Preloader
Women University students completed internship with police

اہم نکات:

  • تعلیمی و عملی پیش رفت: ویمن یونیورسٹی مردان کی شعبہ پولیٹیکل سائنس کی طالبات کے لیے ڈسٹرکٹ پولیس مردان کے زیرِ اہتمام 45 روزہ تربیتی انٹرن شپ پروگرام کا کامیا ب اختتام۔
  • پروقار تقریب: ڈی پی او آفس مردان میں تقسیمِ اسناد کی تقریب؛ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ، ڈی پی او مسعود احمد اور ایس پی انویسٹی گیشن ماریہ مصطفیٰ کی شرکت۔
  • نمایاں کارکردگی: طالبہ سونیہ نے پہلی، سمیہ نے دوسری اور اقرا نے تیسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ تمام شرکاء میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔
  • پولیس-عوام روابط: جنرل پولسنگ، وکٹم سپورٹ، ڈی آر سی اور جدید ٹیکنالوجی کے عملی مشاہدے سے پولیس اور تعلیمی اداروں کے درمیان فاصلے ختم کرنے کی اہم پیش رفت۔

مردان (خصوصی رپورٹ) خیبرپختونخوا میں پولیس اور تعلیمی اداروں کے مابین باہمی تعاون، تعلیمی تحقیق اور عملی تربیت کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس مردان کے زیرِ اہتمام ویمن یونیورسٹی مردان کی شعبہ پولیٹیکل سائنس (سیاسیات) کی طالبات کے لیے منعقدہ 45 روزہ تفصیلی انٹرن شپ پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ اس تربیتی کورس کی تکمیل کے سلسلے میں ڈی پی او آفس مردان میں ایک پروقار اور پرجلوس تقسیمِ اسناد کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

اس تقریب نے نہ صرف طالبات کی عملی صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پولیس کے محکمے میں شفافیت، جدید نظام اور کمیونٹی پولسنگ کے تصورات کو کس طرح نوجوان نسل خصوصاً طالبات کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

تقریب کے معزز مہمانان اور شرکاء

ڈی پی او آفس مردان میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں پولیس انتظامیہ اور تعلیمی شعبے کی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کی صدارت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مردان مسعود احمد اور ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے مشترکہ طور پر کی۔ دیگر اہم شرکاء میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں:

  • میڈم نیلوفر (ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس، ویمن یونیورسٹی مردان)
  • ماریہ مصطفیٰ (ایس پی انویسٹی گیشن، مردان)
  • ویمن یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کے فیکلٹی ممبران
  • انٹرن شپ میں حصہ لینے والی طالبات اور پولیس افسران

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد انٹرن شپ کی رپورٹ پیش کی گئی اور طالبات کو ان کی 45 دن کی شاندار کارکردگی پر سراہا گیا۔

45 روزہ انٹرن شپ: عملی مشاہدہ اور تربیتی شعبہ جات

اس 45 روزہ تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد پولیٹیکل سائنس کی طالبات کو نظریاتی تعلیم سے آگے بڑھا کر گورننس، قانون کی عملداری اور پولسنگ کے عملی نظام سے روشناس کرانا تھا۔ انٹرن شپ کے دوران طالبات کو پولیسنگ اور عدالتی نظام سے منسلک مختلف شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کرایا گیا اور متعلقہ افسران کی نگرانی میں تربیت فراہم کی گئی۔

طالبات نے درج ذیل اہم شعبہ جات کی کارکردگی اور تکنیکی امور کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا:

  1. پولیس سہولت مرکز: عام شہریوں کو کریکٹر سرٹیفکیٹ، کاپی رپورٹ اور دیگر خدمات کی فوری اور آسان فراہمی کا نظام۔
  2. سیف سٹی و کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر: شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے کیمروں کے ذریعے جدید ڈیجیٹل نگرانی۔
  3. شعبہ انویسٹی گیشن و آپریشنز: جرائم کی تفتیش، فارنزک شواہد کی جمع آوری اور فیلڈ آپریشنز کا طریقہ کار۔
  4. وکٹم سپورٹ (Victim Support): متوقع یا متاثرہ خواتین اور بچوں کو قانونی، نفسیاتی اور اخلاقی امداد کی فراہمی۔
  5. ڈی آر سی (Dispute Resolution Council): متبادل نظامِ انصاف کے تحت چوہدریوں، علماء اور معززین کے ذریعے عوامی تنازعات کا باہمی رضامندی سے حل۔
  6. پی ڈی آر ایم (PDRM) و ڈرائیونگ اسکول: پولیس ریکارڈ ڈائریکٹوریٹ مینجمنٹ اور روڈ سیفٹی وتربیتی امور۔
  7. تھانہ جات (Police Stations): روزنامچہ، ایف آئی آر کے اندراج اور تھانے کی سطح پر قانونی عملداری کا گراؤنڈ لیول جائزہ۔

نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات اور تقسیمِ اسناد

انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب کے دوران 45 دن کی سرگرمیوں، حاضری اور پراجیکٹ رپورٹس کی بنیاد پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

پوزیشنطالبہ کا ناممتعلقہ شعبہ / ادارہاعزاز / سند
پہلی پوزیشنسونیہپولیٹیکل سائنس، ویمن یونیورسٹی مردانممتاز کارکردگی شیلڈ و سند
دوسری پوزیشنسمیہپولیٹیکل سائنس، ویمن یونیورسٹی مردانتعریفی شیلڈ و سند
تیسری پوزیشناقراپولیٹیکل سائنس، ویمن یونیورسٹی مردانتعریفی شیلڈ و سند
دیگر شرکاءتمام طالباتپولیٹیکل سائنس، ویمن یونیورسٹی مردانانٹرن شپ تکمیل اسناد

وائس چانسلر اور ڈی پی او مردان نے پوزیشن ہولڈرز کو مبارکباد دیتے ہوئے ان میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں۔

تعلیمی قیادت کا ردِعمل: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ کا خطاب

ویمن یونیورسٹی مردان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے پولیس انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو خواتین کی بااختیاری اور علمی و عملی ترقی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:

“سیاسیات اور گورننس کی طالبات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عملی تجربہ انتہائی ضروری ہے۔ 45 دنوں کے اس پروگرام میں ہماری طالبات کو ‘جنرل پولسنگ’ اور ریاستی ڈھانچے کے عملی خد و خال کو قریب سے سمجھنے کا نادر موقع ملا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف طالبات کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ پولیس اور طلبہ کے درمیان پائے جانے والے روایتی فاصلے بھی ختم ہوتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری طالبات یہ تجربہ اپنی عملی زندگی اور علمی تحقیق میں لائیں گی۔”

پولیس قیادت کا عزم: ڈی پی او مردان مسعود احمد کا بیان

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) مردان مسعود احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انٹرن شپ مکمل کرنے والی طالبات کو سراہا اور کہا کہ نوجوان نسل بالخصوص طالبات کو پولیسنگ کا مثبت امیج دکھانا اور انہیں ریاستی اداروں کا محرم بنانا موجودہ دور کی ضرورت ہے۔

ڈی پی او مسعود احمد کا کہنا تھا:

“پولیس اب محض سزا دینے یا ڈرانے والا ادارہ نہیں رہا بلکہ یہ عوام کی خدمت اور وکٹم سپورٹ کا ضامن بن چکا ہے۔ ہم نے طالبات کو یہ دکھایا ہے کہ انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور ڈی آر سی کے ذریعے کس طرح انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس مردان کا یہ پختہ عزم ہے کہ مستقبل میں بھی مختلف جامعات کے طلبہ و طالبات کے لیے ایسے تعلیمی و تربیتی انٹرن شپ پروگرامز کا سلسلہ بلا تعطل جاری رکھا جائے گا تاکہ پولیس اور کمیونٹی کے تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے۔”

کمیونٹی پولسنگ اور پبلک سیکٹر پر اس کے اثرات

سماجی ماہرین اور تعلیمی حلقوں کے مطابق، ویمن یونیورسٹی مردان اور ڈسٹرکٹ پولیس کے درمیان یہ باہمی تعاون ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ خیبرپختونخوا کی ثقافتی اور روایتی اقدار کے پیشِ نظر خواتین کا پولیس اسٹیشنز، وکٹم سپورٹ ڈیسک اور تفتیشی امور کا خود جائزہ لینا ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔

اس نوعیت کے پرو گرامز سے درج ذیل مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں:

  • خواتین میں اعتماد: طالبات میں قانون اور اپنے حقوق سے متعلق آگاہی بڑھتی ہے۔
  • شفافیت پر اعتماد: پولیس کے جدید ڈیجیٹل سسٹم (سیف سٹی، PDRM) کے مشاہدے سے ادارے پر عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے۔
  • کیریئر کا انتخاب: پولیٹیکل سائنس اور لاء کی طالبات کے لیے پولیس سروس (PSP) یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بطور کیریئر منتخب کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔

تقریب کا اختتام گروپ فوٹو، وائس چانسلر کو پولیس کی جانب سے یادگاری شیلڈ کی پیش کش اور طالبات کے لیے پرکلف چائے کے ساتھ ہوا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025