SC transfer Imran Khan to hospital
  • ہسپتال میں منتقلی کا حکم: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
  • جامع میڈیکل بورڈ: عدالت نے عمران خان کی صحت کے تجزیے کے لیے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بھی شامل رکھا جائے گا۔
  • اہلخانہ سے ملاقاتیں: جیل احاطے یا ہسپتال میں ہفتے میں ایک بار عمران خان کی ان کے اہلخانہ سے ملاقات یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
  • امن و امان اور سیکیورٹی: سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو سخت سیکیورٹی کے انتظامات کی ہدایت کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور حامیوں کو ہسپتال کے باہر سیاسی احتجاج یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے سے سخت منع کیا ہے۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ): سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو فوری طور پر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے اسلام آباد کے نجی معالجاتی ادارے ‘شفا انٹرنیشنل ہسپتال’ منتقل کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے اس فیصلہ کن اقدام کا مقصد اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم کی گرتی ہوئی صحت اور طبی خدشات کا تفصیلی معاینہ اور علاج یقینی بنانا ہے۔

یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پیش آمدہ درخواستوں پر سماعت کے دوران سنایا۔ بنچ کی سربراہی جسٹس شاہد وحید کر رہے تھے جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق اور صحت کی دیکھ بھال کی ضمانت ہر شہری اور قیدی کا حق ہے۔

طبی بورڈ اور اہلخانہ کی شمولیت سے متعلق احکامات

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہدایت کی کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کا مکمل میڈیکل ٹیسٹ اور معاینہ کرنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کا ایک جامع میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔

عدالت نے اس بات کی بالخصوص توثیق کی کہ اس میڈیکل بورڈ کے ساتھ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان (جو خود طبی شعبے سے وابستہ ہیں) منسلک رہیں گے تاکہ تمام تر تشخیص اور علاج کے مراحل شفاف رہیں۔ مزید برآں، عدالت نے آئندہ سماعت تک انہیں ہسپتال میں ہی طبی زیرِ نگرانی رکھنے اور ہفتے میں کم از کم ایک بار اہلخانہ سے باقاعدہ ملاقات کا سلسلہ بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سیکیورٹی، امن و امان اور سیاسی سرگرمیوں سے پرہیز کی مشروط ہدایت

سپریم کورٹ کے بنچ نے منتقلی کے عمل اور ہسپتال کے دورانِ قیام کے لیے انتظامیہ اور سیاسی کارکنوں کے لیے سخت قواعد و ضوابط نافذ کیے ہیں:

  • کڑی سیکیورٹی کے انتظامات: حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی اور وہاں قیام کے دوران سخت ترین سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے۔
  • ہسپتال کے باہر اجتماع پر پابندی: عدالت عالیہ نے پی ٹی آئی اور عمران خان کے حامیوں کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ ہسپتال کے باہر کسی قسم کا سیاسی مظاہرہ، نعرے بازی یا اجتماع نہ کیا جائے تاکہ عام مریضوں کی آمدورفت اور ہسپتال کے سکون میں خلل نہ پڑے۔
  • صحت کا غیر سیاسی استعمال: عدالتی بنچ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ طبی رپورٹس اور صحت کے معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور قانونی ٹیم یا اہلخانہ رپورٹس کی غیر ضروری میڈیا تشہیر سے پرہیز کریں۔

پس منظر: صحت کے خدشات اور قانونی جنگ

عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور حالیہ مہینوں کے دوران ان کے اہلخانہ، قانونی ٹیم اور ان کی پارٹی پی ٹی آئی کی جانب سے ان کی جسمانی حالت اور نگہداشت کے حوالے سے سنگین تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

عدالت میں دائر کردہ درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 73 سالہ سابق وزیر اعظم کو درپیش صحت کے مسائل کے حل کے لیے کسی جدید نجی ہسپتال میں ماہرین کی دیکھ بھال درکار ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران ان کی آنکھ کے عارضے (CRVO) اور بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ کے معائنے کے لیے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) بھی لایا گیا تھا، تاہم وکلاء اور اہلخانہ سرکاری ہسپتال کی سہولیات سے مطمئن نہیں تھے اور نجی ہسپتال میں منتقلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے جیل سپرنٹنڈنٹ اور سرکاری طبی ٹیم کی رپورٹ کا جائندہ لینے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد آئینی حقوق کے تحت اس منتقلی کی منظوری دی۔

اعداد و شمار اور اہم نکات کا خلاصہ

اہم پہلوتفصیلاَت
منتقل کی جانے والی جگہشفا انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد
عدالتی بنچ3 رکنی بنچ (سربراہی: جسٹس شاہد وحید)
خصوصی نمائندےڈاکٹر فیصل سلطان (ذاتی معالج) اور ڈاکٹر عظمیٰ خان (بہن)
اہلخانہ سے ملاقاتہفتے میں ایک بار (لازمی ہدایت)
مدتِ منتقلیآئندہ عدالتی سماعت تک

سیاسی اور قانون دان طبقے کا ردِعمل

سپریم کورٹ کے اس حکم کا پی ٹی آئی اور قانونی حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اور مرکزی رہنماؤں نے فیصلے کو آئین اور انسانی حقوق کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ علاج کے لیے نجی معالجین اور اہلخانہ کی رسائی ایک بنیادی حق تھا جو بالآخر سپریم کورٹ نے فراہم کر دیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین عدالت کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کریں گے اور ہسپتال کے اطراف سیکیورٹی کے سخت ترین اقدامات نافذ کیے جائیں گے تاکہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

تجزیہ و اثرات

سیاسی و قانون دان تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے عدالتی احکامات اور قیدیوں کے انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قائم کی ہے۔ اگرچہ نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، مگر سیاسی سرگرمیوں پر ڈسپلن اور سیکیورٹی کی پابندیوں نے انتظامیہ کے خدشات کو دور کر دیا ہے۔

اب تمام تر نظریں میڈیکل بورڈ کے انکشافات اور اگلے چند دنوں میں عمران خان کی جاری ہونے والی باضابطہ طبی رپورٹس پر مرکوز ہیں، جبکہ کیس کی اگلی سماعت پر سپریم کورٹ اس معاملے پر مزید اہم پیش رفت کی سماعت کرے گی۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025