبان کی فتنۃ الخوارج کے ساتھ مبینہ ملی بھگت نے خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔خلاصہ: “آپریشن غضبِ حق” کے تحت اب تک 796 دہشت گردوں کی ہلاکت اور بھاری تعداد میں جنگی ساز و سامان کی تباہی پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ حکومت اور عسکری قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی سرحد پار جارحیت کا جواب اب اسی کی سرزمین پر دیا جائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationقومی شاہراہوں اور موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں بھاری اضافہ راہول گاندھی کا پودوچیری حکومت پر شدید وار: ‘جعلی ادویات کی فروخت کرپشن نہیں، قتل ہے’