Firing on Mardan police
  • حساس عمارت میں فائرنگ: مردان میں ایس پی انویسٹی گیشن آفس کے اندر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس سے سیکیورٹی پر سخت سوالات اٹھ گئے۔
  • ملزم کی گرفتاری: فائرنگ میں ملوث مرکزی ملزم عمران ولد اکرم خان کو موقع پر ہی پولیس نے گرفتار کر کے اسلحہ تحویل میں لے لیا۔
  • حکام کی آمد اور سیکیورٹی ایکشن: ڈی پی او مردان مسعود احمد نے پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچ کر سیکیورٹی غفلت پر تین اہلکاروں کو فوری معطل کر دیا۔
  • تفتیش کا آغاز: واقعے کے پس منظر اور محرکات کا پتہ لگانے کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات اور قانون کے مطابق اقدامات جاری ہیں۔

مردان (خاص رپورٹ): خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں پولیس کے انتہائی حساس اور اہم شعبے ایس پی انویسٹی گیشن کے دفتر میں فائرنگ کا سنگین واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد پولیس سیکیورٹی اور تلاشی کے نظام پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مردان مسعود احمد اعلیٰ پولیس حکام کے ساتھ موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کا خود جائزہ لیا۔ پولیس نے فوری اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ میں ملوث ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر کے تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ ڈیوٹی میں لاپرواہی اور غفلت برتنے پر تین پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

واقعے کی تفصیلا ت اور فوری پولیس کارروائی

ابتدائی تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ مردان کے ایس پی انویسٹی گیشن آفس کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب عام سائلین اور کیسز کی تفتیش کے لیے آنے والے افراد کی آمد و رفت جاری تھی۔ یکایک فائرنگ کی آوازوں سے دفتر اور ارد گرد کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔

موقع پر موجود پولیس اہلکاروں اور افسران نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے فائرنگ کرنے والے شخص کو گھیراؤ کر کے قابو کر لیا۔ گرفتار کیے گئے ملزم کی شناخت عمران ولد اکرم خان، ساکن چمتار کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ملزم کے قبضے سے فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور اسے فوری طور پر نامعلوم اور محفوظ مقام پر منتقل کر کے ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

اعلیٰ افسران کی آمد اور سیکیورٹی کا معائنہ

واقعے کے فوراً بعد ڈی پی او مردان مسعود احمد تمام سینئر افسران کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ انہوں نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور موجودہ سیکیورٹی انتظامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ڈی پی او نے دفتر کے داخلی و خارجی راستوں اور سائلین کی تلاشی کے عمل کا خود معائنہ کیا۔

واقعے کے فوری بعد درج ذیل اہم اقدامات اٹھائے گئے:

  • ملزم کی گرفتاری: مرکزی ملزم عمران ولد اکرم خان کو موقع سے اسلحہ سمیت حراست میں لیا گیا۔
  • اہلکاروں کی معطلی: ڈیوٹی پر مامور اور سیکیورٹی تلاشی میں لاپرواہی برتنے والے 3 پولیس اہلکاروں کو ڈی پی او نے موقع پر ہی معطل کر کے ان کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری کا حکم دیا۔
  • جائے وقوعہ کو سیل کرنا: ایس پی انویسٹی گیشن آفس کی عمارت اور متعلقہ حصے کو تحویل میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔
  • ہائی الرٹ: مردان پولیس کے تمام دفاتر اور سیکیورٹی چیک پوسٹوں پر چیکنگ سخت کرنے کی ہدایت کی گئی۔

غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف محکماتی ایکشن

حساس سرکاری و انتظامی دفاتر، بالخصوص جہاں تفتیشی امور انجام دیے جاتے ہیں، وہاں مسلح شخص کا داخل ہو جانا ایک انتہائی سنگین سیکیورٹی ناکامی تصور کیا جاتا ہے۔ ڈی پی او مردان مسعود احمد نے واضح کیا کہ قانون کی پاسداری سب سے پہلے پولیس فورس کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔

تین اہلکاروں کی سسپنشن کا مقصد فورس کے دیگر جائیدادوں اور دفاتر پر مامور اہلکاروں کو یہ پیغام دینا ہے کہ فرائض میں کسی بھی قسم کی کاہلی، سستی یا نرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ معطل کیے گئے اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو یہ طے کرے گی کہ ملزم اسلحہ سمیت دفتر کے اندر کیسے داخل ہونے میں کامیاب ہوا۔

پس منظر اور سیکیورٹی چیلنجز: تفتیشی دفاتر پر خطرات

ایس پی انویسٹی گیشن کا دفتر کسی بھی اضلاعی پولیس کا وہ مرکز ہوتا ہے جہاں قتل، ڈکیتی، زمین کے تنازعات، اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات کی چھان بین کی جاتی ہے۔ یہاں روزانہ کی بنیاد پر مدعی اور ملزم دونوں فریقین، وکلاء اور شاہدین پیش ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات فریقین کے درمیان ذاتی دشمنی، دیرینہ عناد یا جذباتیت کی وجہ سے شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ماضی میں بھی خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں عدالتوں یا تفتیشی مراکز کے باہر یا حدود میں فریقین کے اپس میں ٹکرانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کا بنیادی سبب دفاتر کے داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے درست استعمال کا نہ ہونا یا اہلکاروں کی عدم توجہی ہوتا ہے۔

اگرچہ اس واقعے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی تصدیق جاری تفتیش کی وجہ سے باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم ایک اعلیٰ پولیس دفتر کے اندر گولیوں کی آوازیں پورے انتظامی ڈھانچے کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ثبت کرتی ہیں۔

تفتیش کا دائرہ کار اور آئندہ کا لائحہ عمل

پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم عمران سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ:

  1. حملے کا مقصد: ملزم کا دفتر کے اندر فائرنگ کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟ آیا وہ کسی خاص شخصیت یا مخالف فریق کو نشانہ بنانا چاہتا تھا یا اس کا کوئی اور تنازع تھا؟
  2. کیس کا پس منظر: کیا ملزم عمران چمتار کا پہلے سے کوئی مقدمہ ایس پی انویسٹی گیشن کے پاس زیرِ التوا تھا یا وہ کسی زیرِ تفتیش کیس میں مدعی یا ملزم کے طور پر پیش ہوا تھا؟
  3. سیکیورٹی خامی: وہ کون سے راستے یا روزنامچے کا رخ کر کے اندر تک پہنچا اور اس میں کن کن افراد کی غفلت شامل تھی؟

ڈی پی او مردان کا کہنا ہے کہ قانونی عمل مکمل شفافیت اور میرٹ پر پورا کیا جائے گا اور ملزم کو سخت ترین قانونی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

پولیس دفاتر کی سیکیورٹی ری سٹرکچرنگ کی ضرورت

اس افسوسناک واقعے کے بعد مردان پولیس نے تمام متعلقہ تھانوں اور سب ڈویژنل دفاتر کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سائلین کی تلاشی کے لیے جدید میٹل ڈیٹیکٹرز کا استعمال لازمی قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی غیر متعلقہ يا مسلح شخص سرکاری عمارتوں میں داخل نہ ہو سکے۔

عوامی اور صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس دفاتر جہاں شہری انصاف کی امید لے کر آتے ہیں، وہاں کی سیکیورٹی فول پروف ہونا لازمی ہے۔ فوری طور پر افسران کی جانب سے اہلکاروں کو معطل کرنا ایک مثبت اقدام ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر ایسے میکانزم کی ضرورت ہے جہاں انسانی غلطی کی گنجائش کو کم سے کم کیا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025