خیبر پختونخوا میں پندرہ سال سے زائد عرصے سے اقتدار میں رہنے والی حکومت کے دعوے اور زمینی حقائق ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق تبدیلی، شفافیت اور احتساب کے بلند و بانگ دعووں کے باوجود صوبہ آج بھی بدانتظامی، بے روزگاری، ناقص انفراسٹرکچر، کمزور صحت و تعلیم کے نظام اور بڑھتی ہوئی بدامنی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے بعد حکومت کے پاس ناکامیوں کے لیے جواز پیش کرنے کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ عوام کا سوال ہے کہ اگر پندرہ برسوں میں بھی بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے تو پھر تبدیلی کے دعووں کی حقیقت کیا ہے؟ناقدین کے مطابق صوبے کے متعدد محکمے مبینہ طور پر سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں، جبکہ عوام کو روزمرہ زندگی میں سہولیات کے بجائے مشکلات کا سامنا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے دعوے تو کیے جاتے ہیں لیکن عام شہری کی زندگی میں اس کے اثرات محدود دکھائی دیتے ہیں۔تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ترجیحات عوامی فلاح کے بجائے سیاسی محاذ آرائی اور بیانیہ سازی تک محدود ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے نوجوان روزگار کے مواقع تلاش کرنے کے لیے دربدر ہیں، سرکاری ہسپتال وسائل کی کمی کا شکار ہیں، تعلیمی ادارے مسائل سے دوچار ہیں اور مقامی حکومتوں کا نظام بھی مؤثر انداز میں عوامی خدمت انجام دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔سماجی حلقوں کا مؤقف ہے کہ عوام اب سیاسی نعروں، جلسوں اور سوشل میڈیا مہمات سے متاثر ہونے کے بجائے عملی نتائج چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ سیاست کو ترجیح دیتی ہے یا عوامی خدمت کو، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ کارکردگی کا حساب دینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔عوامی رائے میں اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ پندرہ سالہ حکمرانی کے بعد بھی اگر صوبہ بنیادی مسائل سے نبرد آزما ہے تو اس کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationبریکنگ:حکومت پروٹیکٹڈ صارفین کے لئے بجلی سبسڈی ختم نہیں کر رہی، وزیرتوانائی اویس لغاری 📢 اہم اطلاع برائے بیوہ خواتین – رحمت کارڈ پروگرام